Daily Mashriq

پاک سعودی تعلقات و تعاون

پاک سعودی تعلقات و تعاون

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا میں تنازعات ختم کرنے اور مفاہمت میں کردار ادا کرنا چاہے گا۔یمن کا تنازع ختم کرانے کے لئے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، مشرق وسطیٰ میں مفاہمت کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، حوثیوں کے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کا ساتھ دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کا بہت احترام کرتے ہیں، پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔دریں اثناء وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب سی پیک میں تیسرا بڑا پارٹنر کے طور پر شراکت دار بنے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میں شراکت داری میں نئی گرم جوشی پیدا ہوئی ہے۔سعودی عرب کو چین کی مشاورت کے ساتھ سی پیک میں شامل کرنا اور گوادر میں آئل سٹی کا قیام دونوں احسن امور ہیں جبکہ اس سے بھی بڑھ کر باعث مسرت امر یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دورے سے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے جس میں بوجوہ رخنہ محسوس ہونے لگا تھا۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ حکومت کے ساتھ تعلقات میں فرق آنے کی وجوہات کیا تھیں اور موجودہ حکومت نے سعودی حکومت کو ایسی کیا یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ تعلقات میں خلل دور کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ بہرحال ایسا ہمسایہ ممالک سے دوری کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نے حوثی باغیوں کے حوالے سے جو اشارہ دیا ہے گزشتہ حکومت نے اس معاملے پر محتاط اور زیادہ مناسب طرز عمل کا مظاہرہ کیا تھا اور پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان اس ضمن میں پارلیمنٹ کو کب اور کیسے اعتماد میں لیتے ہیں یہ دیکھنا ضروری امر ہوگا۔ جہاں تک سعودی عرب کے احترام کا سوال ہے اس سے انکار ممکن نہیں لیکن افسوسناک امر یہ ضرور ہے کہ سعودی حکومت کے پاکستانیوں کے حوالے سے خاص طور پر بعض قوانین امتیازی ہیں جن کو ہماری وزارت خارجہ کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جن خدمات کی انجام دہی اور جو رعایتیں پاکستان کی جانب سے دینے کا اعلان کیاگیا ہے ان کو صرف ریال میں تولنے کی بجائے وہ تمام معاملات بھی طے کئے جائیں جو سعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں' معتمرین اور عازمین حج کو درپیش ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش ہیں۔

متعلقہ خبریں