Daily Mashriq


صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے

چندروز پہلے پاکستان کے ایک مشہورآسٹر وپامسٹ پروفیسر فضل کریم خان کی ایک پیشگوئی شائع ہوئی تھی جس میں موصوف نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مستقبل کے حوالے سے چشم کشا قسم کی باتیں کی تھیں اور اب جبکہ شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کی نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپیل سماعت کیلئے منظور کر لی ہے تو اس پیشگوئی کی جانب توجہ مبذول ہونا ایک فطری امر ہے۔ محولہ آسٹرو پامسٹ نے اپنی پیشگوئی میں دعویٰ کیاتھا کہ نواز شریف کا ستارہ زحل ہے جو دسمبر 2017ء تک انتہائی مشکلات کا شکار رہے گا ، اور 2018ء میں گردش سے نکل جائے گا ، نااہلی ختم ہو جائے گی ۔ پروفیسر فضل کریم نے مزید کہا کہ حمزہ شہباز ، چوہدر ی نثار اور بیگم کلثوم اکٹھے ہو جائیں گے ۔ نواز شریف کے بارے میں موصوف نے یہ پیشگوئی بھی کی کہ وہ تھوڑے دنوں یعنی تین ماہ دس دن کیلئے جیل جا سکتے ہیں ، اس کے بعد ان کا ستارہ گردش سے نکل جائے گا ، نااہلی ختم ہو جائے گی ۔ اگر2018میں (ن ) لیگ کا نام تبدیل ہوگیا تو بھار ی اکثریت سے جیت جائے گی ۔ پروفیسر نے نواز شریف کے ستارہ زحل کا تذکرہ کیا ہے جو علم نجوم کے ماہرین کے مطابق برج جدی کا حکمران سیارہ کہلاتا ہے اور اس کی خصوصیات تنگ نظری ، خدمت ، سرد مہری اور محنت سے عبارت ہیں ، اور جب ہم نواز شریف کی زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں تویہ چاروں خصوصیات ان کے کردار کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ تنگ نظری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے اسی وجہ سے ان کے بارے میں منتقم مزاج ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں تو یہ ان کے حکمران ستارے کی اہم علامات میں سے ہیں۔ اسی طرح جب وہ کسی کے ساتھ تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان پر سر دمہری یقینا غالب آجاتی ہوگی ۔ اسی طرح خدمت اور محنت ان کی شخصیت کے انتہائی مثبت پہلو ہیں ، انہیں جب بھی موقع ملا انہوں نے ملک وقوم کی بہت خدمت کی ملک میں اہم منصوبے شروع کئے جو مستقبل کیلئے بہت اہمیت رکھتے ہیں ، اور ظاہر ہے یہ کام بغیر محنت کے نہیں ہو سکتا ، یہ الگ بات ہے کہ ان کے اوپر ملک و قوم کی خدمت کے حوالے سے کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں اور انہی الزامات کی وجہ سے انہیں کبھی بھی ان کی حکومت کی مقررہ مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملا اور ہر بار انہیں وقت سے پہلے ہی اقتدار سے محروم ہونا پڑا ۔ اس حوالے سے میرا اپنا ایک شعر ہے کہ 

مشتری برج ہو تو بدھ شدھ ہے

چال الٹی پڑے تو منگل ہے

پروفیسرفضل کریم نے نواز شریف ، نون لیگ اور میاں صاحب کے کچھ ساتھیوں کے بارے میں نئی پیشگوئی کی ہے تو دیکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے کتنے چانسز ہیں ۔ جبکہ دوسرے ماہرین خاموش ہیں اور ان کی جانب سے کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ۔ جہاں تک اس نئی پیشگوئی کا تعلق ہے تو موجودہ حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں یعنی نیب میں عدم پیشی کا شریف خاندان کا ممکنہ فیصلہ اور ساتھ ہی حدیبیہ کیس کا دوبارہ کھلنا ، ساتھ ہی میاں نواز شریف کے انتہائی قریبی اور اہم ساتھی چوہدری نثار علی خان کے تازہ بیانات جن سے ان کی ناراضی کا اظہار ہوتا ہے ، اور شریف خاندان کے اندر پڑی دراڑ یں یہ سب نواز شریف فیملی کیلئے اچھی خبریں نہیں لارہی ہیں ۔اگر چہ پارٹی کے اندر یہ تاثر بھی موجود ہے کہ میاں صاحب قانون کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے عدالتوں سے فرار کی راہ اختیار کرنے کی حکمت عملی تج دیں کیونکہ ماہرین قانون بھی اسی بات کا مشورہ دے رہے ہیں ، لیکن مریم نواز کے حالیہ ٹویٹس اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف اوران کا خاندان آئندہ مارچ تک ملک میں واپس آنے کی سوچ نہیں رکھتے ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ محترمہ کلثوم نواز صحت یاب ہوکر اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے آسکتی ہیں اور اس کے بعد حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس حوالے سے فی الحال وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ لیکن عین ممکن ہے کہ یہاں رہ کر محترمہ کلثوم نواز اپنے دیور شہباز شریف اور پارٹی کے ناراض لیڈر چوہدری نثار کی ناراضگیاں ختم کرنے میں کامیاب ہو سکیں ۔ جہاں تک لیگ (ن) کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے پروفیسر فضل کریم کے مشورے کا تعلق ہے تو اس میں قطعاً شک نہیں کہ بعض اوقات ناموں کی تبدیلی سے جو نحس اور منفی اثرات ہوتے ہیں ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ویسے بھی چونکہ لیگ (ن) میں نون کا تعلق نواز شریف کے نام سے ہے یا اس کا مخفف ہے اس لئے ان کی نااہلی کے بعد اصولاً بھی پارٹی کے نام کی تبدیلی لازمی ہے ،اوراس ضمن میں فرانس کے مشہور حکمران نپولین بونا پارٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ اس دور کے بادشاہ کی فوج کا ایک معمولی سپاہی تھا اور ان کا نام نپولین بونے پارٹ تھا تو ایک نجومی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنے نام بونے پارٹ کو تبدیل کر کے بونا پارٹ کر دے تو ان کی زندگی میں بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے اور اس مشورے پر عمل کر کے جب اس نے بونے پارٹ کو بونا پارٹ کر دیا تو اقتدار کا ہما اس کے سر پر آکر بیٹھ گیا اور وہ فرانس کا حکمران بن گیا ۔ اب یہ میاں نواز شریف پر ہے کہ وہ اس مشورے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اورنحوست کے چکر سے باہر آکر اقتدار کے سنگھا سن پر ایک بار پھر براجمان ہوتے ہیں ۔ بقول بہادر شاہ ظفر

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے

ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا

متعلقہ خبریں