Daily Mashriq

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

وہ کمبل نہیں تھا ایک بھالو تھا جس کی کھال کووہ کمبل سمجھ کر بہتے پانی میں چھلانگ لگا بیٹھا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ بھالو کی کھال کو چھوتا۔ بھالو نے اچک کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا دوست نہر کے کنارے کھڑا اس کے کمبل لیکر پانی سے نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

اس سے رہا نہ گیا اوراس نے اس کو آواز دی ، ارے بھائی چھوڑو کمبل کواور اب باہر نکل آؤ پانی سے جس کے جواب میں وہ نادان لالچی کہنے لگا کہ''کمبل کو میں چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا'' ۔ نصابی کتابوں میں لالچ بری بلا ہے کے موضوع پر بچوں کو پڑھائی جانے والی اس نصیحت آموز کہانی کے کردار ہمارے ارد گرد بے شمار اور ان گنت تعداد میں موجود رہتے ہیں اور ان کمبلوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

کے مصداق بظاہر کمبل نظر آتے ہیں لیکن جب ان سے واسطہ پڑتا ہے تو ہمیں ان کے بھالو یا ریچھ ہونے کا اس وقت احساس ہوتا ہے جب بہت سارا پانی سر سے گزرچکا ہوتا ہے۔ ہم بے شمار اور لاتعدادکمبلوں میں سے صرف اور صرف ایک کمبل کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ ہے آپ کے میرے اور ہم سب کے ہاتھوں میں ہمہ وقت موجود رہنے والا موبائل سیٹ۔ موبائل سیٹ جو گراہم بیل کے ایجاد کردہ ٹیلی فون سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بعد بہت سی منزلیں طے کر نے کے بعد صرف ہمارے لئے نہیں دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایسے کمبل کا روپ اختیار کر چکا ہے جسے نہ ہم چھوڑنا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ ہمیں چھوڑتا ہے۔ ہم اس کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ کسی وجہ سے اسے کچھ دیر کے لئے بند کردیا جائے تو واویلا برپا کردیا جاتا ہے۔ اس کے بند کردینے سے دل کی دھڑکنیں بند ہوجاتی ہیں، وقت کی نبض رک جاتی ہے اورکاروبار زندگی رک جاتا ہے اور ایک ٹیلیفونک کال کی دوری پر رہنے والے ناقابل تسخیر دوریوں پر جاپہنچتے ہیں۔ وائرلیس سیٹ سے موبائیل سیٹ اور پھر اینی رائڈ موبائل سیٹ نے تو ہر ہاتھ میں منی کمپیوٹر تھما دیا ہے۔ ویڈیو گیمز، ویڈیو کالز، اور نت نئے متعارف ہونے والے سوشل میڈیا اور ان کے نت نئے ناموں سے متعارف ہونے والی ایپلی کیشنز نے تو دیوانہ کرکے رکھ دیا ہے گلوبل ویلیج کے سادے مرادے بھولے باچھاؤں کو۔ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والا کس و ناکس گردن جھکائے ہاتھوں میں جادو کی ڈبیا تھامے جام جہاں نماکی جادونگری میں گم ہے۔ اس دن توحد ہوگئی تھی جب بھولا باچھا نظریں اپنے موبائل سیٹ کی سکرین پر گاڑھے اپنے دولت خانہ کی بجائے ہمسائی کے مکان میں داخل ہوگیا اور ایک خالی کرسی پر بیٹھ کر لطف اٹھانے لگا اپنے موبائل سیشن کا کہ ایسے میں بی ہمسائی ہاتھ میں اپنا موبائل سیٹ تھامے اپنے کمرے سے نکلی اور اپنے موبائل سیٹ کی سکرین پر نظریں جمائے بھولے باچھا کو اپنا میاں سمجھ کر کہنے لگی۔ آج دفتر سے جلدی آگئے؟ جس کے جواب میں بھولا باچھا بی ہمسائی کو اپنی گھر والی سمجھ کر کہنے لگے کہ دفتر میں کوئی ٹھیک طرح سے موبائل اٹنڈ ہی کرنے نہیں دیتا سو میں گھر چلا آیا۔ اتنا کہہ کر بھولا باچھا ایک بار پھر شغل موبائل بازی میں گم ہوگیا اور بی ہمسا ئی اپنے موبائل پر نظریں جمائے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ایسے میں بی ہمسائی کا شوہر ہاتھ میں موبائل تھامے اپنے گھر میں داخل ہوا اور موبائل سے نظریں ہٹا کر بھولے باچھا کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ''آئی ایم ویری سوری۔ میں اپنے گھر میں داخل ہونے کی بجائے غلطی سے آپ کے گھر داخل ہوگیا۔ اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گیا اور بھولا باچھا اس کی یہ بات سن کر اس کی حماقت پر کھی کھی کر ہنسنے کی بجائے بے وقوف کہیں کا کہہ کر ایک بار پھر فنا فی الموبائل ہوگیا۔ موبائیل عہد حاضر کے ہرفرد کے لئے ایسا کمبل بن چکا ہے جسے آپ لاکھ چھوڑنے کی کوشش کریں یہ آپ کو چھوڑنے والا نہیں۔ بظاہر یہ بہت کام کی چیز ہے لیکن اس کے اندر کتنے شیطان چھپے بیٹھے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں، اگر اندازہ ہے بھی تو وہ جاگنے والو جاگو مگر خاموش رہو کا مرقع بن کر بلی کو دیکھ کر آنکھیں موند لینے والے کبوتر کا سا کردار ادا کررہا ہے، ویڈیو گیمز ، مادر پدر آزاد سوشل میڈیا کی یلغار ، اخلاق سوز ناچ گانے ، اور جانے اس قسم کی کتنی بلائیں ہیں جنہوں نے ہمیں یہ کہنے پہ مجبور کردیا ہے کہ

موت کا کیا کام جب اس شہر میں

زندگی جیسی بلا موجود ہے

حال ہی میں ایسے ہی ایک شیطانی سافٹ وئیر کا انکشاف ہوا ہے جوآپ کی اجازت کے بغیر آپ کے نمبر سے کسی کو بھی کوئی سا فحش ، یا دھمکی آمیز ایس ایم ایس بھیج کر آپ کے سکون کو غارت کرسکتا ہے ، آپ کی ساکھ ہی کو نہیں آپ کی زندگی تک کو داؤ پر لگا سکتا ہے، آپ کو لوٹ سکتا ہے، اللہ نہ کرے آپ کو دہشت گرد ثابت کرسکتا ہے ۔ یہ سنسنی خیز خبر ایک نجی ٹی وی چینل نے جاری کرکے سرا سیمگی پھیلادی اور ہم سوچتے رہ گئے کہ کتنا خوفناک ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا یہ شیطانی کمبل جس کے سامنے پانی میں چھپا بھالو کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ یہ عہد حاضر کی پوری نسل کو اپنی گرفت میں جکڑ چکا ہے جس سے جان بچا کر نکل بھاگنے کی کوئی راہ ہم تو ہم ہمارے چارہ گروں کو بھی نظر نہیں آرہی، ایسے میں ہم اپنے پڑھنے والوں کو مشتری ہوشیار باش کہنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

متعلقہ خبریں