Daily Mashriq


حکومت کا معاشی اصلاحاتی ایجنڈا

حکومت کا معاشی اصلاحاتی ایجنڈا

مالی مشکلات پر قابو پانے کیلئے ہمیں ہر دفعہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جانا پڑتا ہے، کیا پاکستان کی طرح دیگر ممالک بھی ایسے ہی آئی ایم ایف کے شکنجوں میں پھنسے ہوئے ہیں جس طرح ہم پھنسے ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا راستہ ہے کہ ہمیں اپنے مالیاتی خسارے پر قابو پانے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے اور یہ کہ پاکستان ایک ایسا ماحول کیوں پیدا نہیں کر سکتا جس میں دنیا بھر سے مقابلہ کرنیوالی کمپنیاں شرکت کر سکیں۔ لیکن ایک مثبت سوچ یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے ادارے ایسےincentives مہیا نہیں کرتے جس سے ایک کمپٹیٹو مارکیٹ کی بنیادر رکھی جا سکے۔ اس کی بجائے یہ ادارے ریاستی سرپرستی کو زیادہ اہم بنا کر دکھاتے ہیں چاہے ایسا کرنے سے ایک بڑی صنعتی ترقی کے مواقع ہی کیوں نہ ختم ہو جائیں۔ پاکستان میں عام طور پر اس طرح کے مسائل کو قابل توجہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بھی پاکستان معاشی لحاظ سے مشکلات میں پھنس جاتا ہے تو اسے بیرونی قرضوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن معاشی مسائل کی اصل وجوہات کو ختم کرنے کی بجائے نئے مسائل کا راستہ کھول دیا جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ بجھا دی جائے لیکن گیس لیک کا حل نہ نکالا جائے۔ سب سے پہلے یہ سمجھا جائے کہ ادارے ہمارے اجتماعی رویہ پر کیسے اثرانداز ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ڈگلس نارتھ نے 1990 میں اپنی کتاب میں لکھا، ادارے اصل میں گیم کے اصولوں کا نام ہوتا ہے۔ کرکٹ کی مثال لے لیں۔ بہت سے اصول متعین کر دئیے گئے ہیں جن کے مطابق کوئی شخص کرکٹ کھیلتا ہے۔ یہ ادارے اس لئے اہم ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر سوسائٹی قائم نہیں رہ سکتی لیکن ہر ملک میں اصول مختلف ہوتے ہیں اور ہر ملک کی معاشی صورتحال کو سمجھنے کیلئے اس ملک کے اصولوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ہم انہیں معاشی اور سیاسی اداروں میں الگ الگ کر سکتے ہیں۔ معاشی ادارے ہمارے معاشی معاملات جیسا کہ جائیداد اور ملکیت کے حقوق سے متعلق ہیں جبکہ سیاسی ادارے ملک کے سیاسی ڈھانچے سے متعلق ہیں جن کا کام یہ طے کرنا ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت مستحکم ہے یا نہیں۔ ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے سیاسی اور معاشی اداروں کو اپنایا جائے اور یہ ہمارے معاملات پر اثرانداز ہو کر ہمارا ایک رویہ ترتیب دیتے ہیں۔ incentives ہمارے معاشرے کے معاملات کے ابتدائی عوامل کی سمجھ بوجھ کا نام ہے۔ اس کا تعلق معیشت سے نہیں سیاست سے ہوتا ہے۔ خوشحالی کا تعلق معاشی اداروں سے کم اور سیاسی اداروں سے زیادہ ہے۔ جیساکہ رابنسن اور ایسیموگلو کہتے ہیں جو لوگ سیاسی اداروں پر کنٹرول رکھتے ہیں وہی معاشی اداروں کو بھی چلاتے ہیں۔ اگر سیاسی اقتدار کسی محدود ایلیٹ طبقہ کے پاس ہے تو وہ ایسے معاشی ادارے قائم کریں گے جن کا صرف انہی کو فائدہ ہو نہ کہ اکثریت کو فائدہ پہنچایا جائے۔ ہمارا نظام محض چند سیاسی کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور بزنس طبقہ کیلئے مناسب اور فائدہ مند حالات پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں دکھاتا۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے خطے کے بیشتر ممالک نے نہ صرف اپنی پیداوار بڑھائی بلکہ اپنے مزدوروں کا معیار زندگی بھی بہتر کر دیا جس کی وجہ سے ان لوگوں کی صنعت کی طرف توجہ کم ہونے لگی۔ اگر گروتھ کیلئے زمینی اصلاحات اہم ہیں تو کیا پاکستان کبھی ایک بامقصد طریقے سے ایسی اصلاحات کا نفاذ کر پائے گا؟ اس طرح کی اصلاحات لانے کی کوششوں کے باوجود پاکستان میں کوئی خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی ہے اور 10ملین ایکڑ سے زیادہ زمین اب بھی کرایہ پر موجود ہے جبکہ اوسط فارم سائز 6ایکڑ کے قریب ہے۔ ساؤتھ کوریا میں فارم کے سائز میں اضافہ کے باوجود اس کی وسعت (2005 کے مطابق) محض 3اعشاریہ 5ایکڑ تک پہنچ پائی ہے۔ اگر ہم اس بات پر اتفاق کر بھی لیں کہ پاکستان کو اصلاحات کی ضرورت ہے تو کیا ہم اس طرح کی اصلاحات کو یقینی بنا سکتے ہیں خاص طور پر اس صورت میں جب ان فارمز کا ہولڈ ایسے لوگوں کے پاس ہو جو سیاسی پارٹیوں اور اداروں پر اثر ورسوخ رکھتے ہوں؟دوسرے کو شاید ایسا دکھائی دے کہ یہ ملک کمزور معاشی پالیسیوں کا شکار ہے، کرپشن کا شکار اور ایک بہترین صنعتی بیس کے قیام میں ناکام ہے لیکن یہ سب خرابیاں ہمارے سیاسی اور ادارتی ڈھانچوں کی کمزوری کی علامت ہیں جس میں صرف حکومتی طبقہ کو فائدہ پہنچتا ہے اور باقی سب نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔ اداروں کیساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی معاشی معاملات پر اثر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ میکرو اکنامک استحکام کی خاطر ہمیں آئی ایم ایف پروگرام کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ سٹاک مارکیٹ بہتر ہو جائے اور خسارہ بھی کم ہو جائے، ٹیکس بڑھ سکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم آئی ایم ایف کو گڈ بائے کہنے کا بیان جاری کر دیتے ہیں لیکن ایک دن پھر اسی در پر آنا ہمارا مقدر ٹھہرتا ہے۔اگر نئی حکومت اس نظام کو بدلنا چاہتی ہے اور پاکستان کو ایک خوشحال ملک بنانے میں مخلص ہے تو اسے سیاسی اختیارات کی تقسیم اور سیاسی اداروں پر نظر ڈالنا ہوگی کیونکہ یہی دو عوامل ہی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر یہ حکومت اکنامک فرنٹ پر خاطرخواہ بہتری لانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس ٹرانسفارمیٹو شفٹ کے نتیجہ میں خوشحالی کا راستہ ہموار ہو جائیگا اور یہ ہماری تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

متعلقہ خبریں