Daily Mashriq


ایک اور تحریک کے آثار؟

ایک اور تحریک کے آثار؟

پانامہ کے فیصلے کے بعد جہاں ایک جانب اپوزیشن جماعتوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی' تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف سے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے پہلے اپنے منصب سے استعفیٰ دینے کے مطالبات میں روز بروز شدت آرہی ہے دوسری جانب لاہور بار نے بھی گزشتہ روز مطالبہ داغ دیا ہے کہ وزیر اعظم سات روز کے اندر مستعفی ہو جائیں ورنہ ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس بلوانے کے لئے ریکوزیشن پر دستخط کردئیے ہیں۔ یاد رہے کہ دونوں ایوانوں میں وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کے سوال پر ہنگامہ آرائی کے بعد دونوں اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردئیے گئے تھے جبکہ قومی وطن پارٹی نے اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کیا ہے اور گزشتہ روز سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے جوڈیشل انکوائری کی تجویز تو دی تھی مگر اپوزیشن نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ روز سندھ کے علاقے دادو میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر وزیر اعظم پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو جے آئی ٹی میں پھنسا لیا' اب زرداری کا پیچھا کروں گا۔ پانامہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے نواز شریف کی اخلاقی حیثیت ختم کرکے اصل کرپٹ چہرہ دکھا دیا۔ اب عزیر بلوچ کی طرح جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اللہ مجھے زرداری جیسا عقلمند نہ بنائے۔ ادھر خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر مبنی قرار داد کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) نے وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو خراج تحسین پیش کرنے سے متعلق قرارداد جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس قرار داد کا کیا حشر ہوسکتا ہے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے تمام ارکان بھی اگر مل کر اسے پاس کرانا چاہیں تو انہیں دقت کے ساتھ مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ دو روز پہلے آنے والی خبروں کے مطابق اگرچہ شیخ رشید احمد اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے مابین ایک طویل ملاقات میں وزیر اعظم سے استعفیٰ کے سوال پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لئے سرگرم ہونے پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم لاہور' اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف میں موجود ایک لابی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملانا چاہتی۔ زرداری پانامہ کے شور میں عمران خان کے ساتھ مل کر پنجاب میں اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے دادو کے جلسے میں تحریک کے سربراہ نے جہاں وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں زرداری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا تاکہ زرداری پر تحریک انصاف کی پالیسی واضح کردی جائے۔ اس کے بعد شاید شیخ رشید احمد کی مایوسی میں بھی اضافہ ہو چکا ہوگا تاہم یقیناً وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ویسے بھی سیاست کے بارے میں مشہور تو ہے کہ اس کی دوستیاں اور دشمنیاں دائمی نہیں رہتیں وقت اور ضرورت کے تحت پالیسیوں میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اس لئے ابھی تو انتخابات میں لگ بھگ ایک سال سے زیادہ کاعرصہ باقی ہے اور تب تک ملکی سیاسی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اب ذرا لاہور بار کی دھمکی پر نظر ڈالئے تو موجودہ صورتحال میں اس دھمکی کو معمولی نہیں گردانا جاسکتا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی میں پاکستان بار کونسل کے کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیاجاسکتا تاہم ابھی اس مقام تک پہنچنے کے لئے لاہور بار کونسل کی دھمکی کو نہ صرف ملک کے دوسرے بار کونسلز بلکہ متفقہ اور حتمی فیصلے میں ڈھلنے کے لئے سپریم کورٹ بار کونسل کے تحت قرار داد کی صورت میں پاس کرنا ہوگا۔ چونکہ پورے ملک کے ہائی کورٹ بار کونسلز کے علاوہ سپریم کورٹ بار کونسل میں بھی لیگ (ن) کے حمایتی وکلاء کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے اس لئے شاید یہ کام اتنا آسان نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جب تک بار کونسل (متفقہ) اور اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر نہ آجائیں تب تک اس قسم کی تحریک کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کی امید زیادہ روشن ہونے کے آثار معدوم ہی رہے گی اور موجودہ حالات اس بات کی گواہی دینے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اس تحریک کی پشت پر کھڑی نہیں ہوں گی۔ ا س تحریک کو عوامی پذیرائی ملنے کی امیدیں کم کم ہی ہوں گی جبکہ تحریک انصاف کو پنجاب میں جو خدشات ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر انتخابات کے دوران سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے حوالے سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اسی سوال پر وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اکٹھ کرنے کو تیار نہیں ہوگی اور جس طرح عمران خان زرداری ٹولے پر تبرہ تول رہے ہیں یہ بیل منڈھے چڑھتے نظر نہیں آتی۔ اس لئے آگے کیاہوتا ہے انتظار کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں