امن کی جیت

امن کی جیت

شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں یونس خان کرکٹ سٹیڈیم میں گزشتہ روز منعقد ہونے والے کرکٹ میچ میں ، جو یو کے میڈیا الیون اور قومی کرکٹ کھلاڑیوں کے مابین کھیلا گیا ، اور جس میں قومی کھلاڑیوں شاہد آفریدی اور انضمام الحق نے چوکو ں اور چھکوں کی بارش کر دی تھی ، عوام نے نہایت دلچسپی کا اظہار کیا اور عوام کے جوش و خرو ش نے دنیا پرو اضح کر دیا کہ جہا ں کچھ ہی عرصہ پہلے دہشت گرد موجود تھے وہاں پاک افواج کی مساعی سے اب امن قائم ہو چکا ہے ، یوں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ امن جیت گیا اور دہشتگردی کو شکست ہو چکی ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میچ کے انعقاد کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم ثابت قدم رہ کر مشکلات پر قابو پانے والی قوم ہیں ، اور آج دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی مشکل وقت میں ثابت قدم رہتے ہیں ۔ میران شاہ میں برطانوی میڈیا کی ٹیم کی آمد اور وہاں پر نہایت خوشگوار اور گرمجوش ماحول میں میچ کے انعقاد سے عالمی سطح پر یقینا نہایت مثبت پیغام دیدیا گیا ہے اور اب دنیا پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے منفی تبصروں سے نہ صرف گریز کرے گی بلکہ جب برطانوی میڈیا ٹیم واپس جائے گی تو ان کی وساطت سے پاکستان کے بارے میں ایک خوشگوار تاثر پیدا ہوگا ۔ اس میچ سے نہ صرف پاکستان میں امن کے قیام کی خبریں عالمی میڈیا میں جگہ پائیں گی بلکہ کرکٹ کے حوالے سے مثبت اشاروں میں مزید اضافہ ہوگا اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں عالمی کرکٹ کی واپسی کیلئے جو اقدامات شروع کر رکھے ہیں ان پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے اور دنیا کی دوسری مضبو ط ٹیمیں بھی پاکستان کے کرکٹ میدانوں کا رخ کریں گی ۔ اس لئے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی اور دوسرے اہم حکام ملک کے دوسرے بڑے شہروں کراچی ، راولپنڈی ،اسلام آباد ، پشاور ، ملتا ن فیصل آباد ، حیدر آباد اور کوئٹہ کے کرکٹ میدانوں کو سجانے پر بھی بھرپور توجہ دیں اور ان شہروں میں بھی سیکورٹی کے معاملات کو درست کریں تاکہ ملک کے دیگر شہروں کے عوام بھی کرکٹ سے لطف اندوز ہو سکیں ۔
قومی حکومت ۔ ایک شوشہ یا ۔۔۔۔؟
پانامہ لیکس کے حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کے خلاف تحقیقات اورعدالت عظمیٰ میں کیس کی شنوائی کے ہنگام ہی ملک میں قومی حکومت کے قیام کے حوالے سے چہ مگوئیاں ابھر تی رہی ہیں اور تین سال کی مدت کیلئے ٹیکنوکریٹس کے ذریعے ملکی معاملات کو آگے بڑھانے ، آئین میں مبینہ طور پر ضروری ترامیم کرنے کرپشن میں ملوث افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا نے کے بعد نئے انتخابات کے انعقاد کی اطلاعات گردش کرتی رہی ہیں بلکہ اب جبکہ نواز شریف کی نااہلی کافیصلہ سامنے آچکا ہے اور ان کی نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے یہ افواہیں اسی طرح ملک کے طول و عرض میں گونج رہی ہیں ، تاہم قومی حکومت قائم کیسے ہوگی کیونکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جبکہ بعض سیاسی رہنماء بھی ان افواہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا بر ملا اظہار کر رہے ہیں جن سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس طرح کی کھچڑی شاید پک رہی ہے ۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو کے تازہ بیان سے ان افواہوں کو مزید تقویت مل رہی ہے ، انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل کی مخالفت کریں گے ، اداروں کے مابین ٹکرائو جمہوریت کیلئے نقصادن ہ ہے ، چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں ۔ سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے اہم قومی مسائل نظر انداز ہوئے ۔ پختون حقوق نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے پس پردہ عزائم جاننا چاہتے ہیں ۔ آفتاب احمد خان شیرپائو کے قومی حکومت کے قیام کی مخالفت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ آئین سے ماورا کسی بھی قسم کے اقدام سے اداروں کے درمیان کے درمیان ٹکرائو کی صورتحال جنم لے گی ۔ اور اس قسم کی صورتحال موجودہ سیاسی حالات خصوصاً عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف جنم لینے والی ریشہ دوانیوں کے تناظر میں کسی بہتری کی جانب اشارہ نہیں کر رہی ہے ، اس لئے اب جبکہ حکمران جماعت نے اندرونی مسائل پر قابو پاتے ہوئے وزیراعظم کے منصب پر شاہد خاقان عباسی کی تقرری کر دی ہے اورعام انتخابات میں بھی بہت کم عرصہ رہ گیا ہے تو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے گریز کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور قومی حکومت کا شوشہ ملکی حالات کو مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے ۔

اداریہ