Daily Mashriq

 پارکنگ میں محروم افراد کو رات بسر کرنے کا موقع دیا جائے

پارکنگ میں محروم افراد کو رات بسر کرنے کا موقع دیا جائے

گوکہ ابھی موسم سرما پوری شدت سے شروع نہیں ہوا لیکن بارشوں کے نئے سلسلے کے بعد سردی میں اس قدراضافہ ضرور متوقع ہے کہ یہ کمزور اعصاب کے حامل افراد کیلئے ناقابل برداشت ہوجائے۔جن لوگوںکو چھت اور گرم بستر میسر ہیں وہ تو اس کامقابلہ کر پائیں گے لیکن جو محنت کش اور چھتوں سے محروم افراد ہیں ان کیلئے جاری سردی بھی عذاب سے کم نہیں دنیا میں اس قسم کے افراد کیلئے اب کارپارکنگ اور مسجدوں کے ساتھ احاطوں میں موجود کمروں میں رات گزارنے کا عمل شروع ہو چکا ہے وطن عزیز میں غربت میں اضافے اور مہنگائی کی شدت کے باعث محروم قسم کے افراد کیلئے اس قسم کے انتظامات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے خیبرپختونخوا میں سرکاری طور پر موجود بندوبست ناکافی ہے اور سرکاری طور پر اس مسئلے سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور معاشرے کے خیر خواہ و مخیر افراد کو رات کو خالی رہنے والے پارکنگ ایریاز اور جہاں مساجد کے ساتھ کمروں کی گنجائش ہو وہاں پر چھت سے محروم افراد کے رات گزارنے کا انتظام کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے صوبائی حکومت کو بھی دنیا میں ہونے والے ان تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے اگر سڑکوں پر دن رات سب سے قابل رحم اور اپنی جان کے خود دشمن افراد کا تعین کیا جائے تو وہ نشے کے عادی افراد دکھائی دیں گے۔ہر موسم سرما میں جگہ جگہ سردی سے ٹھٹھر کر ہیروئن کے عادی افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعات کوئی پوشیدہ امر نہیں ہمارے روزمرہ کا مشاہدہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہیروئن کے عادی افراد ہمارے معاشرے کے وہ محروم افراد ہیں جن پر معاشرے اور حکومت کی توجہ تو ثانوی بات ان کو خود اپنے آپ کی فکر نہیں۔ حکومت نہ تو ان افراد کے علاج معالجہ اور بحالی پر توجہ دیتی ہے اور نہ ہی ان کو پبلک مقامات پر سرعام ہیروئن پینے سے معاشرے میں اس طرف مزید افراد کے راغب ہونے کی روک تھام کی فکر کرتی ہے ۔اگر یہ لوگ ناقابل علاج اور ناقابل اصلاح ہی ٹھہر تے ہیں تب بھی ازراہ انسانیت ان کو کسی جگہ ٹھہرانے اور دووقت کی روٹی دینے کا بندوبست ہی کیا جائے تا کہ و ہ رات کے کسی پہر ٹھٹھر کرمرنے سے تو بچ جائیں ۔

شادی ہالز اور پارکنگ کے مسائل

پشاور میں گلی گلی کھلنے والے شادی ہالوں کی بھر مار کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ ان شادی ہالوں میں رات گئے تک گانوں کی آوازیں آنے اور شور و غل کے باعث قرب و جوار کے رہائشی مکینوں کی پریشانی اچنبھے کی بات نہیں جس کے باعث طالب علموں کو پڑھائی پر دھیان دینے میں دشواری ہوتی ہے۔ مریض آرام نہیں کر پاتے۔ شادی میں شرکت کرنے والے حضرات اپنی گاڑیاں سڑک پر اس طرح کھڑی کرتے ہیں کہ گزرنے کا راستہ نہیں رہتا اور اس سے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ شادی ہال رہائشی علاقوں میں ہونے کے بجائے کمرشل علاقوں میں قائم کئے جاتے۔جہاں پارکنگ کی باقاعدہ سہولت ہوتی اور شادی ہالوں کے قیام کی اجازت ہی پارکنگ ایریا دیکھ کر دی جاتی مگر یہاں بلا سوچے سمجھے اورکسی اجازت نامے کے بغیر جگہ جگہ شادی ہال قائم کردئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہر کا حلیہ ہی بگڑ چکا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ ایسی پالیسی اور قوانین بنائے کہ شادی ہالز عوام کے لئے سہولت کا باعث بن جائیں زحمت اور تکلیف کا باعث نہ ہوں۔ شادی ہالز کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کئے جائیں اور مقررہ وقت پر پروگرام ختم کرنے کی پابندی کرائی جائے۔ٹریفک وارڈنز کو ہدایت کی جائے کہ وہ غیر قانونی شادی ہالوں کے ارد گرد کی سڑکوں کو پارکنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں اور اس عمل کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں