Daily Mashriq


اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

ہماری سیاست پر ان دنوں کپکپی کی کیفیت طاری ہونے کا احساس مسلط ہے، اس حوالے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آرہا ہے مگر اس کا جواز ثابت کرنے کیلئے پہلے وزیراعظم کا تازہ بیان یاد دلانا ضروری ہے جو انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کیساتھ ملاقات میں دیا اور جو الفاظ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سامنے آئے وہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ اس کی شرائط ہیں اور لطیفہ یاد آنے کا کارن یہی الفاظ تھے، یعنی سردی سے کانپتے ہوئے ایک شخص سے اس کے ایک دوست نے پوچھا سردی کچھ زیادہ ہی نہیں ہوگئی، لرزہ براندام شخص نے جواب دیا۔ نہیں یار، سردی تو کچھ نہیں کہتی۔ بس کپکپی سے جان جاتی ہے، لطیفے میں تھوڑی سی تبدیلی ہم نے اس لئے کر دی ہے اور کپکپی سے جان جاتی کا صیغہ استعمال کیا ہے، حالانکہ اصل لطیفے میں جان جاتی ہے کی جگہ الفاظ کچھ اور ہیں لیکن ان الفاظ کے درج کرنے سے خود ہماری جان جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اگر آپ نے یہ لطیفہ پہلی بار سنا ہے تو کسی سیانے بندے سے اصل الفاظ معلوم کر کے لطیفے کا لطف دوبالا کر سکتے ہیں۔ حالانکہ اس صورتحال پر جو وزیراعظم کے الفاظ سے جنم لیتی دکھائی دیتی ہے ہمیں وہ مشہور شعر بھی یاد آرہا ہے کہ

کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں

کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکتا ہے کھڑک سنگھ

یہ جو سارا کچھ اس کھڑک سنگھ یعنی آئی ایم ایف کا کیا دھرا ہے ناں تو اس سے ہم جیسی چھوٹی اور مجبور اقوام کھڑکنے میں مبتلا ہیں اور ہمیں آئی ایم ایف کی بھیجی ہوئی سردی سے کچھ خاص اثر نہیں پڑتا بس ذرا اس کی شرائط والی کپکپی سے جان جاتی ہے، مگر اسے کیا کہا جائے کہ ہمارے رہنماء اسی عطار کے لڑکے سے دوا لینے سے پھر بھی باز نہیں آتے کیونکہ اس کے دو پہلو ہیں، ایک تو یہ کہ اگر عطار کے لڑکے کی تجویز کردہ دوا لینے سے انکار کریں تو عطار کا لڑکا پرانی دوا کی قیمت مع سود کے وصول کرنے آدھمکے گا اور یہاں اسے واپس کرنے کیلئے چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں، جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرض کی پیتے پیتے ہم اس کے نشے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہماری فاقہ مستی نے جو رنگ جمانا شروع کر رکھا ہے اس کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا یعنی وہ جو پہلے کے حکمرانوں نے قرض لیا تھا اسے اگر ملک وقوم کے بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا ہوتا تو شاید اب تک ہم اس قابل ہوچکے ہوتے کہ وہ قرض لوٹانے کی کوئی صورت نظر آچکی ہوتی مگر جب قرضوں کیساتھ لکڑ ہضم پتھر ہضم کا چورن استعمال کرکے پشتو کے ایک مقولے کے مطابق ’میم زرما ٹول زما‘ یعنی یہ بھی میرا، وہ بھی میرا اور اردو کے ایک فلمی ڈائیلاگ کی مانند اِدھر کا مال اُدھر، اُدھر کا سب مال اِدھر والی حرکتیں کی گئی ہوں کہ مبینہ طور پر ذاتی خزانے بھر لے گئے ہوں، منی لانڈرنگ کی گئی ہو، لایخوں کے ذریعے ڈالروں کو دوبئی منتقل کیا گیا ہو، ایانوں اور عاصموں کے ذریعے لوٹ مار مچائی گئی ہو، تو پھر ذرا سا کٹھکا ہونے پر ایک فلمی گیت کا یہ مکھڑا کیونکر یاد نہ آئے کہ

یہ شام کی تنہائیاں‘ ایسے میں تیرا غم

پتے کہیں کھڑکے ہوا آئی تو چونکے ہم

اور اب جو نیب کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ اکثر مجرم ہیں‘ جائیدادیں بچانے کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کسی دباؤ میں نہیں آؤں گا اور احتساب کیلئے آخری حد تک جاؤں گا۔ کوئی این آر او نہیں ہوگا تو ادھر ادھر سے آوازیں تو اُٹھیں گی کہ عمران خان کے بیان سے سیاسی انتقام کی بو آتی ہے یا پھر یہ بیان کہ نیا پاکستان ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ مہنگائی کے علاوہ کوئی پالیسی نظر نہیں آتی وغیرہ وغیرہ اور اسی قبیل کے بیانات پر تو فراق جلال پوری نے کہا تھا

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے

حالانکہ اس سارے قصے میں دیکھا جائے تو ہم عوام ہی اس کے اصل ذمہ دار ہیں یعنی ہم ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گئے کے مصداق جو بھی سامنے آیا اسے سر پہ بٹھا کر باپ بنا لیا یہ سوچے بغیر کہ یہ رہبر ہے بھی یا نہیں حالانکہ میر تقی میر نے صدیوں پہلے ہمیں خبردار کیا تھا کہ

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میرؔ

کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے

لیکن اسے کیا کیجئے کہ ہم نے مومن کی صفات تج دی ہیں اور ایک سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کے باوجود ہنسی خوشی بار بار اسی سوراخ میں انگلی ڈال دیتے ہیں بلکہ شاید ہمیں بھی اسی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کا چسکا پڑ چکا ہے یا شاید نشہ ہوگیا ہے کہ جب تک ہم انہی کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتے دھمال ڈالتے‘ ہے جمالو کے نعرے لگاتے‘ آیا آیا کون آیا کا سبق دہراتے ہوئے بار بار ان کے بیلٹ بکس نہ بھرلیں ہمیں سواد ہی نہیں آتا۔ اچھی طرح جانتے بوجھتے ہوئے کہ پچھلی بار ان لوگوں نے ہمارا کیا حشر کیا تھا ہمیں کس قدر ارزاں فروخت کرکے ذاتی مفادات کی ہنڈیا چولہے پر چڑھا کر پکا پکایا خود ہڑپ کر لیا تھا اور خالی ہانڈی چاٹنے کیلئے ہمارے آگے رکھ دی تھی۔ حالانکہ اس ہنڈیا کو ہم نے ہی اپنی خون پسینے کی کمائی سے بھر کر انہیں یہ موقع دیا تھا کہ خود بھی کھائیں ہمیں بھی کھلا لیں لیکن سالن بانٹنے کی ڈوئی ان کے ہاتھ تھما کر ہی تو ہم اپنے اوپر بھوک‘ غربت‘ بیروزگاری‘ قرضے مسلط کرواتے ہیں۔ اس کے بعد اگر سردی سے نہیں بلکہ کپکپی سے جان جانے کا گلہ کرتے ہیں تو ہم سے زیادہ سادہ اور کون ہوگا۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

متعلقہ خبریں