Daily Mashriq


سابق صدر کی پریس کانفرنس

سابق صدر کی پریس کانفرنس

سابق صدر آصف علی زرداری کا سپیکر قومی اسمبلی اور صدر کے انتخاب کے موقع پر تنہا پرواز کرنے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سے اعانت سے احتراز کے بعد بالآخر حزب اختلاف کے متحد ہونے کا قائل ہونا بے وقت مکہ یاد آنے کے مترادف ہے۔ بہرحال اب ان کو اس ضرورت کا احساس وادراک ہو گیا ہے کہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہوکر قرارداد لانی ہوگی کہ یہ حکومت نہیں چل سکتی اور نہ ملک چلا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک اور فیصلہ ساز چیئرمین کی جانب سے جس سوچ کا اظہار سامنے آیا ہے ایسا سوچنے کا ان کو حق ہے لیکن ان کی سوچ واضح نہیں یا مشتبہ لفظ کا چناؤ کیا ہے کیونکہ موجودہ حکومت کیخلاف قرارداد وزیراعظم کیخلاف عدم اعتمادکی قرارداد لانے ہی کا آئینی طریقہ ہو سکتا ہے جس کی منظوری کا کوئی امکان نہیں۔ علاوہ ازیں اگر کوئی قرارداد لائی جاتی ہے تو اس قسم کے قرارداد سپیکر کی منظوری کے بعد ہی پیش ہو سکتی ہے لیکن ایسی قرارداد ہوگی کیا اس سے قطع نظر آصف زرداری کی اس پریس کانفرنس کے اسباب اور وجوہات بھی ہوسکتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے نیب کے چیئرمین کے حوالے سے جو کلمات کہے ممکن ہے اس کا اصل مقصد مدعا وہ ہو۔ فی الوقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں اپنے الجھے معاملات میں اس طرح پھنسے ہیں کہ وہ کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں ہو سکتے جس سے وہ حکومت پر حاوی ہو سکیں۔ دوسری جانب مشکل امر یہ ہے کہ وزیراعظم سے لیکر وزیراطلاعات تک چور اور ڈاکو کے القاب سے تو نوازتے ہیں اورباربار سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں کارروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔ آصف زرداری کی پریس کانفرنس سے اس امر کا بہرحال اظہار ضرور ہوتا ہے کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں اپنی ضرورتوں اور مجبوریوں کے باعث قریب ضرور آسکتی ہیں لیکن اس قربت کا نتیجہ خیز ہونا مشروط صورتحال ہی میں ممکن ہوگا جس کا فی الوقت امکان دکھائی نہیں دیتا۔

وزیراعظم کے دورے کے مقاصد

وزیراعظم عمران خان کا ملک کو درپیش معاشی بحران کے حل کیلئے خود بھی متحرک ہونا خوش آئند ضرور ہے لیکن دوسری جانب یہ حکومتی معاشی ٹیم کی ناکامیوں کا اعتراف اور مایوسی کا اظہار بھی ہے۔ بہرحال وزیراعظم سعودی عرب اور ملائشیاء اور نومبر کے آغاز میں چین کا دورہ کریں گے۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج (منگل) کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے جہاں وہ ریاض میں مستقبل میں سرمایہ کاری منصوبے کے بارے میں کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ جس کا مقصد پاکستان میں اقتصادی اور سرمایہ کاری کے مواقع اور اگلے پانچ سال کیلئے اس کے وژن کو اجاگر کرنا ہے۔ کانفرنس پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند اہم تاجر رہنماؤں کو رابطے کا موقع فراہم کرے گی۔ سعودی عرب سے واپسی پر وزیراعظم آئندہ3 روز سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کیساتھ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم 28اکتوبر کو ملائشیاء جائیں گے جہاں وہ پاک ملائشیاء تعلقات اور معاشی تعاون پر بات کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان3 نومبر کو چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی قیادت کیساتھ سی پیک اور معاشی تعاون پر تفصیلی گفت وشنید کریں گے۔وزیراعظم ابتدائی دنوں میں اس قسم کے دوروں کو وقت کا ضیاع قرار دے چکے ہیں ممکن ہے معاشی حالات کی ستم ظریفیاں اتنی بڑھ چکی ہوں گی اور وزیراعظم کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سے بھی سخت شرائط کے باعث قرض نہ لے سکی ہو جس کے بعد دوست ممالک پر انحصار مجبوری بن گئی ہو۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ دوست ہی برے وقت کے ساتھی ہوتے ہیں لیکن معاشی حقیقت اس قدر تلخ اور بے رحم ہوتی ہے کہ دوست ممالک بھی کافی سوچ بچار اور ہچکچاہت کا مظاہرہ کر کے ہی آمادہ ہوتے ہیں۔ سعودی عرب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے حلف اٹھانے کے فوری بعد اس وقت کی حکومت کو خطیر رقم بطور تحفہ دیکر ملک کو معاشی بحران سے نکالا تھا اور حکومت کو سنبھلنے کا موقع ملا تھا مگر اب خود سعودی عرب کے معاشی حالت شاید اتنے مستحکم نہیں کہ ان سے کسی سنجیدہ تعاون کی توقع ہو۔ ملائیشیا سے بھی شاید ہی اتنی رقم ملے جو ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کیلئے کافی ہو۔ چین بھی سی پیک کی صورت میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد مزید تعاون پر آمادہ ہو ویسے بھی اس قسم کے معاملات میں چین ہمیشہ حددرجہ محتاط رویہ رکھنے کا عادی ملک ہے۔ بایں وجہ ان ساری مساعی کو وزیراعظم کی سطح پر معاشی معاملات کو سدھارنے کی ایک سنجیدہ سعی ضرور قرار دی جا سکتی ہے جن کا نتیجہ خیز ہونا معجزہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں