Daily Mashriq


ناکامی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

ناکامی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا اپنے ہوم گراؤنڈ میں گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی یکے بعد دیگرے خالی کردہ دونوں نشستوں پر شکست کو تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر عوام کی جانب سے اظہار ناپسندیدگی پر محمول کرنا شاید اس لئے درست نہ ہوگا کہ ابھی موجودہ حکومت کے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے ہیں۔ بہرحال شکست کی وجوہات جو بھی ہوں حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر شکست کھانا نیک شگون نہیں۔ ان انتخابات کی مزید دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مرکز اور صوبے میں ماضی کے برعکس حکومتی جماعت کی شکست کا تناسب بڑھا ہے۔ پی کے71 کی نشست پر تحریک انصاف کے اس وقت کے اُمیدوار اور موجودہ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے سترہ ہزار تین سو اٹھاسی ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اِس وقت ان کے بھائی کو تقریباً نو ہزار ووٹ پڑے جبکہ تحریک انصاف کے باغی آزاد اُمیدوار نے پانچ ہزار تین سو ووٹ حاصل کئے۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر امیدوار اور باغی آزاد امیدوار کے ووٹوں کو جمع کرنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حلقے کے تحریک انصاف کے تقریباً دو ہزار ووٹروں نے انتخابات میں جماعتی اور باغی دونوں اُمیدواروں کو ووٹ دینے سے گریز کیا اور بیزاری کا اظہار کیا۔ تحریک انصاف اس حلقے میں تقسیم کا شکار نہ ہوتی تو اے این پی کے امیدوار کے مقابلے میں اس کی جیت یقینی تھی ممکن ہے منقسم ہونے کے باعث ووٹ نہ ڈالنے والے دو ہزار ووٹر بھی اس صورت میں ووٹ ڈالنے آتے بہرحال اس کے علاوہ بھی پی ٹی آئی کی جیت ممکن تھی۔ تحریک انصاف کو شکست ہونے والے حلقوں میں معمول کے فطری اندرونی اختلافات کے علاوہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے موروثیت کی سیاست عملی طور پر رد کرکے دوسری جماعتوں کے کارکنوں کے مقابلے میں زیادہ شعور کا بہرحال مظاہرہ کیا ہے۔ نوشہرہ میں اس تاثر کے برعکس نتائج کی وجوہات میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے علاقے میں تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل کی سیاسی حمایت کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ ضلع نوشہرہ تحریک انصاف کا حلقہ ہونے کیساتھ ساتھ پرویز خٹک کا ذاتی بھی حلقہ قرار پاتا ہے لہٰذا دونوں ہی عنصر وہاں کامیابی کی وجہ ٹھہرتے ہیں۔ محولہ بحث سے قطع نظر تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات میں من حیث المجموع اپنی جیت برقرار نہ رکھنے اور نشستیں کھو دینے کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بہرحال بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے اور ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ سطح اضافہ ہونے سے بے تحاشہ مہنگائی اور مزید مہنگائی کا سٹیٹ بنک کی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا جانا، عوامی فیصلے میں تبدیلی کے باعث امور ہیں۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں اور عوام کو جو خواب دکھایا تھا اور جو دعوے کئے تھے ان دو ڈھائی ماہ کے دوران کوئی ایک ایسی پیشرفت نظر نہیں آتی جس سے ڈھارس بندھے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا اعلانیہ وغیراعلانیہ مشترکہ لائحہ عمل بھی تحریک انصاف کو انتخابی میدان میں سخت حالات سے دوچار کرنے کا باعث ہیں۔ اگر پی کے71 ہی کی مثال لیں تو اس حلقے میں عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نوہزار دو سو دو ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آیا تھا جبکہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں نے اے این پی کی خاموش واعلانیہ حمایت کی۔ پی کے78 میں ثمر ہارون بلور کی جیت میں ان جماعتوں کی اعلانیہ حمایت کا بڑا عمل دخل تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات کی نسبت ووٹروں نے ضمنی انتخابات میں بیزاری کا رویہ اختیار کیا اور ٹرن آؤٹ نمایاں حد تک کم رہا۔ یہ عمل ہار جیت میں اہمیت کا باعث ثابت ہوا۔ پی کے71 میں ایک لاکھ 34ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ تھے جن کیلئے86پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے جہاں رجسٹرڈ ووٹرز میں سے نصف سے بھی کم لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ جیتنے والے امیدوار کو پارٹی قیادت کی جانب سے تہنیتی پیغام روایت ہے۔ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان نے تہنیتی بیان میں صلاح الدین کی کامیابی کو درحقیقت موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں پر عوام کا عدم اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دو ماہ میں ہی فلاپ ہو چکی ہے اور عوام نے ضمنی الیکشن میں ان پر عدم اعتماد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نام نہاد تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی اور متحدہ اپوزیشن کے امیدواروں کی کامیابی عمرانی حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ ہار اور جیت انتخابات کا حصہ ہیں جو اس کی وجوہات کا تجزیہ اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کیلئے ان غلطیوں کا اعادہ نہ کرنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہوگا جو اس کی جیتی ہوئی نشستوں کے ہار کا باعث بنے۔ موروثی سیاست کا نعرہ خود پی ٹی آئی نے جس شور اور جوش سے لگایا تھا اگر اس نعرے پر قائم رہتی تو اسمبلیوں میں اس کے امیدواروں کی تعدا میں کچھ اور اضافہ ناممکن نہ تھا بلکہ یقینا اضافہ ہی متوقع تھا۔

متعلقہ خبریں