Daily Mashriq


اور پھر میں لٹ گیا

اور پھر میں لٹ گیا

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے یہ بات آج سے سالہا سال پہلے ہماری زندگی کے معمولات میں مشینوں کی دخل اندازی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کودیکھ کر کہی تھی۔ لگتا ہے کہ وہ زندگی کی معمولات میں مشینوںکا عمل دخل کو دیکھ کر عالم حیرت و تشویش میں مبتلا ہوکر کہنے لگے تھے کہ 

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

سچ پوچھیں تو عہد حاضر کا انسان نت نئی مشینوں کی بھیڑ میں پھنس کر رہ گیا ہے۔اگر آج نظیر اکبر آبادی زندہ ہوتے تو انسانی زندگی معمولات میں مشینوں کا عمل دخل دیکھ کر اپنی طویل اور شہرہ آفاق ' نظم آدمی نامہ' لکھنے کی بجائے مشین نامہ لکھنے بیٹھ جاتے اور بے اختیار ہوکر کہہ اٹھتے کہ :

جو گھانس کاٹتی ہے سووہ بھی ہے اک مشین

جو آٹا گوندھتی ہے وہ بھی مشین ہے

جو کپڑے دھور ہی ہے وہ بھی ہے اک مشین فریزر اک مشین ہے تو فریج بھی ہے مشین

جوسر بھی مشین ہے تو، مکسر بھی ہے مشین

چلتی کا نام کہتے ہیں سب لوگ ہے گاڑی

تھی گاڑی کل تلک جووہ بھی مشین ہے

کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے کہ مشین چاہے لاکھ مشین ہو، مشین ، مشین ہی ہوتی ہے ۔وہ آدمی کا حکم مانتی ہے اس کے تابع رہتی ہے۔حق راستی کی بات عرض کروں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کرلے وہ مالک کن فیکون کی بنائی ہوئی اس چلتی پھرتی ہنستی مسکراتی اور بولتی چالتی مشین کی تابع ہوتی ہیں جس کو آدمی یا انسان کہا جاتا ہے۔ وجود انسانی ایک مشین ہی تو ہے۔ ایسی مشین جس کا بدل یا ثانی پوری کائنات میں نہیں ملتا۔یہ بات بعید از حقیقت نہیںکہ دنیا میں موجود ساری مشینیں انسانی دماغ ہی کے دم قدم سے وجود میں آئیں ۔انسانی دماغ کے آگے دنیا جہاں کی ساری مشینیں اپنا دم توڑ بیٹھتی ہیں۔کسی ترقی یافتہ ملک سے منسوب یہ واقعہ ہے کہ کی اس کی گلیوں اور بازاروں میں بوٹ پالش کرنے کے لئے مشینیں نصب کی گئی تھیں۔ کہتے ہیں کہ بوٹ پالش کروانے والا اس مشین میں اپنا ایک پاؤں ڈالتا ، اور وہ مشین اس کا بوٹ پالش کردیتی ، لیکن دوسرا بوٹ اس وقت تک پالش نہ کرتی جب تک ایک مخصوص رقم کا سکہ مشین میں ڈال نہ دیا جاتا ۔ جب اس بات کا علم یار لوگوں کو ہوا تو انکی کھوپڑی کے کمپیوٹر نے ان کو ایسی ترکیب بتائی کہ وہ ایک مشین سے اپنے ایک پاؤں کا بوٹ پالش کروالیتے اور پھر کچھ قدم آگے چل کر دوسراپاؤں کسی دوسری مشین میں ڈال کر دونوں بوٹ مفت ہی میں پالش کروالیتے۔ اللہ جانے ایسے کتنے ہی مفت خورے ہیں جن کی کھوپڑی میں نصب کمپیوٹر ان کو ایسی ایسی حرکات پر اکساتے رہتے ہیں ۔ آئے دن بنکو ں میں پڑتی ڈکیتیاں ، اے ٹی ایم روبری چوری چکاری ، لوٹ مار جیسی متعدد وارداتیں اس بات کی گواہی دینے کے لئے کافی ہیں کہ انسانی ذہن کے آگے مشینوں کی یہ حکومت ہیچ ہے۔پشاور بدر ہونے کے بعد آج کل راقم السطور واپڈا ٹاؤن تاروجبہ میں سکونت پذیر ہے ۔ چند دن پہلے جب اسے جیب خرچ کے لئے کچھ رقم کی ضرورت پڑی تو اس نے اے ٹیم کارڈ اٹھایا اورموٹر سائیکل سوار ہوکر پبی میں ایک بینک کے اے ٹی ایم کے پاس پہنچ گیا۔ اے ٹی ایم سے باہر کچھ لوگ پہلے ہی سے موجودتھے ۔ انہوں نے پشتو زبان میں بڑی سعادت مندی سے ' ' آئیے حاجی صاحب ''۔ کہہ کر مجھے اے ٹی ایم استعمال کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے میرے عہد پیری کا اتنا لحاظ کیا ہے کہ اپنی باری تک مجھے دے دی ۔ میں اے ٹی ایم کارڈ لیکر اے ٹی ایم کے کیبن میں داخل ہوا۔ مگر یہ کیا ۔ اے ٹی ایم کے کیبن سے باہر کھڑے چارپانچ آدمیوں میں سے دو بندے کیبن میں داخل ہوگئے ۔ اور راقم السطور کوکہنے لگے کہ یہ اے ٹی ایم بڑا سست ہے ۔ پاکستانی ہے نا اس لئے۔ آپ ایسا کریں کہ پہلے اپنا کوڈ لگا کر یہ دیکھیں کہ آپ کے اکاؤنٹ میں کل کتنی رقم ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔ میں لمحہ بھر کے لئے مبہوت ہوکر ان کی ہدایات پرعمل کرنے لگا۔ انہوں نے دو تین بار مجھ سے میرا خفیہ کوڈ استعمال کروایا۔ شاید ان کے پاس کوئی خفیہ کیمرہ تھا یا کوئی اور ایسی ڈیوائس جس سے میرا خفیہ کوڈ لیک ہوگیا ۔ رقم نکالنے کی دوتین بار ناکام کوشش کرنے کے بعد اے ٹی ایم مشین نے میرا کارڈ ضبط کرلیا ۔ اف خدایا اب کیا کیا جائے ۔ کارڈ تو ضبط ہوگیا۔ میں کسی سے شکایت بھی تو نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ آج اگست کے مہینے کی 27تاریخ ہے اور اتوار کا دن ہے ۔ بنک کے دروازوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ آج ہفتہ وار چھٹی ہے۔ میں پیر کے دن بنک جاکر اے ٹی ایم مشین سے اپنا کارڈ نکلوا لوں گا یہ سوچ کر میں اپنے موٹر سائیکل پر سوار ہوکر واپڈا ٹاؤن ضلع نوشہرہ میں اپنی رہائش گاہ کی جانب دوڑنے لگا ۔ لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی میر ے موبائل میں بنک کی جانب سے اوپر تلے دو ایس ایم ایس پہنچ گئے جن میں مجھے بتایا گیا کہ تمہارے اکاؤنٹ میں سے بیس ہزار روپے ایک بار اور دس ہزار روپے دوسری بار نکال لئے گئے ہیں۔ یہ روح فرسا میسج پڑھنے کے بعد میں اپنی اس کھوپڑی کو پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکا جس میں سے بھوسہ جلنے کی بو آرہی تھی۔ حبیب بنک کی ہیلپ لائن کا نمبر ملاکر اپنا اے ٹی ایم کارڈ بلاک کروالو ۔ جلتی بھنتی کھوپڑی کے اندر کے کمپیوٹر سے آواز آئی جو صرف میں نے ہی سنی اور پھر دوسرے ہی لمحے حبیب بنک کی ہیلپ لائن کا نمبر ملانے لگا۔

متعلقہ خبریں