Daily Mashriq

نفرتوں کے ناگ کچل ڈالئے

نفرتوں کے ناگ کچل ڈالئے

دیکھتی آنکھوں مکھی نگلنے کو کون تیار ہوتا ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پختون سیاسی قیادت ایسے موقعوں پر آنکھیں بند کرلیتی ہے اور ظاہر ہے جب آنکھیں بند ہوں تو زبان کہاں کھل سکتی ہے ، یہ تو خدا بھلا کرے سوشل میڈیا کا جس پر ایک لمحے میں سب کچھ وائرل ہوجاتا ہے اور پھر کسی بھی ناجائز بات پر سوال اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ چند روز قبل پنجاب حکومت کی جانب سے ایک اشتہار ٹی وی چینلز پر جاری کیا گیا جس میں پختونوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مواد موجود تھا، پختون کو ویسے بھی پنجاب میں جن مسائل کا سامنا رہتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ، بلکہ صرف پنجاب پر ہی کیا موقوف جہاں مستقل رہائش رکھنے والوں کے شناختی کارڈز بھی بڑی تعداد میں بلاک کر دیئے گئے تھے ، یہاں پختونخوامیں بھی لاکھوں لوگوں کے شناختی کارڈز بلاک کر کے ان کے ساتھ نادرا کی جانب سے جو معاندانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ اس زیادتی کا شکار خود میں بھی ہو چکا ہوں اور ایک روز بینک کی جانب سے مجھے اطلاع دی گئی کہ حضور آپ کا چیک کلیئر نہیں ہو سکے گا پہلے جا کر اپنا شناختی کارڈ''واگزار'' کروایئے ، اس کے بعد مجھے جن مراحل سے گزرنا پڑا یہ ہر وہ شخص بخوبی جانتا ہے جس کا شناختی کارڈ بلاک ہو چکا ہو، خیر یہ تو چند جملہ معترضہ تھے ، بات پنجاب میں پختونوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ہورہی تھی ، اور ان کے بلاک شدہ شناختی کارڈوں کی وجہ سے جو نارواسلوک وہاں کی پولیس ان کے ساتھ کرتی رہی اس پر نہ صرف احتجاج کیا گیا ۔ جلوس نکالے گئے بلکہ بعد میں بعض سیاسی رہنمائوں نے اس پرآواز بھی اٹھائی ۔ تاہم یہ جو حکومت پنجاب کی جانب سے چند ہفتوں سے ایک اشتہار چلایا جارہا تھا جس میں دہشت گردی کے حوالے سے شناخت کے ڈانڈے ایسے کرداروں کے ساتھ ملائے گئے تھے جن کی وضع قطع پختونوں جیسی تھی ، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر تو شور اٹھایا گیا مگر اسمبلیوں میں کوئی نحیف آواز بھی شاید اس لئے سنائی نہیں دی کہ انہوں نے سوچا ہوگا کہ نقارخانے میں تو تی کی صدا کون سنتا ہے۔ حالانکہ پختون نے اس وطن کیلئے جتنی قربانیاں دی ہیں ان پر وہ فخرکے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہر امتحان میں پختون کامیاب وکامران ٹھہرے ، مگر جب شکوک کی بات آتی ہے تو ہمیشہ پختونوں ہی کی حب الوطنی کو مشکوک ٹھہرادیا جاتا ہے۔پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے اگرچہ گزشتہ روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پختونوں کے حوالے سے قابل اعتراض مواد پر مبنی اشتہار کے چلنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری انکوائری کا حکم دیا ہے ، اور متعلقہ اشتہاری ایجنسی کو قابل اعتراض مواد شامل کرنے پر بلیک لسٹ کر دیا ہے ، جبکہ انہوں نے اس نفرت انگیز اور توہین آمیز اشتہار کی بھر پور مذمت بھی کی ہے ، اور اشتہار چلنے سے پہلے اس کی مانیٹرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ بھی دیا ہے ، تاہم اب جتنی بھی تاویلیں ڈھونڈی جائیں ان کا کیا فائدہ کہ پختون قوم کو خصوصاً اہل پنجاب کی نظروں میں دہشت گرد ثابت کرنے والا تیر کمان سے نکل چکا ہے جسے اس قسم کی طفل تسلیوں سے نہ واپس کیاسکتا ہے نہ جونقصان ہو چکا ہے اس کا تدارک ممکن ہے کہ اس قسم کی صورتحال کو انگریزی میں lrreparable lossیعنی ناقبل تلافی قرار دیا جاتا ہے ۔ اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی اشتہاری کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے سے کیا اصل ''جرم ''پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے ؟ یہ تو طویلے کی بلا بندر کے سروالی بات ہوگئی ۔ اصل ذمہ دار تو وہ لوگ ہیں جو اس اشتہار کا آئیڈیا سوچنے اور پھر اس کا مسودہ لکھوانے سے لیکر اس کی پروڈکشن میں ملوث رہے ۔ اور پھر اس سے بھی اہم بات وہ مانیٹرنگ کمیٹی یا افراد ہیں جنہوں نے ریکارڈنگ کے بعد اسے آن ائیر کرنے کی اجازت دی ، کیونکہ کوئی بھی آئیڈیا ذہن میں آسکتا ہے ، اس پر مسودہ بھی لکھوایا جا سکتا ہے ، حالانکہ اصولی طور پر انہی ابتدائی لمحات میں اس کے مضمرات کے بارے میں سوبارسوچنا اور بار بار آئیڈیا میں ضروری ترمیم کرنے کی سعی کرنا لازمی امر تھا ۔ کم از کم اپنے ریڈیو کی تیس سالہ ملازمت میں ہم نے اپنے سینئرز سے یہی سیکھا اوراپنے بعد آنے والوں کو بھی یہی سبق دیا ۔ اور جب آئیڈیا فائنل ہو جائے تو پھر مسودہ لکھوایا اور بار بار اس کا جائزہ لینے کی بار ی آئی ہے ، یہاں تک کہ ریکارڈنگ کے دوران بھی اگر کوئی قابل اعتراض نکتہ سامنے آجائے تو اسے تبدیل کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی جاتی ، جبکہ پی ٹی وی میں تو ہر پروگرام کو نشر کرنے سے پہلے ایک ریویو کمیٹی اس کا آخری بار جائزہ لیتی ہے ۔ اتنے سارے مراحل سے گزرنے کے باوجوداگر پاکستان میں بسنے اور مخصوص زبان بولنے والوں کی یوں دل آزاری کی جاتی ہے ، ان کے خلاف توہین آمیز اور نفرت انگیز مواد نشتر کیا جاتا ہے تو کیا صرف معذرت پر کام چلانے سے یہ نفرت ختم کی جاسکتی ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابلاغ کے اداروں میں پختونوں سے نفرت کرنے والوں کی کمی نہیں اس حوالے سے ڈیڑھ دوسال قبل ایک مزاحیہ مشاعرے میں بھی پختونوں کا جس طرح مذاق اڑایا گیا وہ بھی ذہنوں میں ابھی تازہ ہے اس لئے نفرتوں کو ختم کرنے کی پالیسیاں بنائی جائیں ورنہ یہ سلسلہ رکنے کانہیں ہے ۔

متعلقہ خبریں