Daily Mashriq


بھارتی پراپت

بھارتی پراپت

امریکا دنیا کا سب سے بڑا انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویدار ہے اور اس کی آڑ میں اپنے مفادات سمیٹتا رہتا ہے، ترکی میں سعودی سفارتخانے میں مبینہ طور پر سعودی صحافی خشوگی کا قتل ہوا، اس مبینہ واقعہ پر امریکا نے سعودی حکومت پر انسانی حقوق کے حوالے سے واویلا مچانا شروع کر دیا، بات یہ ہے کہ واقعہ ترکی میں ہوا، سعودی شہری مارا گیا، یہ معاملہ براہ راست ترکی اور سعودی عرب کے مابین ہے اس سے امریکا کا کیا لین دین ہے، مگر امریکا نے انسانی حقوق کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے چنانچہ اس نے اسی حوالے سے سعودی عرب کیساتھ پھڈا ڈال دیا، سعودی عرب کے صحافی کا جس انداز میں قتل ہوا وہ قابل مذمت ہے اس کیلئے آواز اُٹھانی چاہئے، یہ ہی نہیں بلکہ ایسے ہی غیرانسانی سلوک پر پوری دنیا میں آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔جب سے بھارت میں ہندوتوا راج قائم ہوا ہے تب سے وہاں کی اقلیتیں خاص کر مسلمان نہ صرف غیرمحفوظ ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ ان کی جان ومال لوٹی جا رہی ہے، ان کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، مگر کسی بھی جانب سے مسلمانو ںکے بھارت میںقتل عام، شدائد وجبر کیخلاف کسی جانب سے کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی ہے، امریکا نے تو بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے کیونکہ اس کے بھارت کیساتھ مفادات وابستہ ہیں، حالانکہ ہر روز سوشل میڈیا پر بھارت میں اقلیتوں کو بیدردی سے قتل کرنے، ان کے ہا تھ پاؤں کاٹنے اور دیگرشدائد وجرائم کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں مگر مجال ہے کہ کسی انسانی حقوق یا امر یکا جیسے انسانی حقوق کے ٹھیکداروں کے کانوں پر جوں تک رینگ جائے۔ بھارت میں آئندہ چھ ماہ میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور بھارتی نیتا اس کی تیاری پاکستان دشمنی اور مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں پر ظلم کی بنیاد کر چکے ہیں۔ بھارتی حکمران جماعت کے لیڈر اجودھیا کی مسجد کی زمین پر قبضہ کیلئے اب یہ مہم چلا رہے ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ اجودھیا کی بابری مسجد کی زمین کا فیصلہ نہیں کر سکتی چنانچہ یو پی کی سرکار ایک حکم جاری کر کے یہ زمین ہندوؤں کے حوالے کردے تاکہ عام انتخابات تک مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھ دی جائے، یہ بھارت کے ہندوتوا کی چالبازیاں ہیں۔ اکثر جو ویڈیو وائرل ہو رہی ہیں ان میں بچوں اور خواتین کی چیخ وپکار کی آوازیںآتی ہیں کہ ان پر ہندو ٹوٹ پڑے ہیں، ڈنڈوں اور چھروں سے مجروح کر رہے ہیں، مسلمانوں کیساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ممبئی ایئر پورٹ پر ایک مسلمان نوجوان نے جو منگلور سے ممبئی پہنچا تو اس نے جب اپنا بیگ وصول کیا تو دیکھا کہ اس کا قفل ٹوٹا ہوا ہے۔ کھول کر دیکھا تو اس میں قابل اعتراض اشیاء برآمد ہوئیں، جن میں چاقو، رسی، چھریاں اور دیگر تخریب کاری کا سامان شامل تھا جس کی اس نے فوری طور پر ایئرپورٹ سیکورٹی فورس کو اطلاع دی کہ اس کے بیگ کا قفل توڑ کر اس میں تخریب کاری کا سامان رکھ دیا گیا ہے، ایسا کرنے کا مقصد نوجوان جو مسلمان ہے کو دہشتگردی میں پھنسوانا مقصود تھا، یعنی اب مسلمانوں کیلئے بھارت میں سفر کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔مودی سرکار کے چہیتے وزیراعلیٰ یو پی سرکار نے ایک کارنامہ یہ انجام دیا ہے کہ اکبر الہ آبادی کے شہر بے مثل کا نام بدل کر پراگراج رکھ دیا ہے، الہ آباد 1570ء مغل شہنشاہ اکبر نے دریائے گنگا اور جمنا کے سنگم پر بسایا تھا، شنہشاہ جہانگیر کے دور میں یہ اُتر پردیش کا صوبائی دارالحکومت بنا، 1857کی جنگ آزادی میں اس شہر سے لیاقت علی خان نامی مردحر کی قیادت میں انگریز حکومت کیخلاف آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا، یہ شہر مسلمانوں کی جدوجہد سے مرصع ہے۔ بھارت کے ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہے، ممتاز شاعر اکبر الہ آبادی نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا کہ الہ آباد میں تو دو ہی چیزیں ہیں ایک امرود اور دوجے اکبر الہ آبادی باقی تو کچھ نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ آج بھی باعث شہرت یہ ہی ہیں۔ اس سے پہلے بھی بھارت میں کئی شہروں بلکہ عالمی سطح پر مشہور شہروں کے نام تبدیل کئے گئے ان میں بمبئی کا ممبئی، مدراس کو چنوئی کر دیا گیا مگر اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوا تھا البتہ اس وقت کی حکومت تنقید کا نشانہ بنی تھی مگر الہ آباد کا نام بعض، نفرت وعناد میں تبدیل کیا گیا ہے کیونکہ الہ آباد کا مطلب ہے اللہ والوں کا بسایا ہوا۔

بھارت کے سابق ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف جنرل (ر) ضمیر شا ہ کی تازہ کتاب منظرعام پر آئی ہے جس نے بھارت ریاست گجرات میں جب مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا اور اس وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے کا سیاہ چہرہ دکھا دیا ہے کہ ریاست گجرات میں ان فسادات کو مٹانے کیلئے ضمیر شاہ کی ڈیوٹی لگی تھی اس وقت وہ میجر جنرل تھے، انہوں نے کتاب میں بتایا ہے کہ مودی کی صوبائی حکومت نے انہیں اور ان کی بریگیڈ کو دو دن تک فسادزدہ علاقوں میں جانے نہیں دیا، جب وہ فسادزدہ علاقوں میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ پولیس دہشتگردوں کیساتھ تعاون کر رہی ہے کہ ان کو اقلیتوں کی بستیوں کا محاصرہ کرنے میں پوری مدد دیتی ہے جب مسلمان گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں تو پولیس ان دہشتگردوں پر گولی چلانے کی بجائے مسلمانوں کے گھروں کی کھڑکیوں کے اندر کی طرف فائرنگ کرتی ہے، اسی طرح ان دہشتگردوں نے بھارت کے ایک فوجی بریگیڈیر کے سرکاری گھر کو آگ لگا دی کیونکہ وہ فوجی افسر مسلمان تھا، یہ مودی کا اصل چہرہ انسانی حقوق کی تنظیمیں دیکھ لیں۔

متعلقہ خبریں