Daily Mashriq


ڈینگی سے نوجوان کی ہلاکت' خطرے کی گھنٹی

ڈینگی سے نوجوان کی ہلاکت' خطرے کی گھنٹی

خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند سالوں سے اس موسم میں ڈینگی کے پھیلائو کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود ڈینگی کی وباء پر قابو پانے کے موثر اقدامات کا نہ ہونا افسوسناک ہے۔ ڈینگی کے پھیلائو روکنے میں ناکامی کو اگر ہلاکتوں کا سبب قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس سال بھی جمرود' پشاور اور دیگر علاقوں سے ڈینگی مچھروں کی موجودگی اور لوگوں کے ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کی اطلاعات تواتر کے ساتھ سامنے آئیں مگر حکام کی جانب سے بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے خطرے کے مزید بڑھ جانے کے خدشات کے باوجود کوئی سنجیدہ مہم نہ چلائی گئی۔ صوابی میں نوجوان کی ڈینگی بخار سے جاں بحق ہونے کی اطلاع اس بناء پر زیادہ تشویشناک ہے کہ ڈینگی اب وہاں بھی پہنچ گیا ہے۔ صوبائی حکومت اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام جس قسم کی غفلت کا ارتکاب کر رہے ہیںاس کی گنجائش نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی اس لئے بھی زیادہ ضرورت ہے کہ خدانخواستہ یہ وبائی صورت اختیار نہ کر جائے۔ صوبے میں ڈینگی وائرس کے پھیلائو اور اس سے بچائو بارے اقدامات کا نہ ہونا ایک طرف کسی ذمہ دار شخص کو اس حوالے سے تشویش بھی نہیں نہ ہی بلدیاتی نمائندے اور ارکان پارلیمان اسی بارے کوئی قدم اٹھا رہے ہیں۔کیا عوام کواس طرح بے یارومددگار چھوڑا جائے گا۔ پنجاب میں جب ڈینگی کی وباء پھیلی تو سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی سے اس قدر موثر اقدامات یقینی بنائے اور اس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا کہ لوگوں نے ڈینگی کے ساتھ طنز اً ان کانام لینا شروع کر دیا تھا۔ مگر ہمارے صوبے میں عوام کو ڈینگی مچھروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اگر صوبے میں ڈینگی کی وباء نہیں تو محکمہ صحت اس بارے وضاحت کیوں نہیں کرتی ۔ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیمیں ان علاقوں میں بھجوا کر مریضوں کے تسلی بخش معائنے کے بعد حقیقی صورتحال کو سامنے کیوں نہیں لایاجاتا۔ ایسا کیا معمہ ہے جو حل نہیں ہوپاتا۔سوائے اس کے کہ صوبائی حکومت سختی سے نوٹس نہیں لیتی اور محکمہ صحت کے عملے کو اس کی پرواہ نہیں ۔بہتر ہوگا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر صحت اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس سنگین سے سنگین تر ہوتے ہوئے مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور ڈینگی کے انسداد کے انتظامات کو یقینی بنانے پر فوری توجہ دے گی۔

متعلقہ خبریں