Daily Mashriq

بھارت کا روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ

بھارت کا روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ

اقوام متحدہ کے اجلاس کی سائڈ لائنز پر پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی حامی بھرنے کے فوری بعد بھارت نے ملاقات منسوخ کرکے پاک بھارت عوام کے امن کی امید پر پانی پھیر دیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کی بھارتی ہم منصب سشما سوراج کے درمیان ملاقات مقبوضہ جموں و کشمیر میں3پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور کشمیری مجاہد برہان وانی کی تصویر والے پوسٹل اسٹیمپس جاری کیے جانے کے باعث منسوخ کی گئی۔بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بیان دیا کہ حالیہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان سے کسی بھی طرح کے مذاکرات بے معنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے تعلقات کے نئے آغاز کے لیے مذاکرات کی تجویز کے پیچھے چھپا اس کا ایجنڈا سامنے آگیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کا اصل چہرہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہم منصب سے ملاقات سے معذرت پر حیرانگی کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کی بہتری چاہتا ہے، خبر سن کر افسوس ہوا، لگتا ہے کہ پاکستان کا مثبت رویہ بھارت میں سیاست کی نذر ہوگیا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں آنے والے انتخابات کی تیاری کی جارہی ہے، ہندوستان اپنے خول سے باہر نہیں نکل پارہا ہے۔گزشتہ روز بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائڈ لائن میں باہمی طور پر طے کردہ تاریخ اور وقت پر ہوگی۔خیال رہے کہ اس ملاقات کی درخواست وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے بھارتی حکام کو 2 علیحدہ خطوط میں کی گئی تھی۔ملکوں کے درمیان مذاکرات اور مذاکرات کی دعوت دینا سفارتی آداب کا حصہ ضرور ہے لیکن بھارت کے معاملے میں اس لئے احتیاط کی ضرورت تھی کہ بھارت کا رویہ اور اس کا ماضی میں مذاکرات سے انکار اور فرار معمول رہا ہے۔ نئی حکومت کی عجلت کا مظاہرہ سمجھ سے بالا تر ہے اور عجلت بھی اس طرح کی کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دونوں نے خطوط لکھ دئیے۔ بھارتی قیادت نے پہلے پہل تو حامی بھرنے کا ڈھونگ رچایا اور پھر یکایک مذاکرات اور ملاقات سے انکار کرکے اپنا روایتی چہرہ دہرایا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت دونوں میں تعلقات کو بہتر بنانے میں دیگر بڑی رکاوٹوں کے ساتھ ایک بڑی رکاوٹ ایک دوسرے سے تعلقات پر سیاست کرنا اور عوام کو منفی طور پر ملوث کرنا ہے۔ پاکستان میں عام انتخابات سے بہت قبل ہی ''مودی کا یار'' قسم کے نعرے لگتے رہے جب اس نعرے کے حاملین اقتدار میں آئے تو بھارت کے انتہا پسندوں کو اس پروپیگنڈے کا جواب دینا فطری امر تھا۔ صرف پاکستان ہی میں پاک بھارت تعلقات سیاست کا جذباتی نعرہ اور حصہ نہیں بھارت میں بھی پاکستان دشمنی کا چورن بہت بکتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے پچھلے انتخابات کو بھی پاکستان کے خلاف باتیں کرکے جیتا تھا اور اب بھی وہ مذاکرات نہیں ہونے دیں گے اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایشو بنا دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں چونکہ نریندر مودی اپنی قوم سے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کر سکے ہیں اور وہ بھارت میں آئندہ ہونے والے انتخابات کو ہندو انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہوئے جیتنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کبھی مذاکرات نہیں ہونے دیں گے۔ اسے خطے کے عوام کی بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ پاکستان اور بھارت کے کبھی بھی اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کی توقعات کوشش بسیار کے بعد بھی بر نہیں آتیں۔ اس ضمن میں سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں تو آگرہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے اور عین اعلامیہ کی تیاری کے وقت بھارتی حکومت کا بھارتی شدت پسندوں کے دبائو میں آنے کے باعث معاملے کا تلپٹ ہونے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کی صورت میں ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ موجود ہے جس کے ہوتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مکمل طور پر تو نتیجہ خیز ہونے کی توقع نہیں لیکن اس کے باوجود بھی دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی سعی ہی موزوں راستہ ہے جس کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی سیاسی جماعتوں کو دوسرے ملک کے بارے میں خواہ مخواہ کے انتہا پسندانہ خیالات کے اظہار سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کو عوام اور حکومت دونوں کی سطح پر مذاکرات اور مفاہمت کی وکالت کرنی چاہئے اور عوامی سطح پر ماحول کو سازگار بنایا جائے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان اگر پیچیدگیوں کے باعث معاملات طے کرنے میں مشکلات ہیں تو کم از کم عوام کے درمیان نفرت کی خلیج تو حائل نہ ہو اور حکومتوں کو عوامی دبائو سے بالا تر ہو کر مذاکرات کا موقع تو میسر آئے۔

متعلقہ خبریں