Daily Mashriq

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

ریاست مدینہ کے دعویداروں کو پہلے ریاست مدینہ میںرائج قوانین کا مطالعہ کرنا ضروری بنتا تھا مگر ایسا ہوا نہیں یا کم از کم دکھائی نہیں دیتا،کیونکہ برسر زمین حقائق تو ریاست مدینہ کے اصول وضوابط اور قوانین پر عمل درآمد کے علی الرغم صورتحال کی نشاندہی کررہے ہیں،دراصل ریاست مدینہ کا پہلا اصول بلکہ قانون تو سود کی حرمت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے نہایت واضح احکامات پرعمل کرنا تھا جس نے آگے چل کر ایسی صورتحال پیدا کردی کہ زکوٰاةلینے والا ہی کوئی نہ رہا جس کے نتیجے میں ریاست مدینہ کے قائم کردہ بیت المال''میں زکوٰاة''عشر اور دیگر ذرائع سے آنے والی دولت اور اشیاء جمع ہونے لگیں۔مگر ہم تو من حیث القوم(بہ استثنائے چند)سود لینے اور دینے کی علت میں مبتلا ہیں،عالمی سطح پر جو قرضے حکومت کے کام چلانے کیلئے حاصل کئے جاتے ہیں ان پر ہمیں عالمی اداروں کو سود دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جبکہ اندرون ملک بھی ہم قدم قدم پر سودی نظام کو بڑھاوا دینے پر مجبور ہیں،ہم آج تک بنکنگ کے نظام کو کلی طور پرغیر سودی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے،بلکہ معاف کیجئے گا جو بنک اپنے ہاں اسلامی بینکاری کے نام پر غیر سودی نظام چلانے کے دعوے کرتے ہیں،ان کو غور سے دیکھا جائے تو یہ دعوے بھی سراب ہی لگتے ہیں،کیونکہ ایک ہی ادارہ ایک جانب سودی نظام پر عمل کر رہا ہو اور اس کا ایک حصہ غیر سودی نظام کا دعویدار ہو جبکہ سالانہ کمایا جانے والا منافع آخر میں ایک ہی جگہ اکٹھا ہوتا ہو تو اس پر غیر سودی اور سودی کی تفریق کے دعوے کیسے تسلیم کئے جا سکتے ہیں؟دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح سودی(بچت) کھاتوں سے ہر سال زکوٰاة کی کٹوتی ہوتی ہے اسے کیسے اسلامی تسلیم کیا جا سکتا ہے؟اس زکوٰاة کی کٹوتی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب سے یعنی ضیاء الحق کے دور سے یہ نظام قائم کیا گیا ہے اس مد میں اکٹھی کی جانے والی اربوں کھربوں کی رقم ہر حکومت نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کی ہے،گویا اس کی بنیاد ہی نیک نیتی پر نہیں رکھی گئی اور بقول شاعر

خشت اول چوں نہد معمار کج

تاثر یا می روددیوار کج

اگر زکوٰاة کے اس نظام میں نیک نیتی ہوتی اور صرف بنیاد رکھنے والے کی''منافقت''نہ ہوتی تو ملک میں غربت کا خاتمہ ہوچکا ہوتا مگر یہاں تو غریبوںکا خاتمہ ہورہا ہے،اب ذرا پھر اسلامی بنکاری کاجائزہ لیتے ہیں،اور اس کا تجربہ ہمارے ایک عزیز کویوں ہوا کہ انہوں نے مضاربہ کے تحت ایک بنک کی اسلامی بنکنگ کی شاخ سے گاڑی خریدی،اصولی طور پر یہ معاملہ غیر سودی کھاتے کے تحت آنے کی وجہ سے ابتداء میں جو ماہانہ قسط مقرر کی گئی تھی،اس میں ہر ماہ رقم جمع کرانے کے بعد(اصل زراور بنک کے منافع میں)آٹھ دس ماہ یا اگلے سال کمی ہو جانی چاہیئے،مگر گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے بنک قرضوں پر سود کی شرح زیادہ کردینے کے بعد اسی اسلامی بنکنگ کی جانب سے بھی گاڑی کیلئے لئے جانے والے قرضے کی قسط میں جو پہلے18ہزار5سو روپے تھی،دوہزار تین سو روپے اضافہ کر کے اب نئی قسط20ہزار800روپے وصولی کی جارہی ہے ۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جو اسلامی بنکنگ کے دعوے ہیں یہ بھی صریح دھوکہ لگتے ہیں،تو پھر کونسی ریاست مدینہ اور کونسا غیر سودی نظام؟

کل شب دل آوارہ کو سینے سے نکالا

یہ آخری کافر بھی مدینے سے نکالا

ریاست مدینہ کے دعویداروں کو سب سے پہلے اس سودی نظام سے جان چھڑانی ہوگی اور جس طرح بچت کھاتوں پر دیا جانے والا سالانہ منافع بھی چند روز پہلے مزید کم کردیا گیا،حالانکہ ان کھاتوں میں زیادہ تر پنشنرز اور بیوائوں نے سرمایہ کاری کی ہے تاکہ وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکیں مگر ایک جانب منافع کی شرح پر کٹ لگادی گئی ہے اور دوسری جانب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں جن کی وجہ سے زندگی گزارنا دشوار سے دشوار تر ہورہی ہے حالانکہ ملک کے اندر ایک اسلامی نظریاتی کونسل بھی موجود ہے جس میں جید علمائے کرام کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نابغہ افراد بھی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی ذمہ داری ادا کررہے ہیں مگر اسلام کے اصولوں اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق''اللہ سے جنگ''قرار دیئے جانے والے سودی نظام کے خاتمے کیلئے یہ کونسل آج تک اپنی ذمہ داری نبھانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکی،یعنی سودی نظام کے متبادل اسلامی اقتصادی اور بنکاری نظام کے ایسے خدوحال مرتب کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب نہیںکرسکی جس سے ہم اس لعنت سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب ہو جائیں۔اسی طرح انہی کالموں میں گزشتہ کئی سال سے متعدد مواقع پر میں سودی کھاتوں سے زکوٰاة کی کٹوتی اور پھر مختلف حکومتوں کی جانب سے اس رقم کو سیاسی مقاصدکیلئے استعمال کرنے پر سوالات اٹھاتا رہا ہوں مگر نہ تو اسلامی نظریاتی کونسل اس پر کوئی رائے دے رہی ہے نہ جیدعلمائے کرام اس پر لب کشائی کر رہے ہیں،تاکہ عام لوگوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہوجائے کہ ان کے کھاتوں سے کاٹی جانے والی رقم واقعی زکوٰاة ہی کے زمرے میں آتی ہے یا پھر جس طرح ضیاء الحق کے دور ہی میں یارلوگ اسے''غنڈہ ٹیکس''کے نام سے پکارتے تھے یہ اسی طرح ہی کی کوئی چیز ہے؟

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسمان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

متعلقہ خبریں