Daily Mashriq

ذرا ہمری نگری میں آجا

ذرا ہمری نگری میں آجا

ایک سادہ لوح بڑھیا مالک کن فیکون کے حضور گڑگڑا کر عرض کررہی تھی کہ اے اللہ میں تیرے کپڑے دھونا چاہتی ہوں تیرے برتن مانجھوں گی جھاڑو پونچا کرونگی۔ بس تو مجھ سے راضی ہوجا۔ جب اس کے اس انداز التجاکی بھنک ایک متقی پرہیزگار پارسا کے کان میں پڑی تو وہ چیخ اٹھا کہ ’’یہ تو کیا کفر بک رہی ہے!‘‘ ذات باری تعالیٰ کوئی تجھ جیسی ہے جو تو اس کے برتن مانجھو گی، جھاڑو پونچا کرو گی۔ اللہ ان باتوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ اللہ جانے اس سادہ لوح خاتون کے ذہن میں اللہ کے اس نیک بندے کی بات سمائی یا نہیں۔ وہ بدعت بدعت کا شور کرتا رہا اور وہ خاتون اپنے سے انداز میں سائیں کو منانے میں مگن رہی۔ لگتا ہے کہ اس سادہ لوح خاتون کی طرح میرے شہر پشاور کے ماضی بعید کا ہر باسی بھی اس جیسی سوچ کا مالک تھا۔ پشاور کے پرانے لوگ اسلامی کیلنڈر کے پہلے مہینے محرالحرام کو ’عاشوریاں دا مہینہ ‘کہتے انہوںنے اسلامی کیلنڈر کے دوسرے مہینے صفرالمظفر کا نام ’تیراں تیزی ‘ رکھا ہوا تھا۔ اور وہ ماہ مقدس ربیع الاول کو بارہ وفات کا مہینہ کہہ کر پکارتے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نہ صرف شہر پشاور کے باسی اس مہینے کو ’بارہ وفات‘ کے نام سے یاد کرتے تھے بلکہ پورے برصغیر میں ربیع الاول کا یہ ماہ مقدس بارہ وفات ہی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ عجیب سا لفظ ہے یہ ’بارہ وفات ‘کا ، جیسے بارہ فوتگیاں ہوئی ہوں اس مہینے کے دوران۔ اس سادہ لوح خاتون کی دعا مانگنے کے انداز کو تنقید کا نشانہ بنانے والے متقی پرہیز گار نے تو سادہ لوح بڑھیا کی غلطی پکڑ لی ، لیکن ماہ مقدس ربیع الاول کو بارہ وفات کا نام دینے والوں کی جانب کسی نے بھی اعتراض کی انگلی نہ اٹھائی اور ہمارے شہر کے بیتے دنوں کی یہ روش آج بھی سادہ لوح شہریوں کا عقیدہ نما بن کر، ان کے دل اور دماغ کے نہاں خانوں میں چپک کر رہ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ جسے تم ربیع الاول کے نام سے یاد کرتے ہو اسے ہم ’بارہ وفات ‘اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے ابتدائی بارہ دنوں کے دوران ہمارے آقا ﷺ عالم فراش میں تھے۔ یعنی آپ بیمار تھے اور ان کا وصال اس مہینے کے ان ہی بارہ دنوں کے دوران ہوا۔ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا مولود پاک بھی بارہ ربیع الاول کو ہوا اور آپ اس جہان فانی سے وصال بھی اس مہینے کے اولین بارہ دنوں میں فرماگئے۔ ارے خدا کے سادہ لوح بندو! کس نے پڑھائی تھی آپ کو یہ پٹی، اور کیونکر پہنچی نسل در نسل سفر کرتی یہ لوک روایت ہم سب تک۔ تھا اک خیال خام جو پیوست ہوکر رہ گیا۔ ہمارے ان پڑھ معاشرے کے پروردوں کے ذہن و شعور میں جس کوبڑے پیار اور محبت سے کھرچ ڈالنے کے جذبوں کے علم اٹھا کرسادات پشاور میدان عمل میں اترے، جانے کب سے وہ میلاد پاک کی محفلیں برپا کرکے سادہ لوح شہریوں کے دلوںمیں ربیع الاول کے اس مہینے کے دوران مولود رسول محترم ﷺ کی خوشیاں بورہے تھے۔ میں بچہ تھا ان دنوں جب گیلانی چوک یکہ توت پشاو میں قبلہ مولوی جی سرکار علیہ رحمت کے آستانہ عالیہ سے بر آمد ہونے والے جشن عید میلاد کے جلوس میں شرکت کرنے کا شوق مجھے کھینچ کر وہاں لے جاتا ۔ خانوادہ مولوی جی سرکار کو ان کے آستانہ عالیہ کی یکہ توت بازار کی جانب کھلنے والی کھڑکیوں کی مناسبت سے انہیں’باری والے سید‘ کہہ کر پکارا جاتا۔ وہ جو کسی نے کہاہے گلاب کو جس نام سے یاد کیا جائے وہ گلاب ہی رہتا ہے۔ ہم نے کتنا اکتساب فیض کیا ان ’باری والے سیدوں ‘کی دہلیز سے۔ اگر لکھنے بیٹھ جاؤں تو دفتروں کے دفتر لکھے جائیں ۔ ربیع الاول کے بارہ دنوں کے دوران باری والے سیدوں کے ہاں سے برآمد ہونے والے جلوسوں میں پڑھی جانے والی بہت سی نعتوں کے بول آج بھی لاشعور کے کونوں کھدروں میں یوں گونجتے سنائی دیتے ہیں جیسے ان کو آج ہی سن کر از بر کر لیا ہو۔ان جلسوں اور جلوسوں کا مقصد ربیع الاول کو بارہ وفات کہنے والوں کو یہ بتانا تھا کہ یہ دکھ غم اور سوگ کے نہیں جشن آمد رسول ﷺ منانے کے دن ہیں۔ ان دنوں ہمیں عیدوں کی عید ، عید میلادالنبی ﷺمنانی ہے۔ پشاور کے باسیوں کے دلوں میں ختم الرسل آقائے نامدار محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی سچی محبت اور عقیدت کی جوت جگانے والے یہ جلوس یکہ توت چوک سے برآمد ہونے کے بعد دلہن بنے شہر کی مختلف گلیوں اور بازاروں سے ہوتے ہوئے منڈی بیری چوک میں آکر اختتام پذیر ہو تے۔جہاں درود وسلام کی محفل برپا ہوتی اور اجتماعی دعا کی جاتی۔ اور پھر یوں ہوا کہ پشاور میں ادارہ تبلیغ الاسلام کے تنظیم کار آگے بڑھے اور انہوں نے حضرت مولوی سرکار کے مریدوں کے ہاتھوں سے عید میلاد النبی ﷺکے پھریرے تھام لئے۔ ربیع الاول کے ابتدائی بارہ دنوں کے دوران پشاور شہر کے چوکوں اور چوراہوں کو رنگ و نور کی برسات سے نور علیٰ نور بنا کر جلسوں کی روایت کو بڑی کامیابی اور باقاعدگی سے عہد حاضر تک وفا کرتے رہنا ادارہ تبلیغ الاسلام کا طرہ امتیاز ہے۔ادارہ تبلیغ الاسلام کے بانی مبانی آغہ سید ظفر علی شاہ کے نام نامی کے ساتھ مرحوم کا لفظ لکھنے کی جسارت ممکن نہیں، ان کی قیادت میں بارہ ربیع الاول کو سرو چراغاں بنی پشاورشہر کی گلیوں اورشاہراہوں سے گزرنے والے جلوس کا آسماں ہر سال نظارہ کرتا ہے ۔جو کل کی طرح آج بھی پشاوریوں کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر پڑھو لاالہ الاللہ، سانوں دسیا نبی پیارے نے ، اس کلمے نے بیڑے تارے نے۔ کالی کملی والیآ، سونڑے مکھڑے والیآ۔ نوری گنبد والیآ، کالی کملی والیآ۔ اور ہا ں ہاں سنئے آسماں آج بھی گنگنا رہا ہے اردو، ہندکو اور ہندی کا یہ نایاب نعتیہ ملمع ۔ 

ذرا ہمری نگری میں آجا، نگری بسانے والے
ساڈی قبر اتے شمع جلا جا، شمع کے جلانے والے

اداریہ