Daily Mashriq

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

وطن عزیز کے حالات دیکھ کر ذہن میں خیال آتا ہے کہ آخر یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا آپ اسے زندگی کی کہانی کا ایک منظر ہی سمجھ لیں قوموں کی زندگی میں ایسے واقعات آتے رہتے ہیں ہمیں امید کی شمع روشن رکھنی چاہیے سفر جاری ہے اور زندگی بڑی روانی اور تسلسل کے ساتھ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے دنیا کے ہنگامے ،حالات کا اتار چڑھائو، خوشی و غم کی آنکھ مچولی ، یہ سب کچھ زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے دنیا میں عجیب و غریب اور حیران کن کھیل کھیلے جاتے ہیں کچھ لوگ دنیا کے بازار میں بک جاتے ہیں اور کچھ لوگ دنیا کو بڑی حقارت سے ٹھکراتے ہوئے ایک ادائے بے نیازی کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں اور اسی سے انسان کی قیمت کا تعین ہوتا ہے گوتم بدھ نے کہا تھا کہ انسان چار طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ لوگ جو زندگی کے دھارے کے ساتھ بہتے رہتے ہیں جن حالات میں پیدا ہوتے ہیں یا اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتے ہیں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے زندگی گزاردیتے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جو زندگی کے دھارے کے خلاف تیرتے ہیں یہ اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کو بڑے غور سے دیکھتے ہیں ان پر سوچ بچار کرتے ہیں جو چیزیں ناقابل قبول ہوتی ہیں انہیں مسترد کردیتے ہیں اور اس راہ میں انہیں جن تکالیف جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں کمال مردانگی سے برداشت کرتے ہوئے ان کا مقابلہ کرتے ہیں اگر ہم اپنے گریباں میں جھانکیں تو کوئی اچھی تصویر بنتی نظر نہیں آتی ایک آزاد قوم کی حیثیت سے جو ہمارے فرائض تھے وہ ہم نے بھلا دیے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا وہ ہم نے نہیں کیا آج آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی ہماری کشتی بیچ منجدھار ڈول رہی ہے ہم ابھی تک اپنے لیے کسی منزل کا تعین نہیں کرسکے ایک ایسا نظام تشکیل نہیں دے سکے جس کے مطابق زندگی گزارتے! ابھی تک اداروں پر سوال اٹھ رہے ہیں قومی یکجہتی کی منزل سے ہم کوسوں دور ہیں سب کچھ بکھرا ہوا ہے ایک غیور قوم کا طرز زندگی ہم آج تک نہیں اپنا سکے ہم نے چند روزہ اقتدار کے لیے غیرت قومی کو بیچ ڈالا ہم اب تک ایک مثالی معاشرے کی تشکیل نہیں کرسکے جو مسائل ہمیں آزادی سے پہلے ورثے میں ملے وہ اب پہلے سے کئی گنا بڑھ چکے ہیں ہم نے آزادی کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے ہم نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی تھی ہمیں غیروں سے بہت سے گلے شکوے تھے لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارے وہی گلے شکوے ہنوز باقی ہیں یہاں انسانی حقوق کی بالادستی کا نام و نشان بھی نہیں سستے انصاف کا حصول ہمارے لیے آزادی کے اتنے بہت سے برسوں کے بعد بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے غربت ہمارے لیے آج بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے امیر امیر تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور غریب خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیے گئے ہیں اب تک پاکستان میں بننے والی ہر حکومت نے غربت مٹانے کا دل موہ لینے والا نعرہ لگایا کیونکہ یہ نعرہ ہر حکومت کی ضرورت رہا ہے غریب عوام یہ نعرہ سن کر پر امید ہوجاتے ہیں کہ شاید اب ان کا مقدر بدل جائے اب انہیں بھی غربت کے عفریت سے نجات مل جائے گی وہ بھی اپنی چند روزہ زندگی امن و سکون کے ساتھ گزار سکیں گے لیکن غربت مٹائو کا یہ نعرہ ہمیشہ نعرہ ہی رہا عوام بیچارے ہر نام نہاد رہنما کی چکنی چپڑی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں لیکن آخر میں انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے جب نعمتوں کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو عوام کی جھولی خالی ہی رہتی ہے انہیں سبز باغ دکھانے والے سب کچھ سمیٹ کر اپنی راہ چل پڑتے ہیںاور یہ ہمیشہ ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ہماری قیادت نے ہمیں ہمیشہ مایوس ہی کیا ہم اس دنیا میںسر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں رہے یہی بے انصافیاں اور ہماری معاشرتی ناہمواریاں ہیں جنہیں ہم نے دور کرنا تھا لیکن ہم یہ سب کچھ نہ کرسکے ہم پلازے بناتے رہے اپنا بینک بیلنس غیروں کے بینکوں میں جمع کرتے رہے اور وہ ہماری دولت کو استعمال کرکے اپنی معیشت مضبوط کرتے رہے ہم نے چند روزہ اقتدار کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہم کھلی آنکھوں سے اقتدار کی بے ثباتی کو دیکھتے رہے لیکن ہم نے حکمرانوں کے عبرت ناک انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا !ہم نے اپنے معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بنانا تھا اپنے عوام کو خوف و خطرے سے آزاد ماحول دینا تھا انہیں بھوک سے نجات دلانی تھی لیکن ہم انہیں یہ سب کچھ دینے میں ناکام رہے ہیں ہم نے انہیں افراط زر اور مہنگائی کی دلدل میں ڈبو دیا ہم نے ان کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کا حصول مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوتے وقت دنیا کی دیکھا دیکھی یہ نعرے لگاتے رہے کہ اب ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو گئے ہیں جدید زندگی کی نعمتوں سے مستفید ہوں گے لیکن ہم نے تو واپسی کا سفر شروع کررکھا ہے ہم بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے کی طرف لوٹ رہے ہیں ہماری زندگی تو پہلے کے مقابلے میں اب کئی گنا مشکل ہوچکی ہے ؟۔

متعلقہ خبریں