مشرقیات

مشرقیات

سیدنا ابوموسیؓ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور ان سے فرمایا: جائو میرے لئے ایک گہری قبر کھودو۔‘‘
بیٹے نے قبر کھود ڈالی۔
کہنے لگے: ’’ مجھے بٹھا دو۔ خدا کی قسم! یہ دو منزلوں میں سے ایک منزل ہے۔ یا تو میری قبر ہر طرف سے چالیس چالیس ہاتھ کھلی کردی جائے گی‘ میرے لئے جنت کے د روازوں میں سے ایک دروازہ کھولا جائے گا۔ میں جنت میں اپنے گھر‘ اپنی بیویوں اور جو نعمتیں رب تعالیٰ نے میرے لئے تیار رکھی ہیں ان کو دیکھوں گا جس طرح میں آج دنیا کے گھر کے راستے جانتا ہوں اس سے زیادہ جنت کے گھر کے راستے جاننے والا بن جائوں گا‘ پھر مجھے جنت کی خوشبو آنے لگے گی حتیٰ کہ میں دوبارہ اٹھایا جائوں گا۔
اگر میرا معاملہ دوسری منزل کا ہوا تو میری قبر اس قدر تنگ کردی جائے گی کہ میری پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی بلکہ قبر اس سے بھی زیادہ تنگ کردی جائے گی ‘ پھر میرے لئے جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا جائے گا۔ میں اس میں اپنا وہ ٹھکانا جو خدا نے وہاں میرے لئے تیار کر رکھا ہے دیکھوں گا‘ وہاں زنجیروں‘ طوقوں اور گنجے سانپوں کی بھیڑ بھی دکھائی دے گی۔ پھر میں دوزخ میں اپنے ٹھکانے کو آج اپنے دنیاوی گھر کو جاننے کی سبب زیادہ جاننے والا بن جائوں گا۔ وہاں مجھے پیپ اور گرم پانی دیا جائے گا‘ حتیٰ کہ میں میدان حشر میں اٹھایا جائوں گا‘‘۔ پھر وہ رونے لگے۔
سیدنا عبادہ بن صامتؓ کا وقت وفات آیا تو کہنے لگے: میری چار پائی صحن میں لے جائو۔ پھر کہنے لگے: میرے گھر والوں اور ہمسایوں کو بلا لائو۔ وہ سب جمع ہوگئے تو فرمایا: لگتا ہے کہ آج کاد ن میرے لئے دنیا کا آخری اور آخرت کا پہلا دن ہے۔ شاید میرے ہاتھ اور میری ز بان سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہو۔ قیامت کے دن اس کا قصاص لیا جائے گا۔ میں تم میں سے ہر ایک سے قسمیہ کہتا ہوں‘ کسی کے دل میں ایسی کوئی بات ہو تو میری روح قبض ہونے سے پہلے وہ مجھ سے قصاص لے لے۔ بچوں نے کہا کہ آپ ہمارے والد ہیں اور پڑوسیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دوست ہیں۔ بھلا قصاص کا کیا ذکر۔ کہنے لگے: اچھا کیا تم نے مجھے معاف کردیا ہے؟‘‘ حاضرین بولے: ’’ جی ہاں‘‘ پھر انہوں نے ہاتھ پھیلا دئیے اور کہا: ’’خدا تو گواہ ہوجا۔‘‘ پھر بولے: ’’ میری وصیت یاد رکھو۔ میں برا محسوس کرتا ہوں کہ تم میں کوئی مجھ پر روئے‘ جب میری روح پرواز کرجائے تو اچھی طرح وضو کرنا اور پھر تم میں سے ہر فرد مسجد جائے‘ نماز پڑھے اور پھر اپنے لئے اور میرے لئے دعا مانگے۔ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے:
ترجمہ: اورتم صبر اور نماز کے ذریعے سے خدا کی مدد طلب کرو اور بے شک یہ بہت بھاری ہے‘ مگر عاجزی کرنے والوں پر( بھاری نہیں ہے)۔‘‘
(درس ڈاکٹر عبدالرحمن العریفی)

اداریہ