افغان مسئلے پر پاک امریکہ بات چیت

افغان مسئلے پر پاک امریکہ بات چیت

وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے افغانستان میں پاکستان کے کردار کے بارے میں مثبت رویئے کاا ظہار کیا ہے ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عالمی رہنمائوں کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا گیا ۔ اس موقع پر ہونے والی ملاقات کے حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ امریکی صدر سے ملاقات میں پاک امریکہ شراکت کے تسلسل کے بارے میں مثبت رویئے کا اظہار کیا ۔ دوسری جانب ایک امریکی اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان کے پاس محاذ جنگ پر استعمال ہونے والے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کی قربانیوں کو نہیں سراہتا اورالزامات عاید کئے جاتے ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک پاک امریکہ تعلقات کا تعلق ہے ، یہ ہمیشہ سے اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں ، سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان امریکہ کی آنکھ کا تارا اور انتہائی قریبی اتحادی رہا ہے ، پاکستان نے پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں امریکہ کو ایک ائیر بیس قائم کرنے اور وہاں سے سابق سوویت یونین کی امریکی یوٹو طیاروں کے ذریعے جاسوسی میں جو تعاون کیا تھا اس کی وجہ سے اس وقت کی روسی قیادت نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ دائرہ لگا کر دھمکی دی تھی کہ ضرورت پڑنے پر پشاور کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے اور اپنے مربی بھارت کو جدید اسلحہ دے کر پاکستان کے خلاف لا کھڑا کیا تھا جبکہ 1965ء کی جنگ میںامریکہ نے تو پاکستان کو طیاروں اور ٹینکوں وغیرہ کے فاضل پرزوں کی فراہمی سے انکار کیا تھا مگر روس نے بھارت کی ہر طرح سے مدد کی تھی ، اس کے بعد پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات بتدریج سرد مہری کا شکار ہوتے چلے گئے ۔ یہ تعلقات ایک بار پھر اس وقت بہتری کی جانب گامزن ہوئے جب جنرل یحییٰ خان کے دور اقتدار میں چین کے ساتھ امریکی تعلقات کی بحالی کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ، تاہم اس کے بعد ایک بار پھر 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں امریکہ نے در پردہ پاکستان کو دولخت کرنے کا مذموم کردار ادا کیا حالانکہ جنگ بندی کے حوالے سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ امریکی بحری بیڑہ پاکستان کو مدد دینے کیلئے روانہ کر دیا گیا ہے ، جو صریح جھوٹ پر مبنی اطلاعات تھیں اور نتیجے میں بھارت نے پاکستان کو دولخت کر کے بنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموار کی ۔ اس کے بعد دونوں ملکوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک با ر پھر تلخی کا شکار ہوئے ۔ جبکہ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر نصف پاکستان میں برسر اقتدار آنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے بھارتی جوہری دھماکے کے بعد پاکستان کو ایٹمی پروگرام کی راہ پر ڈالا ،اور او آئی سی کو فعال بناتے ہوئے سعودی شاہ فیصل کی قیادت میں اسلامی ممالک کوا کٹھا کر کے خلیجی تیل کی قوت کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف شاہ فیصل کو شہید کروایا گیا بلکہ اس دور کے امریکی وزیر خارجہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو نشان عبرت بنانے کی دھمکی دی۔ اسی دور میں افغانستان پر سوویت یونین کی چڑھائی کے بعد امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت پڑی اور روس سے ویت نام میں امریکی شکست کا بدلہ لینے کیلئے امریکہ نے افغانستان میں پراکسی وار شروع کرانے کیلئے پاکستان کو استعمال کیا ، مگر روسی افواج کی شکست اور افغانستان سے واپسی کے بعد افغانستان کے اندرونی حالات کی درستی پر توجہ دینے کے بجائے حسب عادت امریکہ نے آنکھیں بند کر کے واپسی کی پالیسی پر عمل کیا جس سے افغانستان کے اندر خانہ جنگی نے جنم لیا ، اور پھر ایک خاص سازش کے تحت نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تو امریکہ نے افغانستان پر یلغار کر کے نیٹو افواج کی مدد سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ، تب سے اس کی افواج نہ صرف وہاں بیٹھی ہوئی ہیں بلکہ سابق صدر باراک اوبامہ کے وعدوں کے برعکس صدر ٹرمپ نے امریکی افواج میں کمی کے بجائے اضافے کی پالیسی اپنالی ہے اور بھارت کو افغانستان میں خاص کردار ادا کرکے پاکستان کو دوبارہ ڈومور کے تقاضوں کے ذریعے زچ کرنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے ، دراصل امریکہ افغانستان سے واپس جانے کے بجائے افغان جنگ کو پاکستان کی سرزمین کے اندر لا کر اپنے اصل مکروہ اور مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے اور وہ ہے ہر صورت میں پاکستان کے جوہری اثاثوں پر قبضہ کر کے اسے بہانے سے عالمی قبضے میں لینے ، سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کر کے چین کی پیش رفت کو روکنے بلکہ اس ضمن میں بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر کے پاکستان کو مزید کمزور کرنے کی کوششیں کرنا ، اس لئے وزیرا عظم کو صدر ٹرمپ کے ظاہری رویئے سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے امریکی حکومت کی تبدیل ہوتی ہوئی پالیسی پر توجہ دینی چاہیئے جس میں پاکستان کیلئے کوئی خیر نہیں ہے ۔

اداریہ