Daily Mashriq


ہمارے شہر میں تقریر کر گیا ہے کون

ہمارے شہر میں تقریر کر گیا ہے کون

کہتے ہیں خاموشی کی بھی زبان ہوتی ہے اور بسا اوقات خاموش رہنے والے خاموشیوں کی زبان میں اپنے سے انداز میں تقریر کر جاتے ہیں۔ کیا خوب کہا ہے حماد نیازی نے کہ

کچی قبروں پر سجی خوشبو کی بکھری لاش پر

خامشی نے اک نئے انداز سے تقریر کی

بہت زیادہ بولنے سے بہتر ہے کہ خاموشیوں کی زبان میں وہ سب کہہ دیا جائے جو بہت زیادہ بول کر نہیں کہا جاسکتا، جو لوگ کام کے دھنی ہوتے ہیں وہ بولتے کم ہیں لیکن اپنے کام سے کام رکھ کر کہیں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ فیض احمد فیض خاموش رہنے سے زیادہ بولنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

اپنے حق کیلئے بولنا چاہئے لیکن اتنا بھی نہیں کہ لوگ باتونی یا منہ پھٹ کے لفظوں سے یاد کرنے لگیں۔ جبھی تو سیانے کہتے ہیں کہ جو زیادہ بولتا ہے وہ غلطیاں بھی زیادہ کرتا ہے۔ ان دو توتلی لڑکیوں کی طرح جن کو ان کی ماں نے سمجھا رکھا تھا کہ وہ رشتہ لیکر آنے والوں کے سامنے خاموش ہوکر بیٹھی رہیں تاکہ ان کے بولنے سے ان کے توتلہ پن جیسا نقص ظاہر نہ ہو سکے لیکن ہوا یوں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک بہن سے چپ نہ رہا گیا اور وہ رشتہ لانے والوں کے سامنے بے اختیار ہوکر بول پڑی جس سے اس کی زبان کا توتلہ پن ظاہر ہوگیا۔ جب دوسری بہن نے پہلی کو ماں کی نصیحت کے برعکس بولنے کی غلطی کرتے دیکھا تو وہ بھی شکر ہے شکر ہے میں نہ بولی کی بجائے توتلاتے ہوئے کہنے لگی شتر ہے شتر ہے میں نہ بولی اور یوں رشتہ لانے والے اپنی ہنسی روک کر دونوں بہنوں کی جانب ہکا بکا ہوکر دیکھتے رہ گئے۔ کہتے ہیں سقراط کے سامنے ایک خوش پوش اور نہایت خوبصورت آدمی اُٹھلاتا ہوا آیا وہ شخص خاموش تھا، بول نہیں رہا تھا اس کی اس ادا کو دیکھ کر سقراط کہنے لگے کہ کچھ بولئے صاحب تاکہ آپ کے بارے میں فیصلہ کر سکوں کہ کتنے خوبصورت ہیں حضور، جو لوگ اپنے اندر کے انسان کا ناک نقشہ چھپانا چاہتے ہیں وہ بہت کم بولتے ہیں یا خاموش رہنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں، شاید اس ہی لئے خاموشی کو عقل مندی کی علامت کہا گیا ہے۔ کوئی کسی بولنے والے کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا۔ ہر کس وناکس بول چال کیلئے زبان ودیعت کی گئی ہے۔ کچھ لوگ زبان کے استعمال کے ہنر یا سلیقے سے عاری ہوتے ہیں ان کو اس بات کا احساس نہیں رہتا کہ وہ اول فول بول کر کسی کی کردارکشی یا دل آزاری تو نہیں کر رہے۔ وہ اپنے منہ اور زبان سے پھول جھڑنے کی بجائے انگارے پھوٹنے لگتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں اس قسم کا طرفہ تماشا ہمیں دیکھنے کو ملتا رہا۔ ہمارے سیاستدان اپنے مدمقابل کو چاروں شانے چت گرانے کی کوشش میں کردارکشی اور دل آزاری ہی نہیں گالم گلوچ کی حدود بھی پار کرنے لگے تھے۔

کس نے دیکھا تھا ٹوٹنا اپنا

ہم جو ٹوٹے تو رائیگاں ٹوٹے

کسی کی کردارکشی کرنیوالے الفاظ ایسی آگ بھڑکا دیتے ہیں دل اور دماغ کے نہاں خانوں میں جو بجھائے نہیں بجھتی۔ ایسی حرکت ان لوگوں سے سرزد ہوتی ہے جو بولنے چالنے کے معاملے میں بے پرواہ ثابت ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ زبان اور زبان سے نکلنے والے الفاظ پر قابو پانے کیلئے منتخب الفاظ اور جملوں کے علاوہ مناسب یا جچے تلے انداز گفتگو کا خاص خیال رکھا جانا بے حد ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کرنے کیلئے سمجھ بوجھ رکھنے والے ادارے ہر کس وناکس کو بے لگام بولنے کی اجازت نہیں دیتے۔ بولنے سے پہلے سکرپٹ لکھوایا جاتا ہے۔ پھر اس سکرپٹ کو منظور کیا جاتا ہے تب جاکر اسے پڑھنے یا پڑھ کر بولنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ماضی میں یہ کام ریڈیو اور ٹیلی ویژن جیسے حساس اداروں میں عام کیا جاتا تھا لیکن نت نئے چینلوں کی یلغار نے اس تکلف کو برسرطاق رکھ دیا ہے۔ جو منہ میں آیا کہہ دیا کی روش نے ذرائع ابلاغ سے وابستہ لوگوں کی عادت کو بگاڑنا ہی تھا، قانون ساز اسمبلیوں میں بھی بلاسوچے سمجھے بولنے اور بلاجواز ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر ان کو آڑے ہاتھوں لینے پر فخر کیا جا رہا ہے، جس سے بہتان تراشی اور کردارکشی کی وباء پھل پھول اور پھیل رہی ہے۔ اور تو اور ہمارے ملک کے منتخب وزیراعظم بھی جب جہاں اور جو بولنا چاہیں برسرعام عام وخاص بول دیتے ہیں۔ نہ تو ان کو پہلے سے لکھی ہوئی تقریر کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی وہ ایسا کرنا مناسب سمجھتے ہیں، ہماری یہ تحریر جو آپ تک پہنچی ہے یقین جانیں اسے تنقیدی نظروں سے پڑھنے اور پرکھنے کے بعد ہی قابل اشاعت سمجھا گیا ہے، وہ زمانہ گیا جب جچے تلے لفظوں سے پھول جھڑتے تھے اب تو عالم تقریر دیکھ کرہم یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ

ہر کوچہ ہے ساکت ہر اک سڑک ویراں

ہمارے شہر میں تقریر کر گیا ہے کون

متعلقہ خبریں