Daily Mashriq

بلوچستان مسئلے کا دیرپا حل

بلوچستان مسئلے کا دیرپا حل

خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والا سیالکوٹ کا رہائشی حیدر علی ان نوجوانوں میں سے ایک ہے جنہیں چند روز قبل بلوچستان میں اندھا دھند فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔ ان بدقسمت نوجوانوں کو انسانی سمگلروں نے جھانسہ دیا تھا کہ انہیں بلوچستان ‘ ایران اور ترکی کے راستے سے یورپ بھیجا جائے گا جہاں پہنچتے ہی ان کے سارے قرضے اُتر جائیں گے۔ یورپ جاتے ہی انہیں روز گار مل جائے گا،الدین کا علاج اور نہ جانے کیا کیا مجبوریاں تھیں ۔ لیکن ان نوجوانوں کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یورپ پہنچنے سے بہت پہلے ہی ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں غیر قانونی داخل ہونے کی کیا سزا ہے، اور یہ کہ آج کل کسی بھی ملک کا بارڈر کراس کرنا انتہائی مشکل ہے۔ انہیں اگر بتایا گیا تھا صرف اتنا کہ تمہیں تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی ہو گی اور پھر تم یورپ کے شہری کہلواؤ گے کیونکہ اگر انہیں راستے کی ساری تکالیف بتا دی جاتیں ‘ بالخصوص یہ کہ اس راستے پر چلنے سے تمہاری موت بھی واقع ہو سکتی ہے تو وہ کبھی بھی اس راستے کو اختیار نہ کرتے۔ کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ عزیز اپنی زندگی ہوتی ہے۔زندہ بچ جانے والے حیدر علی نے بتایا کہ اسے چند نوجوانوں کے ساتھ گاڑی کی چھت پر بٹھا کر لے جا یا جا رہا تھا لیکن ان کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ ہم رکے ہی تھے کہ آگے والی گاڑی میں بیٹھے نوجوانوں پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہم نے بوکھلاہٹ میں بھاگنا شروع کر دیا ‘ ہمیں یہ بھی اندازہ نہ تھا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں،پہاڑوں اور جنگلات کا رات بھر سفر کرنے کے بعد ایک کھوکھے پر پہنچے اور اپنی حالت زار بتاکر مددچاہی،یوں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی قدرت سے محفوظ رکھا۔ حیدر علی نے انکشاف کیا کہ اس کے ساتھ بھاگنے والے 13نوجوان اور بھی تھے جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ اس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایجنٹس سے جب رابطہ ہوا تو میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس صرف 2ہزار روپے ہیں تو ایجنٹس نے کہا کہ تم آ جاؤ پیسوں کا بندوبست بھی کر لیں گے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ ان کے بھیانک منصوبے بھی تھے جس سے نوجوان بے خبر تھے یعنی ایک طے شدہ منصوبے کے تحت پنجاب سے نوجوانوں کو روزگار اور یورپ بھجوانے کے نام پر بلوا کر قتل کیاجانا تھا۔ اس میں دوسری لمحہ فکر بات یہ ہے کہ جن نوجوانوں کو بلوچستان بلایا گیا تھا ان کی عمریں 16سے 19سال کے درمیان تھیں۔شدت پسند تنظیم بی ایل ا یف نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے ‘ جس میں پنجاب سے مخاصمت کو واضح کیاگیا ہے اور ان کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پنجاب‘ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر قابض ہو رہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام اور شدت پسند عناصر میں بالخصوص یہ تاثر ایک طویل عرصے سے پایا جاتا ہے ، حالانکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ زیادہ دور اگر نہ بھی جائیں تو گزشتہ 20سالوں کے دوران وفاقی اور صوبائی سیٹ اپ میں بلوچستان کے قائدین اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف ‘ پیپلز پارٹی اور اب میاں نواز شریف کے دور میں بلوچستان کے سیاسی قائدین نہ صرف یہ کہ بلوچستان کے عوام کے حق کے لیے آواز اُٹھاتے رہے بلکہ عملی طور پر صوبائی حکومت بھی انہی کے پاس رہی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پنجاب ان کے ساتھ زیادتی کیسے کر رہا ہے؟ بلوچستان کے عوام اگر آج بھی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں تو اس کی ذمہ دار بلوچستان کی سیاسی قیادت ہے نہ کہ پنجاب۔ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں مزدوروں کو قتل کیے جانے کا واقعہ پہلا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد بار بلکہ ہر کچھ عرصہ کے بعد سرائیکی اور پنجابی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا رہاہے ۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے ۔ مستقل اس لیے کہ وقتی آپریشن اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کے شرپسند عناصر کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ پنجاب‘ سندھ یا خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بھی تمہارے ہم وطن ہیں، وہ بھی ان کی طرح بیسیوں مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں لیکن کبھی ایسا واقعہ سامنے نہیں آتا کہ پنجاب میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ہو۔ راولپنڈی‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی اور تمام بڑے شہروں میں ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں اور بڑے بزنس کر رہے ہیں ۔ لیکن لسانی بنیاد پر کسی کو قتل کیے جانے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ کا یہ امتحان ہے کہ وہ ناراض بلوچوں کو کیسے قومی دھارے میں لاتے ہیں کیونکہ جب تک انہیں اعتماد میں لے کر قومی دھارے میں نہ لایا گیا مسئلے کا مستقل حل نہ ہو پائے گا۔

اداریہ