Daily Mashriq


’’بنانا ری پبلک‘‘ ماڈل سے نجات؟

’’بنانا ری پبلک‘‘ ماڈل سے نجات؟

علی زرداری کا یہ کہنا درست ہے کہ این آر او کی باتیں کمپنی کی مشہوری کیلئے ہو رہی ہیں۔ خدا کرے یہ افواہیں محض گپ شپ ہوں جسے آصف زرداری نے کمپنی کی مشہوری کا نام دیا ہے۔ زرداری صاحب کا یہ کہنا بھی دلچسپ ہے کہ این آر او سے ایم کیو ایم اور میاں نوازشریف کو فائدہ ہوا ہوگا خود انہیں نہیں۔ ملک کے مطلق العنان حکمران جنرل پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کی قیادت میں جب بیرونی دنیا میں این آر او کیلئے مذاکرات اور ملاقاتیں جاری تھیں تو آصف زرداری منظر پر موجود نہیں تھے۔ وہ عملی طور پر سیاست سے الگ اور کسی اچھے وقت کے انتظار میں تھے۔ المیہ یہ ہوا کہ یہ برا وقت ہی ان کیلئے اچھا وقت لیکر آیا۔ بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں شہید ہوئیں تو آصف زرداری خودبخود منظر پر نمودار ہوتے چلے گئے۔ این آر او کے دوفریق جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو تھیں مگر بینظیر بھٹو اپنے لہو سے جن لوگوں کی قسمت سنوار گئیں ان میں آصف زرداری اور میاں نوازشریف دونوں شامل تھے۔ این آر او کے نتیجے میں اقتدار میں آنے کے جو راستے بینظیر بھٹو کیلئے صاف ہو چکے تھے انہی پر چل کر آصف زرداری طاقت کے ایوانوں میں داخل ہوئے اور تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کی شق کے خاتمے نے میاں نوازشریف کے تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہیں ہموار کیں۔ یہ پاکستان کے تلخ ماضی کے حقائق ہیں۔ اب سیاسی جوتشی پاکستان کے سیاسی نظام کے حوالے سے مختلف ماڈلز اپنائے جانے کی پیش گوئیوں میں مصروف ہیں۔ کسی کو پاکستان کے نظام میں اُبھرتی ہوئی سخت گیری میں چینی ماڈل دکھائی دے رہا ہے تو کوئی بدعنوانی کیخلاف تیز ہوتی ہوئی مہم کی وجہ سے ملائیشین اور سعودی ماڈل کی بات کر رہا ہے۔ کوئی شہری آزادیوں اور میڈیا کی اُڑانوں کو خطرے میں پاکر کسی اور ماڈل کی آمد کے اشارے دے رہا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ کوئی مخصوص ماڈل اپنانا نہیں رہا بلکہ کسی بھی ماڈل سے گریز رہا۔ گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان نے جمہوریت، قانون کی حاکمیت، معاشی خودانحصاری، احتساب اور وسائل کی یکساں اور منصفانہ تقسیم کیلئے سرے سے کوئی ماڈ ل سامنے رکھ کر پیش قدمی کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اس عرصے میں پاکستان نے اگر کوئی ماڈل اپنایا وہ بنانا ری پبلک یعنی کیلا جمہوریہ تھا۔ حقیقت میں یہ امریکہ کی ایک ملبوسات تیار کرنے والی بڑی کمپنی کا نام ہے مگر سیاسیات میں یہ اصطلاح سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار اور معاشی طور پر پیراسائٹ ریاستوں کیلئے استعمال ہوتی ہے اور پاکستان ان ہر دو بیماریوں کی وجہ سے اس اصطلاح کی عملی تصویر بنا رہا۔ اس ملک میں قانون کی بالادستی تھی نہ آئین کی سربلندی۔ اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے باجود چھینا جھپٹی کا دور دورہ تھا۔ آئین کی محافظت کے دعویدار کبھی آئین پر چلنے میں دلچسپی لیتے تھے نہ اپنی کھال میں رہنے والوں نے کھال کے اندر رہنے کا تکلف فرمایا۔ قانون موم کی ایسی ناک تھی جسے نظریہ ضرورت اور طاقتور اور بااثر کی سہولت کیلئے جس طرف چاہا موڑ لیا گیا۔ صوبوں، شہروں، دیہاتوں کی سطح پر قانون کی بجائے وارلارڈز کی حکمرانی تھی۔ ان وارلارڈز کے اوپر کہیں سیاست کا نقاب تھا تو کہیںانتظامیہ، پولیس اور بیوروکریسی کی چادر تنی تھی۔ قبضے، بھتے، میرٹ کا قتل عام، منی لانڈرنگ اس ملک کو بنانا ری پبلک بنائے ہوئے تھا۔ ملک کی اس حالت کو دیکھ کر بیرونی دنیا کو بھی شہ مل رہی تھی وہ بھی حیلوں بہانوں سے ملک کے اندر اپنے پاکٹس اور لابیاں تشکیل دینے لگے۔ اس صورتحال میں ریاست کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ آزادیوں کے نام پر ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا۔ قانون پسند، میرٹ کا متلاشی، اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے پُراعتماد اور دیانت پسند ذہن اس ماحول میں قطعی مس فٹ ہوکر قاعدے قانون کی حامل مغربی ریاستوں میں تیزی سے منتقل ہو رہا تھا۔ عام آدمی سے اس کی اُمید اور رومانس چھن رہا تھا۔ اس ماحول میں چند برس سے پاکستان کی گاڑی کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے کی کوششیں شروع ہوئیں جو بڑی حد تک کامیاب ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کوئی بھی کامیاب ماڈل اپنایا جائے تو قوم کو گوارا ہوگا۔ قوم ’’کیلا جمہوریہ‘‘ ماڈل کی اس طوائف الملوکی اور افراتفری سے نجات چاہتی ہے جس نے ملک کا حلیہ بگاڑ رکھا ہے۔ قانون اورآئین طاق نسیاں میں سجانے کی چیز نہیں ہوتے بلکہ ان کی اہمیت اور وقعت عمل سے ہی ہوتی ہے۔ اسلئے پاکستان نے بطور ریاست اپنے حالات اور طور طریقے ٹھیک کرنے کا تہیہ کیا ہے تو اب یہ عزم کسی سیاسی مصلحت اور بیرونی مجبوری کی وجہ سے متزلزل نہیں ہونا چاہئے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر حکومت سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک سے کوئی معاملہ طے کرنے میں کامیاب ہو جائے اور ان ملکوں سے ملنے والی رقم عوام کو ریلیف دینے کیلئے استعمال کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان معاشی حالات کے سدھار کی خاطر سعودی عرب، ملائیشیا اور چین بھی جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کرکے وزیراعظم یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ دوست ملکوں سے مدد کے معاملے میں کلی طور پر ’’ناں‘‘ نہیں ہوئی تھی۔ اسی لئے تعاون کی راہوں کی تلاش کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے طواف سے ہر ممکن طور پر بچنا ایک آئیڈیل صورتحال ہے۔ اگر ایک بار پاکستان آئی ایم ایف کے پاس جانیکی رسم توڑ دے تو پھر شاید آئندہ اس رسم کو دہرانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینا بھی پڑا تو اس قرض کا درست استعمال کرنے کی ایک نئی رسم وریت ڈالنا ہوگی اور یہ بات یقینی ہونی چاہئے کہ یہ مملکت پاکستان کا آئی ایم ایف سے آخری قرض ہو۔ اس کے بعد پاکستان کو خودانحصاری اور خودکفالت کی راہوں پر گامزن ہو جانا چاہئے۔ قوم ماضی کی تاریخ سے دامن چھڑانا چاہتی ہے اور اس بات کی اُمید لگائے بیٹھی ہے کہ کوئی تو ہو جو ملک کو اس ماضی کی بنانا ری پبلک کی اس تنگنائے سے نکال کر ایک نئی شاہراہ پر ڈال دے۔

متعلقہ خبریں