Daily Mashriq

دولت پر سیاست کا پردہ ختم ہونے کاموسم

دولت پر سیاست کا پردہ ختم ہونے کاموسم

آخر کار قدرت کی دراز رسی کھنچ جانے کا لمحہ آن پہنچا اور سیاست کے پردے کے پیچھے دولت کا کھیل کھیلنے والوں کا یوم حساب قریب آنے کے آثار پیدا ہوگئے ۔برطانیہ اور پاکستان کے درمیان قومی دولت لوٹنے کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ ہوگیا ہے جو آگے چل کر مطلوب افراد کی حوالگی کے معاہدے پر منتج ہوگا ۔پاکستانی نژاد برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ پاکستان اور برطانیہ میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے انصاف واحتساب کی شراکت کا آغاز ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بدعنوانی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیںخواہ یہ کہیں بھی ہو ۔ہم اس کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنے اور کریک ڈائون کرنے کے لئے تیار ہیں۔برطانیہ دنیا بھر سے عوام کے ٹیکسوں کو چرا کر دولت جمع کرنے کا ایک بڑا اڈہ ہے جہاں عرب وعجم اور مشرقی اورمغربی یورپ تک طاقتور لوگوں نے عوام کی دولت عوام کی نظروں سے چھپا کر مختلف کاروباری مقاصد پر لگا رکھی ہے ۔پاکستان بھی انہی بدقسمت ملکوں میں شامل ہے ۔برطانیہ کے ساتھ یہ معاہدہ بارش کا پہلا قطرہ ہے جس کے بعد اور بہت سے ملکوں میں خفیہ تجوریاں خود بول پڑیں گی،دولت کے پہاڑوں کو زبان مل جائے گی ۔ خدا جانے وہ کون سازمانہ اور کون لوگ تھے جو سیاست کو عبادت اور خدمت سمجھتے اور اس کا برملا اظہار کرتے تھے ۔مدت ہوئی اب پاکستان میں سیاست کو عبادت سمجھنا تو درکنار کوئی عبادت کہنے کو بھی تیار نہیں ۔سیاست اور قیادت کے شعبے میںزوال پذیر رجحان ایک ہمہ گیر اخلاقی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کرگیا ۔سول اور خاکی بیوروکریسی بھی اس بحران کی لپیٹ میں آگئی ۔کرپشن معاشرے کا عمومی چلن بن کر رہ گئی ۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ ضیاء دور میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر اور بھٹو دور کے آئی جی پی رائو عبدالرشید نے اس دور میں ایک انٹرویو میں حالات کی عکاسی ان الفاظ میں کی تھی کہ ''ابھی قوم کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ کرپشن بری چیز ہے روکنا اگلا مرحلہ ہے فی الحال قوم کرپشن کو برا سمجھنے کو بھی تیار نہیں''۔یہ ایک ہمہ گیر زوال اور بے حسی کی ٹھیک ٹھیک عکاسی تھی ۔کرپشن کو برا سمجھنے کی بجائے گزشتہ دو تین دہائیوں میں جس شخص ،جماعت اور گروہ نے کرپشن روکنے کا نعرہ بلند کیا اسے طعن وتشنیع کا طوفان برپا کرکے معاشرے کا ایک مضحکہ خیزکردار بنا دیا جاتا ۔بااثر طبقات کے مفادات کا نگہبان میڈیا ایسے کردار کو مجنون اور ذہنی عدم توازن کا ایسا کردار بنا کر پیش کرتا کہ جو عملی اور ذہنی طورپر اس قدر فارغ ہے کہ کرپشن کرپشن کی مالا جپنے کے سوا کوئی کام نہیں۔گویا اس حوالے سے خرد کانام جنوں اور جنوں کا خرد رکھ دیا گیا ۔بدعنوان عناصر پر جب بھی ہاتھ ڈالا گیا توانہوں نے اسے سیاسی انتقام کا نام دیا اور یوں وہ مظلومیت کی چادر تان کر سامنے آتے رہے ۔ایک جملہ جو بدنامی کی حد تک مشہور ہوا یہ تھا کہ سیاست دانوںاور حکمرانوں کا احتساب کرنے کا حق صرف عوام کو ہے اور پانچ سال بعد انتخابات میں عوام سیاست دانوں کا احتساب کرتے ہیں۔یہ بودی اور ناقص تاویل اور دلیل قانون سے بچنے کے لئے استعمال ہوتی رہی ۔اس دلیل میں وزن ہوتا تو آج ملائیشیا کے بزرگ مدبر مہاتیر محمدایک بار پھر وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے پیش رو نجیب رزاق سے یہ نہ پوچھ رہے ہوتے کہ ان کی اثاثہ جات کیسے بنے ؟آج نجیب رزاق بدعنوانی کے الزامات میں عدالتوں میں مارے مارے نہ پھر رہے ہوتے ۔آج مصر کے تاحیات سمجھے جانے والے صدر حسنی مبارک اپنی دولت کا حساب مانگے جانے کے عذاب کا سامنا نہ کر رہے ہوتے ۔ہمارے ہاںایک صاحب کے بارے میں ان کو قریب سے جاننے والے انگریزی اخبار سے وابستہ صحافی نے انکشاف کیا تھا کہ جب بھی وہ وزیر اعظم ہائوس میں جاتے تو یہ صاحب کچھ نہ ہونے کے باوجود پارٹیوں کے جلو میں کمیشن اور کاروباری معاملات طے کر رہے ہوتے۔ بعد میںان کے بارے میں کہا جاتا کہ ملاقات کا وقت طے کرانے والے بھی وفودا ور شخصیات سے پیسے وصول کرتے تھے۔زوال کے ان لمحوں میں ایک تو پاکستان کا برین ڈرین ہوا۔ذہین اور فطری طور پر دیانت پسند لوگ اچھے اور دیانت داری پر یقین رکھنے والے ملکوں کو سدھار گئے۔دوسرایہ ہوا کہ پاکستان کا پیسہ مختلف طریقوں سے ملک سے باہر منتقل ہو کر بینکوں کی تجوریوں اور رہائشی اور کاروباری محلات کی شکل اختیار کر گیا ۔لندن ،دوبئی ، سویٹزر لینڈ،ہانگ کانگ ،ملائیشیا ،جنوبی افریقہ سمیت کئی ملک اس دولت کی حفاظت اور استعمال کے لئے جنت بن کر رہ گئے۔اب بدلے ہوئے حالات میں لوٹی ہوئی دولت کے انبار کو سیاست کے پردے میں چھپانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ زمانے کی ہوا اور چلن بدل رہا ہے ۔دنیا میں کرپشن کو چھپانے کے لئے ماحول اور ملکوں کی فضاء موافق اور دوستانہ نہیں رہی۔دنیا میں بدعنوانی کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو رہی ہے اور قومیں اور ملک کرپشن کے حوالے سے سخت قوانین بنا رہے ہیں۔ہم اپنی روایتی مصلحت پسندی سے دوبارہ کام لے سکتے ہیں مگر عالمی قوانین اور رویوں کے باعث اب ہماری لوٹی ہوئی دولت کو خودبخودزبان مل رہی ہے اور وہ خود کار الارم کی طرح خود اپنے ہونے کا احساس دلا نے کو ہے ۔اب شاید کوئی بھی احتسابی عمل کو سیاسی انتقام کا نام دینے کے قابل بھی نہ رہے ۔

متعلقہ خبریں