بھارت میں پاکستان دشمنی کی نئی شکل

بھارت میں پاکستان دشمنی کی نئی شکل

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے ذہنوں میں پاکستان دشمنی کے جراثیم اس قدر سرایت کرچکے ہیں بلکہ ان میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ اب پاکستانی مصنوعات کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں حالانکہ پاکستان اور بھارت کے مابین باقاعدہ تجارتی معاہدے کے تحت دونوں جانب درآمد و برآمد باقاعدگی کے ساتھ جاری ہے جبکہ دونوں حکومتیں ان تجارتی معاہدوں کو مزید وسعت دینے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس ضمن میں پاکستان دشمنی کی تازہ واردات کے بعد پاکستان میں جو لوگ بھارت کے ساتھ تجارت کو بڑھاوا دینے کے مخالف ہیں ان کے موقف کی سچائی سامنے آرہی ہے۔ میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں کے مطابق ہندو غنڈوں نے بھارت میں پاکستانی کپڑا فروخت کرنے والے بازار پر حملہ کرکے پاکستانی مصنوعات رکھنے والی مارکیٹ کو آگ لگا دی اور دکانوں سے کپڑے اتار کر پھینک دئیے۔اس سارے عمل کے دوران بھارتی پولیس تماشائی بنی رہی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پر انتہا پسند بھارتی آپے سے باہر ہوگئے ہیں۔ در اصل مٹھی بھر انتہا پسندوں نے پورے بھارت کو یرغمال بنایاہوا ہے' گائور کھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام اور پاکستان دشمنی میں ہر شعبے میں غنڈہ گردی دکھانا ان انتہا پسندوں کا پرانا وتیرہ ہے۔ اس سے قبل نئی دہلی میں شیو سینا کے بلوائیوں نے پی آئی اے کے دفتر پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی تو پی سی بی حکام کے جانے پر بھارتی انتہا پسندوں نے بھارت کرکٹ بورڈ کے دفتر پر دھاوا بول کر پی سی بی کے چیئر مین شہر یار اور بھارت کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے درمیان ملاقات کو سبو تاژ کردیا تھا۔ اسی طرح سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رونمائی پر تقریب کے آرگنائزر کے منہ پر کالک مل دی تھی۔ گزشتہ روز کے واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بھارت میں عدم برداشت پر تشویش ہے بھارت کی پاکستان کے خلاف پالیسی جارحانہ ہے اور بھارت کے روئیے سے حالات بہتری کی طرف نہیں جا سکتے۔ ان واقعات کے رد عمل میں پنجاب کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے جبکہ کراچی کے تاجروں نے بھارتی مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ کر ڈالا۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات پر نظر ثانی کرے اور بھارت سے جو مصنوعات آرہی ہیں ان پر پابندی لگا دی جائے۔
دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں
پاکستان نے افغانستان میں فوجی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی حکومت اور عوام سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کابل سے مل کر دہشت گردی ختم کریں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میری حکومت اور پاکستان کے عوام دکھ کی اس گھڑی میں افغان حکومت اور افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم نے دہشت گردی کو مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے اور حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے افغان فورسز اور قوم سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے بھی دہشت گردوں کو مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے انہیں شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان ایک عرصے سے کابل انتظامیہ سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے کی شکایات کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی استدعا کرتا آرہاہے مگر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق کابل انتظامیہ بھارت کی زبان بولتے ہوئے پاکستان کو مطعون کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حالیہ واقعہ میں جو مزار شریف میں پیش آیا تحریک طالبان نے افغان فوج کے تربیتی کیمپ پر حملہ کرکے 150 کے قریب افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ حملہ آور فوجی لباس میں ملبوس تھے اور گاڑی میں بیٹھ کر داخلی دروازے پر آسانی سے خود کو کلیئر کرا کر دوسرے دروازے پر پہنچے جہاں شناخت کی تصدیق کے د وران ایک خود کش نے خود کو اڑا دیا اور باقی کیمپ میں داخل ہو کر ایک گروپ نے مسجد میں نماز پڑھنے والے جبکہ دوسرے گروپ نے کینٹین میں کھانا کھانے والوں پر فائر کھول دیا۔ حکام کے مطابق دس میں سے سات حملہ آور فائرنگ کے تبادلے ' دو خود کش دھماکوں میں ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کو گرفتار کرلیاگیا۔ تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس واقعے کے بعد کابل انتظامیہ کو اپنے پاکستان مخالف روئیے پر نظر ثانی کرکے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے امن کے قیام کو ممکن بنانے کی سعی کرنی چاہئے۔

اداریہ