امریکا کا ڈھنگ پر آنا

امریکا کا ڈھنگ پر آنا

نیو یا رک میں ان دنو ں وزیراعظم پا کستان شاہد خاقان عباسی براجما ن ہیں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س میں شرکت کی غر ض سے نیو یا رک پد ھا رے ہیں چنا نچہ انہوں نے لگے ہا تھوں یہ استفادہ کر ڈالا کہ جنرل اسمبلی کے اجلا س کے لیے آئے ہو ئے عالمی لیڈروںسے ملا قاتیں بھی کرلیں جن میں نائب امریکی صدر مائیک پنس سے ان کی خواہش پر ملا قات کی اور دوران ملا قات جنو بی ایشیا کی صورتحال اور افغان مسئلے کا بھی ذکر چھیڑا جس پر وزیر اعظم پاکستان نے افغانستان اور جنو بی ایشیا کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر سے پید اہونے والی صورت حال کے پس منظر میں پاکستان کی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے مو صوف کو آگا ہ کیا ، جس کے بعد یہ طے پایا کہ افغانستان کے مسئلے پر مذاکر ات کیے جائیں گے اور ایک امریکی وفد اس بارے میں ماہ اکتو بر میں پاکستان کا دورہ کر ے گا اس ملاقات کے بعدکی صورتحال کو مزید خوشگوار بنانے اور یقین دہانی کی غرض سے ٹرمپ نے ناشتے کی میز پر بھی وزیر اعظم خاقان عباسی سے ملاقات کی مذاکرات جا ری رکھنے کا فیصلہ مثبت اقدام ہے اور امریکا نے بھی اس ملا قات میں ڈو مور کا لہجہ استعمال نہ کر کے ڈھنگ میںآنے کی سعی مفید کی ہے ۔ امید تو یہ کی جا سکتی ہے کہ جب وزیر اعظم پاکستان نے قومی سلا متی کمیٹی کے فیصلوں کے بارے میں نائب امریکی صدر کو آگا ہ کیا ہوگا تو ان کو یہ احساس ضرور ہو ا ہو گا کہ پاکستان نائن الیون کے ماحول سے نکل گیا ہے اور وہاں اب جمہو ر کی حکمر انی ہے کوئی فوجی آمرنہیں بیٹھا ہے ، ایک جمہو ری حکومت اور ایک آمر انہ حکومت کا یہ ہی تو فرق ہے کہ جمہو ری حکمران کی نظریں عوام کے فیصلو ں پر ہو تی ہیں اور آمر کے فیصلے اپنی حکمرانی کی خواہشات پر مبنی ہوا کرتے ہیں ۔ جہا ں تک ترقی پذیر ممالک کی سیا ست کا تعلق ہے تو اس میں جذباتیت کا عنصر کو ٹ کو ٹ کر بھرا ہو ا ہے یہ منظر جنو بی ایشیا کے ممالک میں بدرجہ اتم ملتا ہے جیسا کے سابق وزیر داخلہ چودھر ی نثار کوجب سے یہ یقین ہو ا کہ وزیر اعظم کی کر سی پر براجما ن ہونے کاجو خلا ء پید ا ہو گا وہ ان سے پر نہیں کیا جا ئے گا تب سے ان کو مسلم لیگ ن کی قیادت میں غلطیاں نظر آنے لگی ہیں ۔جب تک چو دھری نثار مسلم لیگ ن کے اند ر رہیں گے وہ اسی طر ح اپنے گردے لال بھی کرتے رہیں گے۔ تاہم ان کے لیے انتظار کا مر حلہ تھوڑا ہی رہ گیا ہے ، کیوں کہ یہ بات تو طے ہے کہ وہ اب مسلم لیگ ن کے مو جو دہ سیٹ اپ میں نہیں کھپ سکتے اور نیا سیٹ اپ وہ قوتیں بنارہی ہیں جن کے بارے میں مریم نو از نے کہا ہے کہ حلقہ این اے 120کے انتخابا ت میں مقابلہ ان امیدواروں سے ہی نہیں تھا جو اس میں حصہ لیرہے تھے بلکہ نا دیدہ قوتو ں سے بھی تھا۔ کہا جا تا ہے کہ انہی نا دیدہ قوتو ں نے ہی جو الیکشن کے روز سرگرم بھی نظر آتی رہیں مذہبی نا م کی پر چیاں چسپا ں کر کے جماعتوں کو جنم دلو ایا اور پھر مقابلے میں کھڑ ا بھی کر دیا ۔ ان نو مولود جماعتو ں نے قابل ذکر ووٹ لیے اس کی تعریف کرنا چاہیے ، چا ہے وہ کس طور حاصل کیے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ لا ہو ر کے الیکشن میں اپنا نا م چھوڑ گئے مگر اس کا فائدہ کس کو پہنچا یہ تو طے ہے کہ نہ مسلم لیگ ن کو اورنہ ہی تحریک انصاف کو بلکہ اس سے فائدہ میں جماعت اسلامی اور پی پی رہی ۔ چیئرمین بلا ول بھٹو اونچا بولتے ہیں کہ وہ اس مر تبہ پنجاب کو فتح کر لیں گے اور ٹھاٹ سے حکو مت بنائیں گے جس طرح ان کے نا نا جا ن نے ستر کے انتخابات میں پنجا ب فتح کر کے بھارت کو مشرقی پا کستان فتح کر نے کا پو را موقع دیا تھا اللہ نہ کرے ایسے حالات پید ا ہوں لیکن عقل مند وںکو سمجھ آنا چاہیے کہ عوامی منڈیٹ کو سبوتاژکرنے کے نتیجے میں ہی مشر قی پاکستان میں سیاسی بحران پید ا ہو ا تھا۔ بہر حال اب بلا ول پنجا ب کیسے فتح کر یں گے کیا وہ بھی مسلم لیگ ن کے بارے میں نیا زی زبان استعمال کرکے آگے بڑھیں گے ، جماعت اسلا می ان انتخابات میں واحد جما عت تھی جو سب سے زیادہ معمر تھی باقی سب اس کی چھو ٹی بہنیں ہیں ۔ جما عت اسلامی یہ وہ جما عت ہے جس کے بارے میں آج بھی یہ گما ن کیا جا تا ہے کہ اس جما عت میں سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو صحیح بھی ہے ، تجربہ کا ر ہیں اپنے مشن سے سنجید ہ بھی ہیں منظم بھی ہیں لیکن سیاسی جما عتو ں میں پیر فرتو ت ہو نے کے باوجود عوام کے اعتما د سے خالی ہے ، اس کی کیا وجہ ہے یہ تو جما عت کے اکابرین ہی بتا سکتے ہیں کہ برسو ں بر س کی سیا ست کے باوجود ان کا امید وار الیکشن میں اپنی ضمانت بھی نہ بچا سکا ،ادھر سراج الحق یہ ادعا کر تے ہیںکہ آئند ہ انتخابات میں وہ صوبہ پختون خوا میں حکومت بنائیں گے ، اس امر کا امکا ن تو مشکل ہی ہے بلکہ ناممکن ہے ہاںالبتہ وہ یہ دعویٰ کر یں کہ آئندہ حکومت میں بھی وہ شیئر حاصل کریں گے تو بات سمجھ آتی ہے ۔ما ضی میں جب جماعت اسلامی کا نظریا تی سکہ عروج پر تھا اس زمانے میں جما عت اسلا می کا سیا سی اتحاد ایر ے غیرے انداز میں نہیں ہوا کرتا تھا اس کی بنیاد نظریا ت ہی ہو تے تھے ، یہ ہی وجہ تھی کہ جب محترمہ فاطمہ جنا ح نے ایو ب خان کے خلاف صدارتی انتخا ب لڑا تو اس وقت جماعت اسلامی نے محترمہ فاطمہ جنا ح کی حما یت کی جس پر کئی طر ف سے سوال اٹھے کہ ایک نظریا تی جماعت اس اتحا د میںکیو ں شامل ہوئی ہے جس کی جماعت کے اکا برین نے جو اب دیا ، گو کہ اب بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ کے پی کے میں جماعت اسلامی کس نظریئے کی بنا ء پر تحریک کے ساتھ شریک اقتدار ہے جس کا جواب عموما ً امیر جما عت اسلامی سراج الحق یہ کہہ کر دیتے ہیں کہ تحریک کے ساتھ جماعت اسلامی کا اتحاد صوبائی حکومت کے سیکر ٹریٹ کے گیٹ تک ہے یعنی کسی سیا سی نظریہ کی بنا ء پر نہیں ہے بلکہ سیکرٹریٹ (حکومتی)بنیا د ہے ، اس سے ایک نظریا تی جماعت کا کوئی اور لینا دینا نہیں ہے ۔

اداریہ