Daily Mashriq

تحریک انصاف کے بیانیہ میں تبدیلی!!

تحریک انصاف کے بیانیہ میں تبدیلی!!

سابق وزیراعظم نوازشریف کو شدید علالت کے باعث بیرون ملک جانے کی اجازت کا بینہ کی طرف سے دینے کے چیف جسٹس کے بیان کے بعد جے یو آئی(ف) کی قیادت کی طرف سے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے کہا گیا ہے کہ ان کو آزادی مارچ کے دوران سینیٹ کے چیئرمین کا عہدہ،خیبرپختونخوا کے گورنر کا عہدہ اور مولانا فضل الرحمن کو قومی اسمبلی میں لانے کی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے ٹھکرادیا مولانا فضل الرحمن کے بیان کی تردید ووضاحت کی گنجائش ہے لیکن چیف جسٹس کا بیان حتمی ہے جس کی وضاحت وتردید کی گنجائش نہیں خود حکومت نے بھی اس پر چپ سادھ لی ہے چونکہ مولانا فضل الرحمن کے بیان کی تصدیق وتردید کی گنجائش ہے اس لئے ان کے دعوے کو پچاس فیصد ہی درست قرار دینے کی گنجائش ہے لیکن اگر مروج سیاسی مذاکرات اور سیاسی سودے بازیوں کی روایات اور ماضی کا جائزہ لیا جائے تو مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ کوئی انوکھا نہیں اور نہ ہی حکومتی پیشکش کوئی انوکھی بات ہے علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن کے نہ ایسے گئے اور نہ ایسے ہی آئے کے بیان کی روشنی میں کوئی نہ کوئی ممکنہ ڈیل ہونے اور اس کے سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے اس ساری صورتحال میں تحریک انصاف کی قیادت کے ڈیل سے قطعی انکار کے باوجود ڈیل پرمجبور ہونے ڈیل یا ڈھیل دینے کے تاثرات میں اضافہ بلاوجہ نہیں اگر دیکھا جائے توتحریک انصاف کی قیادت میں اس کے کارکن ایک ایسے قائد کو آئیڈیل بنائے ہوئے تھے یا ہیں جو کسی حال میں بھی مفاہمت ،ڈیل یا ڈھیل ،مصلحت پسندی،دبائو جیسی صورتحال اور حالات میں اپنے موقف پر سختی سے کھڑا رہنے کیلئے خود کو پر عزم ظاہر کرتا رہا ہے پی ٹی آئی کی قیادت اگر چہ قبل ان انتخابات الیکٹبلز کو پارٹی میں شامل کر کے اقتدار کی روایتی سیاست اختیار کر چکی تھی لیکن تحریک انصاف کے کارکنوں کیلئے اس حد تک کی مصلحت پسندی طوعاًوکرھاًسہی اور قابل قبول تھی البتہ حالیہ دنوں میں جس مصلحت پسندی اختیار کرنے پر پی ٹی آئی کی قیادت مجبور ہوئی اس کا بآسانی دفاع اولاً ممکن نہیں دوم یہ کہ اتنے عرصے میں جو بہت سا پانی پلوں کے نیچے بہہ چکا ہے اس کے نظارے ومحسوسات نے تحریک انصاف کے جذباتی کارکنوں کے جذبات پر بڑی حد تک شبنم افشانی کی ہے یہی وجہ ہے کہ حالیہ فیصلوں اور ہوائوں کے رخ کی تبدیلی تحریک انصاف کی صفوں کے کارکنوں کی سوچ میں تبدیلی کا باعث ثابت ہونا عجب نہیں۔الیکشن کمیشن میں پارٹی فنڈز کیس اس حوالے سے اور سٹیٹ بینک کی رپورٹ بھی بڑی حد تک اذہان وقلوب میں تبدیلی اور سوالات کا باعث ہے اس ساری صورتحال میں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کو اپنی جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے موازنے میں قدرمشترک کی صورتحال پر توجہ اور کارکنوں کی سوچ وجذبات میں تبدیلی کوروکنے کیلئے تحریک انصاف کی قیادت کو خصوصی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تحریک انصاف کو اس ضمن میں جماعت اسلامی کے انجام سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے جماعت اسلامی جب تک اقتدار سے بے نیاز نظریاتی جماعت رہی اس کے کارکنوں میں جوش وولولہ باقی رہا لیکن جب اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہوئی تو پلٹ کر نہ آسکی اور عوام نے ان کو دوبارہ ایوان بھیجنے کے قابل نہ جانا اس کے کارکنوں میں مایوسی کی لہر ایسی درآئی کہ اب ان کے جذبات ونظریات پراوس پڑ چکی ہے تحریک انصاف کی قیادت اگر پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا یقین نہ دلاسکی اوراپنے جذباتی کارکنوں کے جذبات پر سردہوائوں کی لہر گزرنے دیتی ہے تو آئندہ انتخابات خواہ وہ قبل ازوقت ہوتے ہیں یا مقررہ وقت پر ان کو مایوس اور قیادت سے شاکی کارکنوں سے واسطہ پڑے گا جن کیلئے جغادری سیاسی جماعتوں اور ان کے تربیت یافتہ وتجربہ کار کارکنوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔تحریک انصاف کی قیادت کو اب حکومت سنبھالنے مہنگائی کو کم کرنے عوامی مسائل میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں کے مورال کو برقرار رکھنے پر بھی توجہ دینی چاہیئے تحریک انصاف کے کارکنوں سے رابطہ مضبوط بنانے ان کی رائے کو وقعت واہمیت دینے اور اپنے بنیادی موقف سے زیادہ روگردانی نہ کرنا ہی پی ٹی آئی کی قیادت کے سیاسی مفاد میں ہے بطور جماعت تحریک انصاف اور اس کی حکومت کی اب آزمائش شروع ہو چکی ہے اس آزمائش سے کندن بنکر نکلنے کے بعد ہی پی ٹی آئی منظم جماعت کہلائی جا سکے گی اس آزمائش میں ناکامی کی قیمت بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔

حزب اختلاف کی شکایات کا ازالہ ہونا چاہیئے

ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف امور خاص طور پر پسماندہ علاقوں کی ترقی اور اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے مذاکرات میں صوبائی وزراء کا اپوزیشن کے حلقوں کو ترقیاتی فنڈز دینے پر اصولی اتفاق اس لئے عجیب بات ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین ایک ایسے مسئلے پر مذاکرات کررہے ہیں جس میں ان کے مطالبے کو تسلیم کرنا اس امر کا عملی اعتراف ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے اراکین کے حلقوں سے امتیازی سلوک برتتی رہی اور ان کے حلقوں کو مساوی بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی نہیں ہوتی عوام بجا طور پر حکمرانوں اور اپنے منتخب نمائندوں سے اپنے مسائل کے حل اور اس کیلئے منصفانہ بنیادوں پر وسائل کی فراہمی کی توقع رکھتے ہیں اگر ان کے نمائندوں کو موجودہ دور حکومت میں مساوی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے فنڈز ہی جاری نہ کئے جائیں اور منتخب اراکین اسمبلی کو احتجاج کرنا پڑے اور دھرنا دینا پڑے تو عوام کے مسائل کے حل کی نوبت کب آئے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاملات سڑکوں پر احتجاج اور دھرنا کی صورت میں آنا خود صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کے منصفانہ کردار کے حوالے سے سوالات کا باعث بن رہا ہے لہٰذا بہتر ہوگا کہ جتنا جلد حزب اختلاف کے ممبران کو عملی طور پر ان کے حلقوں کیلئے قابل قبول فنڈز کا اجراء کیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں