پاکستان کی سفارت کاری کیلئے چیلنج

پاکستان کی سفارت کاری کیلئے چیلنج

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خطاب سے قبل امریکہ کے نائب صدر مائیکل پینس نے پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔ مائیکل پینس پاکستان مخالف امریکی سیاستدانوں میں شمار کیے جاتے ہیں تاہم انہیں یہ شہرت بھی حاصل ہوئی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا عملی نفاذ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ 45منٹ کی اس ملاقات کے بعد پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے اس ملاقات کو اچھی ملاقات قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ملاقات میں برف ٹوٹی ہے ۔ یہ برف صدر ڈونلڈٹرمپ کے افغانستان اور علاقے کے بارے میں پالیسی کے اعلان کے بعد صاف نظر آ رہی تھی۔ پاکستان نے امریکی اہل کاروں سے پہلے طے شدہ ملاقاتیں بھی ملتوی کر دی تھیں اور حال ہی میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے پاکستان کی نان نیٹو اتحادی کی حیثیت ختم کی تو اس کا نقصان امریکہ ہی کو ہو گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور علاقے کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کا اعلان جولائی کے اواخر میں کیا تھا تاہم اس پالیسی کے تحت امریکہ کا سخت رویہ فوری نظر نہیں آیا۔ البتہ 15ستمبر کو امریکہ نے ایک ڈرون حملہ کیا۔ اس پر حکمران مسلم لیگ کے سابق وزیر داخلہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید بھی کی تھی اور کہاتھا کہ اس حملے کی زبانی مذمت بھی نہیں کی گئی ۔ تاہم اس دوران پاکستان کی طرف سے امریکی اہل کاروں کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ملاقاتیں ملتوی کرکے نئی امریکی پالیسی پر ناراضگی کے اشارے بھی دیے گئے۔ اس ماحول میں نائب امریکی صدر مائیکل پینس کی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات میں یقینا دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کی کیفیت کا جائزہ لیا گیا ہو گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ اکتوبر میں امریکہ کا ایک وفدپاکستان کادورہ کرے گا یعنی پاک امریکہ رابطے جاری رہیں گے۔اکتوبر میں پاک امریکہ مذاکرات کن موضوعات یا شرائط کے حوالے سے ہوں گے اس کا کچھ اندازہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے بیان سے ہوتا ہے جو انہوں نے پاکستانی وفد سے ملاقات ملتوی کرنے کے بعد جاری کیا ہے ۔ انہوں نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے تحت افغانستان میں امریکی فوج میں اضافہ کے اعلان کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں جیت نہیں سکتے اس لیے انہیں چاہیے کہ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کریں۔صدر اشرف غنی کی افغانستان میں امریکی فوجوں میں اضافے کی حمایت سے ظاہر ہے کہ وہ امریکہ کے اس نقطہ ٔ نظر سے اتفاق کرتے ہیں کہ افغان طالبان کو فوج کشی کی دھمکی یا فوج کشی کے ذریعے مذاکرات تک لایا جائے ۔ فرض کیجئے امریکہ طالبان پر فوجی کشی کا آپشن استعمال کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح طالبان کو ملیامیٹ کرکے افغانستان میں اپنی مرضی کا امن قائم کر سکتا ہے تو اس حوالے سے امریکہ کا سابقہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ طالبان حکومت کو ختم کرنے کے باوجود طالبان اور طالبان کا نقطہ ختم نہیں ہواآج تک قائم اور موثر ہے۔اگر اس علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی گئی تو اس سے طالبان کی سوچ ختم نہیں ہو گی بلکہ سارے افغانستان میں سرایت کر جائے گی۔ اس لیے افغانستان کو کشت و خون سے بچانے کے لیے صدر اشرف غنی کو پہل قدمی کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں خود ایسے مذاکرات کے لیے طالبان کو دعوت دی جانی چاہیے جن میں طالبان کے نقطۂ نظر کو مناسب اہمیت دی جائے۔ امریکہ کی طرف سے فوج کشی کے آپشن کا دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر جنگ شروع ہو جانے کے باعث وہاں سے افغان مہاجرین ایک بار پھر پاکستان آئیں۔ لیکن اس بار پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ جو افغان پہلے سے پاکستان میں موجود ہیں ، ان کی وجہ سے پاکستان میں سیکورٹی کے مسائل ہیں اور معاشرتی اور معاشی مسائل الگ ہیں۔ اس کے لیے پاکستان نے یک طرفہ طور پر پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی کا کام شروع کیا ہے جس میں سے تقریباً آدھی سرحد پر یہ کام مکمل بھی ہو چکا ہے ۔ افغانستان کو افغانوں سے خالی کرانے کا منصوبہ اب کی بار کامیاب نہیں ہو سکے گا اور یقین کیا جا سکتا ہے کہ افغان افغانستان ہی میں زندگی یا موت کی لڑائی لڑیں گے۔ امریکہ کا جو وفد مائیکل پینس اور شاہد خاقان عباسی کی ملاقات کے نتیجے میں اگلے ماہ پاکستان آنے والا ہے اسے اس بات پر قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ افغان طالبان ایک حقیقت ہیں جو کوئی ریاست نہ ہوتے ہوئے بھی افغانوں میں مقبول ہیں۔ ان کی اپنی ایک تنظیم ہے اور اپنا نقطۂ نظر ہے اور اپنے وسائل۔ یہ توقع کرنا کہ پاکستان کے کہنے پر وہ امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے ایک فضول خواہش ہے۔ اسے ترک کرکے ایسے مذاکرات کا انعقاد ہی بامقصد ہو سکتا ہے جس میں فریقین کو اپنے اپنے نقطۂ نظر کی پذیرائی کی توقع ہو۔ اس امریکی وفد کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ افغانستان میں بھارت کو وسیع کردار عطا کرنا خطے میں امن کو تہ و بالا کرنے کی کوشش ہو گا ۔ بھارت پہلے ہی خفیہ کاری کے ذریعے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے جہاں اس کے سرمائے اور اسلحہ سپلائی کے بل پر پاکستان مخالف تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں عناصر روپوش ہیں۔ بھارت اس سے فائدہ اُٹھا کر افغانستان میں بدامنی برقرار رکھنے ' اسے فروغ دینے اور خطے کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان کی سفارت کاری کے لیے اکتوبر کے پاک امریکہ رابطے اہم چیلنج ہوں گے۔

اداریہ