Daily Mashriq

اسلامی نظام اقتصادیات

اسلامی نظام اقتصادیات

غربت سے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فر ماتے ہیں اگر غُربت کوئی مجسم ہو تا تو یقیناً میں اسکو قتل کر دیتا ۔سیدہ فا طمتہ لزہرہؓ فر ماتی ہیں جب کوئی بھوکا دیکھو تو یہ مت سمجھ لینا ، کہ خدا کے رزق میں کمی ہے، بلکہ سمجھ لینا کہ کسی ظالم نے اُسکا رزق چھین لیا ہے۔ فا تح فلسطین سلطان صلا ح الدین ایوبی فرماتے ہیں جہاں روٹی مز دور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں عورت کی عزت اور مر د کی غیرت۔ اگر دیکھا جائے تو آج کل دنیا میں اور با لخصوص غریب ممالک میں جو اقتصادی مسائل ہیں ،جس میں بے روز گاری ، مہنگائی اورمعاشی عدم استحکام شامل ہے، سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔ سر مایہ دارانہ نظام کی خرابیوں میں دولت کا چند ہا تھوں میںارتکاز یعنی اکٹھا ہونا،ہوس، لالچ، غریب اور امیر کے درمیان بے انتہا فرق ، ما دہ پرستی،بے روز گاری میں اضا فہ، تجارت اور عام کاروبار میںحد سے زیادہ سود اور سودی نظام بروئے کار لانا، قومی اداروں کی نجکاری ، گلوبلائزیشن ، ذخیرہ اندوزی، سٹہ بازی، انشورنس ، تجا رت میں مڈل مین کا منفی کر دار اور بیٹھے بٹھائے فا ئدہ اُٹھانا، انسانی کمزو ریوں سے فا ئدہ اُٹھا کر دولت کمانا،بے راہروی، شراب نو شی، فضول خرچی ، اخلاقی حدود اور قیود سے نکل کر دولت کمانا، مزدور کو مناسب اُجرت اور اُس اُجرت کو وقت پر نہ دینا، غیر منصفانہ نظام اقتصادیات اور اسکے علاوہ ایسے بے شمار نُقصانات ہیں جو انسانوں کے بنائے ہوئے سر مایہ دارانہ نظام کا نتیجہ ہیں۔ ایک مشہورماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار کا مطمح نظر صرف دولت کمانا ہو تا ہے بلکہ اس دولت کا تقسیم کرنا نہیں ہوتا ۔ سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے کیا خوب کہا کہ قر ضوں اور سودی نظام کو اگر جا ری رکھا گیا تو ریاست ساہو کاروں کے قبضے میں آجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج کل دنیا کی 55 فی صداقتصادیات پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہے اور وہ دنیاوی سیاست کو اپنے فائدے اور لالچ کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ اسکے بر عکس اسلامی معاشی اور اقتصادی نظام کی اساس انسان کے انفرادی تقویٰ،انصاف اور برابری پر ہے ۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مطابق متوازن معیشت کے بنیادی ارکان چار ہیں 1 (آزاد معیشت کا چند قانونی اور انتظامی حدود و قیود کے اندرہونا 2)۔ زکواۃ کی فر ضیت۔ 3 (قانون میراث۔ 4 (سود کی حرمت۔علاوہ ازیں اسلامی طرز اقتصادیات اور معیشت کی بنیاد اللہ کے خوف و تقویٰ، سا دگی، مساکین و غربائ، ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، فضول خرچی سے اجتناب، دولت جمع کرنے کی سختی سے ممانعت، عیش پر ستی سے اجتناب،احسن طریقے سے خرچ کرنا،بُخل سے اجتناب، نیک کاموں میں خرچ کرنا، سود کی سختی سے ممانعت، زکواۃ اور صدقات دینے کا حکم،اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو قرض حسنہ دینے کا حکم اور اگر ہوسکے تو معاف کرنا،یتیم اور قیدیوں کو کھانا کھلانا اور ان کی مدد کرنا، حلال حرام میں تمیزاور اسکے علاوہ ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو اسلامی اقتصادیات اور معیشت کی اساس ہیں۔ اسلامی نظام تمدن میں اصل اہمیت فر د کی ہے نہ کہ جماعت یا قوم یا معا شرے کی، فرد جماعت کے لئے نہیں ہے بلکہ جماعت فر د کے لئے ہے۔ خدا کے سامنے جماعت یا قوم یا معاشرہ اپنی مجمو عی حیثیت میں جواب دہ یا ذمہ دار نہیں بلکہ ایک ایک شخص فرداً فرداً اپنی ذاتی حیثیت میں ذمہ دار و جواب دہ ہے۔ا ور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اجتماعیت کے ساتھ ساتھ ا نفرادی طو ر پرتقویٰ اور خوف خدا کی سختی سے تاکید کی ہے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہو گا وہ کبھی بھی بنی نو ع انسان کا فا ئدہ نہیں سوچے گا بلکہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اپنانفع نُقصان سوچے گا۔ جو ممکن نہیں ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں سالانہ ٹریلین روپے بد عنوانی اور کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں ۔اگر ایک مسلمان کو خوف خدا ہو ، اور وہ یہ سوچے کہ اللہ ہے اور میں نے اس دنیا سے کو چ کرنا ہے تو میرے خیال میںاُس سے گناہ صغیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر گناہ کبیرہ کے سر زد ہونے سے پہلے وہ لاکھ مر تبہ سوچے گا۔ اگر ہم عبادات کے فلسفے کو دیکھیں تو اسلامی عبادات کے فلسفے کا بنیادی محور اور مقصد انسانوں کو برائیوں سے روکنا اور ریاست کا اچھے، کا ر آمد اور فلاحی شہری بنانا ہو تا ہے۔ علاوہ ازیں اسلام تمام دنیاوی معاملات جس میں معیشت اور اقتصا دیا ت بھی شامل ہے انصاف، عدل اور برابری پر زور دیتا ہے۔سورۃ النساء میں ارشاد خداوندی ہے: اے ایمان والو عدل اور انصاف پر سختی سے کار بند رہو۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے مگر انصاف کے بغیر نہیں چل سکتی۔اگر ہم روز مرہ زندگی میں دیکھیں تو اس وقت تک ایک معاشرہ اقتصادی اور نہ معاشی طو ر پر خوش حال ہو سکتا ہے جس میں معاشی اور اقتصادی انصاف نہ ہو ۔ اگر مو جودہ وقت میں دیکھا جائے تو سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد بے انصافی اور غیر مساویانہ سلوک اور پالیسی پر ہے۔ہم موجودہ دور میں دیکھتے ہیں کہ مختلف ممالک کے جی ڈی پی، جی این پی اور فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر اسکے بر عکس غُربت میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے، بلکہ اس میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ وہ دولت عام لوگوں میں تقسیم کے بجائے چند ہاتھوں میں مُرتکز ہو تی جا رہی ہے۔ جب تک ہم اچھے مسلمان اور انصاف کر نے والے نہیں بنیں گے اُس وقت تک معا شی بد حالی ختم نہیں ہو سکتی۔

اداریہ