Daily Mashriq

حکومتی پا لیسی کی ابجھ

حکومتی پا لیسی کی ابجھ

وزیر اعظم عمر ان خان نے سعودی عرب کے دورے سے فوری واپسی کے بعد یہ نوید دی کہ سعودی عرب نے پاک چائنا سی پیک منصوبے میں شراکت دار کی حیثیت سے پیش کش کو قبول کرلیا ہے ، وزیر اعظم کے دور ے سے قبل کا فی حوصلہ افزاء خوش خبریاں سننے کو مل رہی تھیں اور ایسا محسو س ہو رہا تھا کہ خزانہ خالی ہو نے کا دلدر بھی دور ہو جائے گا اور پاکستان کے لیے عمر ان خان کا دورہ سعودی عرب نیک بخت ثابت ہو گا چنا نچہ عوام میں اس دورے کے بارے میں جاننے کے لیے ایک بے کلی سی پائی جا تی تھی ، چنا نچہ اسی اضطرار کو محسوس کر تے ہوئے وفاقی وزیر اطلا عات فواد چودھری نے کہا تھاکہ وزیر اعظم دورے کی کا میا بی کے بارے میں پاکستان جا کر اعلا ن کر یں گے انہو ں نے ان فواہوں کی تردید کی کہ سعودی عرب نو از شریف کی رہائی کے بدلے کچھ کر م کر نا چاہتا ہے ، بلکہ یہ کہا کہ نو از شریف کی وہ حیثیت نہیں ہے کہ کوئی ملک ان کے لیے کچھ کر ے ،حکومت نو از شریف اور ان کے خاندان کو نہ کوئی ڈیل دے گی اورنہ کوئی ڈھیل بلکہ نو از شریف کا اڈیالہ آنا جا نا لگا رہے گا۔حکومت کو خزانہ خالی ہو نے کی وجہ سے جن مشکلا ت کا سامنا ہے اس کے بارے میں اس دورے سے کافی امید تھی کہ خزانہ بھر جائے گا مگر اس حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی البتہ ایک یہ خوش خبری ملی کہ عمر ان خان نے بتایا کہ سی پیک منصوبے میں شراکت دار کی حیثیت سے شاہ سلمان نے شمو لیت کی وزیر اعظم پاکستان کی دعوت قبول کر لی ، گویا یہ خواہش وزیر اعظم پاکستان کی تھی کہ سعودی عرب اس میں شریک ہو جائے ۔ گما ن ہو ا کہ عمر ان خان یہ دعوت ہی دینے تشریف لے گئے تھے مگر اپنی پر یس کانفرنس میں انہو ں نے بات صاف کر دی ، بتایا کہ ان کا عہد تھا کہ وہ تین ما ہ تک بیر ون ملک دورہ نہیں کریں گے مگر شاہ سلما ن نے ان کو مد عو کیا تو وہ سعودی عرب چلے آئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی کتنی قدر ومنزلت کر تا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم جنہو ں نے پاکستانی قوم سے بیر ونی دوروں کے لیے خصوصی طیا رے اور بزنس کلاس میں سفرنہ کر نے کا وعد ہ کیا تھا اس کو بھی توڑا جس کی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ سی پیک کا منصوبہ پاکستان کے استحکا م ، خوشحالی ، ترقی اور دفاعی طورپر بھی مضبوط تر ہونے کا ایک عظیم منصوبہ ہے اوریہ منصوبہ چین کے ساتھ یکطر فہ طور پر نہیں ہے بلکہ دو طرفہ ہے گویا اس کے معاہد ے میں براہ راست دوممالک شامل ہیں اب تیسرے ملک کی معاہد ے میں شرکت کی بات سامنے آئی ہے چنانچہ نا قدین کا موقف ہے کہ پاکستان یا چین اپنے طور پر کسی تیسرے یا چوتھے پارٹنر کو اس منصوبے میں شریک نہیں کر سکتا کیوں کہ اس کے لیے دونو ں کی رضا مندی لازمی ہے ، چونکہ چین کی طر ف سے اس معاہد ے میں سعودی عرب کی شمو لیت کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں آیا ہے ، اس لیے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ پاکستان نے یہ قدم چین کی رضامندی سے اٹھایا ہے یا اپنے طور پر پیشکش کی ہے ۔ بہر حال گزشتہ دنو ں چینی سفیر کی متعد د مرتبہ پاکستانی حکام سے ملا قاتو ں کا سلسلہ دیکھنے میں آیا تھا جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اس موضوع پر چین سے بات چیت ہوئی ہے اسی کے بعد یہ قدم اٹھا یا گیا ہے۔ چونکہ چین ابھی تک خامو شی اختیا ر کیے ہوئے ہے تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس کوکوئی اعتراض نہیںہو گا۔ سعودی عرب کی شمو لیت سے پاکستان کی اقتصادی حالت میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے ، شمولیت کے جو خدوخال سامنے آئیں اس کے مطا بق سعودی عرب پاکستان میں گوادر کے مقام پر تیل کے ذخائر کا شہر آباد کر ے گا جس سے نہ صر ف سعود ی عرب بلکہ اس خطے اور چین کو بھی تیل کی خریداری کے لیے خصوصی سہولیات حاصل ہو جائیں گے ، جبکہ پاکستان کو تیل کی تجا رت میں حصہ ملنے کے علا وہ پاکستان کی معاشی ، اقتصادی ترقی میں بھی تیز تر انقلا ب آسکتا ہے ۔ تاہم تما م منصوبہ بندی میں احتیا ط کی ضرورت ہے کیو ں کہ کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جن میں خاص طور پر بھارت بھی ہے جو سی پیک منصوبے کا مخالف ہی نہیں بلکہ اس کو نا کا م بنا نے کے درپے ہے۔ عمر ان خان کے دورہ سعودی عرب سے واپسی کے بعد پاکستانیوں کو جہا ں سب سے بڑی اوراہم خبر یہ ملی کہ سعودی عرب نے سی پیک منصوبے میں شراکت داری قبول کر لی ہے وہا ں ایک اہم خبر یہ بھی ملی کہ وزیر اعظم عمر ان خان کی طر ف سے نو از شریف کے یا ر مو دی (پی ٹی آئی والے یا ر قرار دیتے ہیں ) کو تنا زعات اوراختلا فات کو پا ٹنے کے لیے پاک بھارت مذاکرات کا آغاز کر نے کی غرض سے وزراء خارجہ کی سطح پر بات چیت کی پیش کش کی تھی ، مو دی نے عمر ان خان کے خط کے جو اب میں مثبت جو اب دیا اور وزراء خارجہ کی ملا قات کو قبول کر لیا ، جو اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س کے دوران نیو یا رک میںہو نا طے پائی ابھی بھارتی وزیر اعظم کے جواب کی روشنا ئی خشک بھی نہیں ہوپائی تھی کہ بھارت سے خبر آگئی کہ وزراء خارجہ کی سطح پر ملا قات اور مذاکر ات کی تجو یز کو بھارت نے رد کر دیا ہے ، اس کی کیا وجہ ہے بھارتی میڈیا نے بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجما ن رویش کما ر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جمو ں وکشمیر پو لیس کے تین جو انو ں کے قتل اوربرہان وانی پر پاکستان کے اسٹامپ جا ری کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے ، ان ذرائع کے مطا بق بھارت نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی ، بھارت جو انو ں کے قتل سے ناراض ہے ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیا ن کو سیا ق وسبا ق سے دیکھا جا ئے تو مذاکرات کی پیشکش کو بھارت نے اسی پیر ائے میں رد کیا ہے جس پیرائے یا موقف کو نو از شریف کے دور میں گڑھ کر بھارت مذاکرات سے فرار ہوتا رہا ہے۔ دراصل عمر ان خان کے پا س تجر بہ کا ر ٹیم کی کمی محسو س کی جا تی ہے ، چنا نچہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ نو از شریف کے دور میں بھارت کی جانب سے کشید گی پیدا کر نے کے عوامل کا جائزہ لے کر کوئی حکمت عملی طے کر تے ۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں