Daily Mashriq

سوچ کی تبدیلی

سوچ کی تبدیلی

پاکستان کو اپنے مستقبل کی راہ آج متعین کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج تک جن ترجیحات کے علم ہم اپنے ہاتھوںمیں تھام کر اس ملک کی زندگی کی راہ پر گامزن رہے ہیں ، اب ان کے رنگ تبدیل کرنے ہونگے۔ ان کے لہجے بدلنے ہونگے ، ہوسکتا ہے ان ترجیحات کو ہی بدلنا پڑے ۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکیں گے تو آج جو اس ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ چند ہزار روپے کا مقروض ہے ، اس میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے بچوں کے اس ملک میں زندگی گزرانے کے لیے پانی ہی موجود نہ ہو۔ ہوا صاف نہ ہو ، فصلیں نہ اُگتی ہوں ، قحط سالی اور سیلاب معمول کی بات ہوں یہ ممکن ہے کہ ایسا ہو جائے لیکن اگر آج ہم نے اپنے راستے درست منزل کی جانب پھیر لئے تو حالات بدل سکتے ہیں ۔ یہ ملک ایک ایسے مستقبل کو چھولے گا جس میں ہر صبح روشن اور ہر شام روپیلی ہوگی ۔ ایک عرصے تک ہم نے اس ملک کو قدرت کی جانب سے ودیعت کردہ وسائل کی بات کی ہے ۔ اب وہ وقت ہے کہ ہم ان وسائل کی طرف دھیان دیں ۔ ہم سمجھ لیں کہ کسی حکمران سے امیدیں وابستہ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اپنے حصے کا کام کریں ۔ میرے ذمے میرے چاروں بچوں کا جو قرض ہے میں اسے اُتارنے کی کوشش کروں ۔ میں کوشش کروں صرف میرے بچوں کی حد تک یہ قرض نہ بڑھے ۔ میں اپنے حصے کا کام کروں ، کسی کی جانب نہ دیکھوں کہ کوئی اور کام نہیں کرتا تو میں اس کے چھاتے میں سر چھپا لوں اور اپنے حصے کا بھی کام نہ کروں ۔ بات فردواحد تک محدود نہیں رہ سکتی ۔ اب پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ وہ صرف اسلام کا قلعہ ہی نہ تھا بلکہ تجارت کی ایک عظیم الشان راہداری بھی ہے ۔ ایک ایسی راہداری جس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگ جن سے ہم دل ہی دل میں خوفزدہ ہیں ، جنہیں اپنا دشمن تصور کرتے ہیں ،ان سب کے ساتھ کاروباری مراسم استوار کر لیے جائیں ۔ جیسے جیسے ہمسایوں سے بہتر معاشی تعلقات ہونے لگیں گے اور ان کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہو جائینگے ، پاکستان میں معاملات کی درستگی ان کے مفادمیں شامل ہو جائے گی۔ یہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں اپنے وسائل سے بہترین اور بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہمسایوں کے وسائل میں ہماری کیا مدد شامل ہوسکتی ہے۔ ایران کی بندر گاہ چابہار کم گہری بندر گاہ ہے اور گوادرایک گہری بندر گاہ ہے۔ یہ ضروری تو نہیں کہ دونوں بندر گاہیں ایک دوسرے کی تجارت پر منفی طور سے اثر انداز ہوں۔ دونوں بندر گاہیں ایک دوسرے کی مدد گار بندر گاہیں ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ دونوں کی خصوصیات ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو مکمل کردینے میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ جانے کیوں آج تک ہم نے اپنے ذہنوں کو کبھی اس طور تیار ہی نہیں کیا ۔ اب تک ہم نے خود کو ایک قلعہ ہی سمجھا اور اسی طرح مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہمیں اپنا کردار سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یہ جان لینا چاہئے کہ وہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ممالک کے درمیان چھوٹا ترین راستہ ہے۔

پاکستان یہ بھی سمجھ لے کہ پاکستان' ایران اور ترکی کے راستے یورپ تک پہنچنے کا بھی چھوٹا ترین روٹ تیار کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے پاس گرم پانی کی بندر گاہیں ہیں جو روس اور وسط ایشیائی ممالک کی توجہ کا باعث ہیں۔ ہم ابھی تک پرانے خیالات کی ڈور میں الجھے ہوئے ہیں۔ اپنی جگہ پر منجمد کھڑے ہیں حالانکہ اب اپنے نئے کردار کو سمجھنے سے ہی ترقی ہمارے قدم چومے گی۔ یہ قرضے اتارنے کے لئے وزیر اعظم کے زیر استعمال لگژری گاڑیاں بیچنے سے ہی کام نہ ہوگا اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان خود کو پہچانے۔ سی پیک کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے اقدامات ان منصوبوں میں ہی شامل کئے جائیں تاکہ پاکستان کسی بھی بگاڑ کے بغیر ان منصوبوں کے فوائد سے مستفید ہوسکے۔ بھارت سے تعلقات کی کوشش اس بھارتی حکومت کے دور میں ناکام ہوئی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ صرف بھارت سے ہی تعلقات سے بہتری میں ہی پاکستا ن کی ترقی کی شنید مضمر ہے۔ بھارت میں اس وقت انتہا پسندوں کی حکومت ہے جن کی حکومت کی بنیادیں مسلمانوں سے نفرت میں مضمر ہے۔ اگر وہ پاکستان سے اچھے تعلقات کی بات کرنے لگیں گے تو اپنے ملک کے عوام کو کیا جواب دیں گے۔ پھر یہ بات بھی بھولنی نہیں چاہئے کہ بھارت سے میاں نواز شریف کے ذاتی تعلقات ہیں' وہاں ان کے بزنس موجود ہیں' عمران خان کے بھارت سے ایسے کوئی تعلقات نہیں۔ اس لئے اس حکومت کو بھارت سے ایسی کوئی توقع ہی نہیں رکھنی چاہئے۔ بہر حال یہ سب باتیں اپنی جگہ ' یہ طے ہے کہ اب پاکستان کو اپنے نئے کردار کو سمجھ نہیں چاہئے اوراس کی جانب قدم بڑھانے چاہئیں کیونکہ یہ سوچ کی تبدیلی بھی بہت ضروری ہے۔ ہم جس تبدیلی کے داعی ہیں وہ اس تبدیلی کا ہاتھ تھام کر ہی پاکستان میں داخل ہو گی اور جب تک ہم یہ نہ سمجھیں گے اس وقت تک معاملات میں بہتری جنم نہ لے گی۔

متعلقہ خبریں