Daily Mashriq

مہاجرت اور قومیت' ایک مشکل بحث

مہاجرت اور قومیت' ایک مشکل بحث

ہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے لئے بنائی۔ انسان کو اشرف المخلوق ہونے کی بناء پر اس کا خلیفہ (نائب) بنا کر یہاں کے امور زندگی کا انچارج بنایا اور اس وسیع کائنات کا نظام چلانے کے لئے انبیاء کرام اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے حتمی اور کامل و جامع دستور و منشور عطا فرمایا۔ جب تک انسانیت اس دستور پر چلتی رہی تب تک کوئی مسئلہ نہ تھا جو حل نہ ہوتا۔ خلفائے راشدین کے د ور سے لے کر عثمانی خلافت تک کسی مسلمان پر خلافت کے زیر نگین کسی ملک و علاقے میں جانے' روزگار و تجارت کرنے اور رہائش اختیار کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ایک سادہ کاغذ کے حصول کے بعد جس میں اس کا تعارف اور آمد کا مقصد اور قیام کی مدت کا تعین ہوتا آزادی کے ساتھ پھرتا رہتا۔ اس دستاویز (Document) کو اس زمانے میں ''تعارف'' اور آج ٹیرف ( Terrif) کہا جاتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی وسعت ظرفی تھی جس کے تحت پوری دنیا میں لوگ آسانی کے ساتھ آتے جاتے تھے۔ پھر جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی تو بادشاہوں نے اللہ تعالیٰ کی زمین کو اپنی جاگیر سمجھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور جو بادشاہ جتنا زبردست اور طاقتور ہوتا تھا اس کی جاگیر اور عمل داری اتنی ہی پھیلی ہوتی تھی۔ اسی ملوکیت کے دور میں اموی خاندان سپین پہنچ گیا اور عباسیوں کے ہارون الرشید بادل سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ اے بادل! تو کہیں بھی بر سے تیرا خراج میرے پاس ہی آئے گا۔ عثمانی خلافت کے زوال کے بعد یورپ کی بیداری نے مسلمان بادشاہوں کی جگہ لے لی اور انگریز کے ذہن کا یہ کمال تو ماننا پڑے گا کہ اس نے جس جس علاقے پر قبضہ کیا وہاں ان کی اجازت کے بغیرکوئی پرندہ بھی پر مارتا تو اس کو خبر ہونا لازمی تھی۔ زمینوں کا بندوبست' مال گزاری' جانچ پڑتال' شناختی کاغذات ہر علاقے کے حال احوال اور انتظامیہ کے لئے ملک ازم اور پٹواری سے لے کر پولیس کپتان اور کمشنرز کا ایسا جال پھیلایا کہ ڈیڑھ صدی تک عالم اسلام سسکتا اور کراہتا رہا۔ اور جب پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے سبب ان کو اپنی نو آبادیوں پر قبضہ رکھنا مشکل ہوگیا تو آزادی دے دی لیکن ایسی صورت میں کہ مسلمان قومیتوں میں بٹ کر رہ گئے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ عثمانی خلافت بحال ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اپنی اپنی ریاستوں میں حکمرانی کا شوق بلکہ عشق اور وہ بھی دیوانگی کی حد تک رکھنے والے ''یار'' خلافت بحال کرنے پر تیار تھے اور نہ ہی ترکوں میں وہ سکت رہی تھی جو خلافت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نتیجتاً عالم اسلام قومی ریاستوں میں تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا۔ اس دوران اگرچہ جمال الدین افغانی جیسے لوگوں نے یہاں اسلام ازم کی تحریکیں بھی چلائیں اور علامہ محمد اقبال جیسی شخصیات نے تو اپنا سب کچھ اس مقصد عظیم پر قربان کردیا۔ عالم اسلام دوبارہ متحد تو نہ ہوسکا لیکن علامہ محمد اقبال کی ولولہ انگیز فکر نے تحریک پاکستان کی بنیادیں ڈال دیں۔اس زمانے میں جب عرب قومیتوں کی بنیاد پر تقسیم ہو رہے تھے مسلمانان ہند نے نظرئیے (اسلام) کی بنیاد پر ہندوستان میں اپنا ملک حاصل کیا۔ پاکستان کا قیام جس نظرئیے پر وجود میں آیا اس کے مطابق دنیا کا کوئی مسلمان اس کی شہریت کے حصول کے لئے درخواست دینے کا اہل ہے اور قیام پاکستان کے بعد کئی ایک شخصیات دیگر ملکوں اور علاقوں سے آئے اور یہاں نہ صرف پاکستان کے شہری بنے بلکہ اعلیٰ عہدوں پر وزارتوں پر فائز ہوئے۔ لیکن پھر نظر یہ پر اعتقاد و عمل کمزور پڑنے لگا۔ مادیات اور دیگر مسائل اور پیچیدگیوں نے مسلمان امت کے درمیان مشکلات کھڑی کردیں۔ عرب خلیجی ممالک میں تیل کی پیدا وار نے ان کے نظریہ اخوت اسلامی کو اس لحاظ سے بہت ضعف پہنچایا کہ وہاں بیسیوں برس رہنے یا پیدا ہونے کے بعدبھی قومیت کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا جبکہ ان ہی عشروں میں جب امریکہ سپر پاور اور یورپ ترقی یافتہ ہوگیا اور ایشیاء و افریقہ سے لاکھوں مہاجر پہنچے تو انہوں نے اس کے لئے ایک قانون وضع کیا کہ یہ ضروریات پوری کرنے کے بعد کسی بھی ملک کا باشندہ امریکہ یا کسی یورپی ملک کا باشندہ بن سکتا ہے۔ امیگزیشن کے قانون میں وقت و ضرورت کے مطابق تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مہاجروں/ ایمگرنٹس ) کو شہریت دینے میں امریکہ کا کوئی ثانی نہیں اور یہ بات مسلمان ممالک کے لئے کسی طعنے سے کم نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو عشروں تک رہنے کے باوجود شہریت دینے کے روادار نہیں ہوتے۔ اس لحاظ سے تو یورپ نے کمال کیا کہ نیشن سٹیٹس کی دنیا میں بنیادیں ڈالنے کے باوجود اپنے ہاں یورپی یونین کی تشکیل کرکے قومیتوں کی ایک لحاظ سے نفی کردی۔ اگرچہ مختلف وجوہات کی بناء پر اس وقت امریکہ اور یورپ میں مہاجروں کو پناہ اور شہریت کے معاملات گمبھیر ہوچکے ہیں لیکن ہم سے پھر بھی بہتر ہیں۔ یہ روداد اس تناظر میں لکھی کہ پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں افغانیوں اور بنگلہ دیشیوں کو پاکستان کی نیشنلٹی دینے کی بات کی۔ معلوم نہیں انہوں نے یہ بات کس تناظر میں کی لیکن اس پر ملک کے اندر بڑی بحثیں جاری ہیں اور ہونی بھی چاہئے۔ کیونکہ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ افغانی مہاجرین کی صورت میں آئے اور ان کی ایک نسل یہاں جوان ہوئی۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں