Daily Mashriq

جرم ضعیفی کی سزا

جرم ضعیفی کی سزا

مسلمان جہاں کہیں بھی تعداد میں کم یا مالی اعتبار سے کمزور ہیں وہ بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں،کئی ایک ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے،کئی ایک ممالک میں مسلمان حاکم ہونے کے باوجود وہاں عالمی طاقتوں کی اجارہ داری اور تسلط قائم ہے،فلسطین کے بے بس مسلمان بھی اپنے ہی ملک میں قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ عالمی استعمار نے اسرائیل کی ناجائز صہیونی ریاست کو جس طرح وجود بخشا وہ کسی صاحب بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔ یہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے کیونکہ دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر فلسطین میں بسایا گیا اور پھر اس خطے کے اصل مسلمان باشندوں کو دنیا بھر میں بے وطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنے قیام کے اول روز ہی سے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے ایجنڈے پر عمل درآمد کا آغاز کردیا، اور عرب دنیا کی دفاعی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس سمیت وسیع علاقے پر تسلط جما لیا۔ امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوں نے زبان سے امن کا پرچار کرنے کے باوجود مسلم عرب ممالک کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھرپور سرپرستی کی، اور اس جارحیت کے ذریعے قبضے میں لیے گئے علاقوں پر تسلط قائم رکھنے میں جدید اسلحہ سمیت دامے، درمے، سخنے ہر طرح کی مدد فراہم کی۔ امریکہ کی اس شہ اور سرپرستی کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل نے فلسطین کے اصل باشندوں پر ان کے اپنے وطن میں زندگی اجیرن کررکھی ہے اور ان نہتے اور بے بس شہریوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہے۔ انہی ظالمانہ کارروائیوں کے تسلسل میں گزشتہ ہفتے قابض اسرائیلی فوج نے فلسطین کے محصور علاقے غزہ اور شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں فلسطینی مسلمانوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا، ان حملوں میں ایک ہی دن میں 13 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی کردیئے گئے، جب کہ اس سے اگلے روز مزید 17 فلسطینیوں کو شہید اور 70 کو زخمی کردیا گیا جن میں 13 خواتین اور 30 بچے بھی شامل تھے۔ ہمسایہ ملک مصر نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین میں جنگ بندی کا معاہدہ کرایا، مگر صہیونی ریاست نے معاہدے کے باوجود فضائی حملے کرکے مزید 12 فلسطینی مسلمانوں کو شہید کردیا جن میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بھی شامل تھے۔ یوں تین روز میں شہادت پانے والے فلسطینیوں کی تعداد تین درجن سے زائد ہے، اور ظلم کا یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ ہنوز جاری ہے،غزہ پر بمباری اور فائرنگ ویسے تو روز کا معمول ہے لیکن عسکری تجزیہ کار حالیہ وحشت کا سبب اسرائیل کے سیاسی بحران کو بتارہے ہیں۔ اسرائیلی کنیسہ یا پارلیمنٹ کے انتخابات 9 اپریل کو ہوئے تھے جس میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ لیکوڈ پارٹی کے قائد نیتن یاہو نے قدامت پسند، متعصب اور جنگجو جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن ایسا نہ ہوسکا، اور صدر نے کنیسہ کو تحلیل کرکے 17 ستمبر کو نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ پسرائیل کانز نے نہایت ڈھٹائی سے اعلان کیا ہے کہ مصر کی کوششوں سے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود فلسطینی مزاحمت کاروں کو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر جاری کیے گئے بیان میں نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ ان جارحانہ حملوں کا نوٹس لے جو بین الاقوامی اور عالمی انسانی قوانین کے منافی ہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا مستقل حل بین الاقوامی سطح پر متفقہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر اور القدس کے دارالحکومت کے طور پر ایک قابلِ عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹرس نے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے افسوس کا اظہار کیا اور نہایت جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان دیا کہ ہم شہریوں کے قتل کی مخالفت کرتے ہیں، اس لیے اسرائیل سے التجا ہے کہ وہ اس کی فوری تحقیقات کرے۔ سوال یہ ہے کہ حملہ آور مسلمان ہوتے اور مرنے والے عیسائی یا یہودی ہوتے تب بھی اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کا ردعمل ایسی ہی بے حسی پر مبنی ہوتا؟حقیقت بہرحال یہی ہے کہ فلسطین، کشمیر، میانمار، شام اور لبنان وغیرہ ہر جگہ ریاستی یا ریاست کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فرانسیسی ادارے پولیٹکل کریٹویٹی فائونڈیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چالیس برس میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں 91 فیصد سے زیادہ متاثرین مسلمان تھے، مگر اس کے باوجود دہشت گردی کا تمام تر الزام بھی مسلمانوں ہی پر رکھا جا رہا ہے۔فلسطین کے مظلوم وبے بس مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ مسلم ممالک کے سربراہان روایتی مذمت سے بالا تر ہو کر سوچیں ،فلسطینی مسلمان اگر کمزور ہیں اور وہ صہونیت کا مقابلہ کرنے سے قاصرہیں تو کیا مسلم اُمہ بھی کمزور ہے ،کیا 57اسلامی ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان مل کر بھی فلسطینیوں کو مشکل سے نہیں نکال سکتے، کیا مسلمان اپنے فلسطینی بھائیوں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا چھوڑ دیں گے؟۔

متعلقہ خبریں