Daily Mashriq


کامیابی

کامیابی

دنیا میں ہر شخص کامیابی کا متلاشی ہے سب کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کامیاب زندگی گزاریں مگریہ ذہن میں رہے کہ اگر انسان کی ہر خواہش پوری ہوجائے تو یہ دنیا جنت نہ بن جائے ؟یہ دنیا جنت نہیں بن سکتی انسان کی ساری خواہشات بھی کبھی پوری نہیں ہوتیں کامیابی اور ناکامی کی آنکھ مچولی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے اور زندگی کی شام ہوجاتی ہے رخصتی کا لمحہ آجاتا ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنے کا فن سیکھ لیا جائے !بہت سامنے کی بات ہوتی ہے مگر ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ کامیاب زندگی کے چھوٹے چھوٹے اصول ہوتے ہیں جن پر ہماری نظر نہیں پڑتی ہم غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں مگر اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے مثلاً ہمیں اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت زندگی گزارنی چاہیے دوسروں پر تکیہ کرنے والے زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ناکامیوں کی وجوہات پر غور نہیں کرتے بس دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں اس مشغلے میں یہ اپنی اصلاح نہیں کر پاتے انہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کا خیال ہی نہیں آتا اسی لیے کامیابی ان سے ہمیشہ روٹھی رہتی ہے۔ کسی دانش ور کا قول ہے کہ جو چیز مجھے نہیں مارتی وہ مجھ کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنادیتی ہے زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بس ہمت نہیں ہارنی چاہیے اپنی ناکامیوں کے اسباب پر غور کرتے رہنا چاہیے۔ ان کا حل نکالنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے جب کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑجائے تو ہمت نہیں ہارنی چاہیے دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ دانا لوگ غوروفکر کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مولانا وحیدالدین خان اپنی مشہور زمانہ تصنیف '' کتاب زندگی '' میں لکھتے ہیں:ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی پچپن سالہ زندگی میں ایک بھی ایکسیڈنٹ نہیں کیا۔ ایک بار وہ محفوظ ڈرائیونگ پر لیکچر دیتے ہوئے بولا: مجھے یہ بتانے میں ایک منٹ کا وقت بھی نہیں لگے گا کہ محفوظ ڈرائیونگ کس طرح کی جاتی ہے اس کا طریقہ بہت آسان ہے ڈرائیونگ کے وقت بس یہ بات ذہن میں رکھیئے کہ آپ کے سوا دنیا کا ہر ڈرائیور پاگل ہے اتنی سی بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ پاگل سے لڑنا نہیں ہے بلکہ پاگل سے بچنا ہے پاگل کے مسئلے کا حل اس سے دور رہنا ہے نہ کہ اس کے ساتھ ٹکرانا یا لڑائی جھگڑا کرنا' جو ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو پاگل سمجھ لے وہ دوسروں کی شکایت نہیں کرے گا وہ ساری توجہ خود اپنی طرف لگا دے گا وہ کہیں اپنی گاڑی کو روک لے گا کہیں وہ پیچھے ہٹ جائے گا اور کنارے کی طرف سے اپنا راستہ نکالے گا سڑک کا جو مسافر اس طرح یک طرفہ طور پر ذمہ داری اپنے آپ پر ڈال لے وہ کبھی سڑک کے حادثہ سے دوچار نہیں ہوسکتا ! آپ اس پر غور کیجیے اس ڈرائیور نے ایک لفظ میں زندگی کا راز بتادیا ہے اس کی مراد دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ آپ دوسروں سے کچھ امید نہ رکھیے ساری ذمہ داری خود قبول کیجیے ! ڈرائیور نے جو بات سڑک کے حادثات سے بچنے کے حوالے سے کہی ہے وہی وسیع تر زندگی میں حادثات سے بچنے کے بارے میں بھی درست ہے۔ آپ اپنی زندگی میں یقینی طور پر سماجی حادثات سے بچ سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ آپ یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار بنالیں خالص طبی معنوں میں پاگل انسانوں کی تعداد ساری دنیا میں بمشکل چند فی صد ہی ہوگی مگر دوسرے اعتبار سے ننانوے فی صد انسان امکانی طور پر پاگل ہیں۔ عام حالات میں بظاہر لوگ ٹھیک ٹھاک نظر آتے ہیں مگر جب آدمی کے ذاتی مفاد کا معاملہ آجائے جب اس کی انا کو ٹھیس لگے جب فریق ثانی کی کسی بات پر اس کے اندر غصہ بھڑک اٹھے جب اس کا واسطہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس سے اس کی ان بن ہوگئی ہو تو اس وقت شریف آدمی بھی بدمعاش بن جاتا ہے صحیح دماغ کا انسان بھی پاگل پن پر اتر آتا ہے۔ زندگی کے مسائل ہمیشہ یکطرفہ کاروائی کے ذریعے حل ہوتے ہیں جو لوگ دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کرنا چاہیں آج کی دنیا میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہے کہ وہ بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں اور اسی حال میں دنیا سے چلے جائیں! مشہور و معروف امریکی دانش ور بنجمن فرینکلن کا ایک قول ہے کہ : نکاح سے پہلے اپنی آنکھیں خوب کھلی رکھو مگر نکاح کے بعد اپنی آدھی آنکھ ہمیشہ بند رکھو! یعنی نکاح سے پہلے اپنے شریک حیات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرو کیونکہ تم نے اس کے ساتھ زندگی کا سفر مل کر طے کرنا ہے اسی بات کو کسی نے سادہ طور پر ان الفاظ میں کہا ہے کہ نکاح سے پہلے جانچو اور نکاح کے بعد نبھائو۔دنیا میں کوئی مرد یا عورت مکمل اور غلطیوں سے پاک نہیں ہے کوئی بھی کامل یا معیاری نہیں ہوسکتا اس لیے رشتہ سے پہلے تحقیق تو ضرور کرنی چاہیے مگر رشتہ کے بعد اپنی شریک حیات کی خوبیوں کو دیکھا جائے اس کی خامیوں کو نظراندا ز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اپنے ساتھی کی خوبی کو دیکھاجائے اور کوتاہی کو برداشت کیا جائے عملی طور پر فساد سے بچنے کا یہی ایک ممکن طریقہ ہے اس کے سوا اور کوئی طریقہ اس دنیا میں قابل عمل نہیں ہے اور شاید یہی کامیاب زندگی کا راز بھی ہے!۔

متعلقہ خبریں