وزیر اعظم نواز شریف کیلئے بہتر آپشن

وزیر اعظم نواز شریف کیلئے بہتر آپشن

پانامہ دستاویزات کے انکشافات کے مقدمے کے فیصلہ میں دو ججوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف صادق اور امین یعنی عوامی نمائندگی کے اہل نہیں رہے۔ البتہ پانچوں ججوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ پر جو الزامات ہیں ان کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو د و ماہ کے عرصے میں رپورٹ مرتب کرے اور عدالت کے سامنے پیش کرے۔ اس فیصلے پر حکمران مسلم لیگ نے جشن منانے میں تاخیر نہیں کی۔ بھنگڑے ' مٹھائیاں اور آتش بازی کے ساتھ جشن منایا۔ مسلم لیگ کے متعدد وزراء نے فیصلے کے فوراً بعد کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے وزیر اعظم کو فتح حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان کی تائید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ فورم پر اپنی صفائی پیش کرنے کو تیار ہیں۔ اور سپریم کورٹ نے کیونکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم جاری کیا ہے اس لیے یہ وزیر اعظم کے متذکرہ بیان کی تائید ہے۔ خیال آتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے متذکرہ بیان پر ہی انحصار کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانی تھی تو اتنے دن اس مقدمے کی سماعت کیوں ضروری تھی؟ لیکن سپریم کورٹ کا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم تو وزیر اعظم نواز شریف کے بیان کے جواب میں نہیں ہے۔ بلکہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے وکلاء کی طرف سے کچھ شواہد پیش نہ کیے جانے پر وہ شواہد اکٹھے کرنے کا حکم ہے جو عدالت کے استفسار کے باوجود شریف خاندان کے وکلاء نے نہیں فراہم کیے ۔ یعنی دوران سماعت جو نہیں بتایا گیا وہ پوچھا جائے گا اور سپریم کورٹ کے حکم پر پوچھا جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف کے ایک اہم وزیر چودھری نثار علی خان نے ایک نیا نکتہ نکالا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ فیصلہ اختلافی نہیں بلکہ متفقہ ہے کیونکہ بنچ کے پانچوں ارکان نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے اتفاق کیا ہے۔ چودھری صاحب شاہ پسندی میں ذرا آگے نکل گئے ہیں۔ پانچوں ججوں کے مشترکہ حکم کو مشترکہ فیصلہ کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ فیصلہ ہے ہی نہیں۔ فیصلہ تو اب تک وہ ہے جو دو سینئر ججوں نے دیا ہے اور کہا ہے کہ میاں نواز شریف آئین کی رو سے عوامی نمائندگی کی اہلیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ پانچوں ججوں نے جو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ چودھری نثار تحقیقات کے حکم کو سپریم کورٹ کا متفقہ فیصلہ کہہ رہے ہیں حالانکہ فیصلہ تو تحقیقات کے نتائج سپریم کورٹ کے سامنے آنے پر ہو گا۔ وزیر اعظم کے زیر ِصدارت ایک اہم اجلاس میں کہا گیا ہے کہ فیصلے پر تحفظات ہیں۔ تاہم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کیا جائے گا۔ جب بقول چودھری نثار علی تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا حکم عدالت کا متفقہ فیصلہ ہے اور وزیر اعظم کے زیرِ صدارت اجلاس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر فیصلے پر تحفظات کا ذکر کہاں سے آگیا۔ فیصلے پر کیا تحفظات ہیں اجلاس کے بارے میں خبر میں اس کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ فیصلہ ابھی نہیں آ یا ابھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مشترکہ حکم آیا ہے۔ اور یہ کام دو ماہ میں مکمل کرنے کی تاریخ بھی دے دی گئی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تحقیقاتی ٹیم کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک میاں نواز شریف وزیر اعظم ہیں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں سرکاری افسر غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر سکیں گے۔ یہی سوال مسلم لیگ ن نے بھی اُٹھایا تھا جب پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر یہ الزام عائد کیے جا رہے تھے ۔ اس وقت آج کی حکمران مسلم لیگ کی طرف سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پہلے یوسف رضا گیلانی مستعفی ہوں ۔ عمران خان کا استدلال یہ بھی ہے کہ جن اداروں کے بارے میں سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ انہوں نے تعاون نہیں کیا، انہی اداروں کے افسران سے کیسے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کر سکیں گے جب کہ ان افسروں کو انہی اداروں کے سربراہوں نے نامزد کیا ہو۔ یہ خبر بھی ہے کہ سپریم کورٹ کو 33افسروں کے نام پیش کیے جائیں گے جن میں سے سپریم کورٹ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان منتخب کرے گی۔ تاہم یہ ہوں گے تو انہی اداروں کے ارکان جن کی غفلت یا ناکارکردگی کی بنا پر مقدمے سے متعلق کچھ شواہد عدالت کے سامنے نہیں آ سکے۔وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی کے ارکان کو منع کر دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال نہ اُٹھائیں۔ اس طرح وہ شاید اپنے یہ دعوے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ عدالتی اداروں کا احترام کرتے ہیں جب کہ ان کی مسلم لیگ پر سپریم کورٹ پر حملہ آور ہونے کا بھی الزام ہے۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ اپنی جگہ لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے جس میں وہ ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کر رہے ہیں۔ لیکن اس فیصلے کے آنے کے بعد ان کی مہم کا یہ انداز بے وقت کی راگنی ثابت ہو گا کیونکہ عوام کی توجہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے معنی دریافت کرنے پر ہو گی۔آئندہ تین چار ماہ تک اپوزیشن کی جارحانہ سیاست کے بعد اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ وزیر اعظم کے حق میں آ بھی گیا تو اس میں دو ججوں کے اختلافی نوٹ عوام کا موضوع بنے رہیں گے۔ اس طرح وزیر اعظم کی انتخابی مہم کو مشکلات درپیش ہو گی۔ اس دوران اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کی کوششیں تیز ہوں گی اور ممکن ہے مقبولیت بھی حاصل کرلیں۔ اس صورت حال میں وزیر اعظم نواز شریف کے لیے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں اور اپنے کسی نائب کو حکومت کی سربراہی سونپ دیں اور دل جمعی سے انتخابی مہم کی طرف توجہ دیں۔ مستعفی ہونے سے ان کی مقبولیت کا گراف اونچا ہو گا اور ان کے اس دعوے کو تقویت پہنچے گی کہ وہ شرافت کی سیاست کے قائل ہیں۔ ان کا یہ اقدام عوامی مکالمہ کا موضوع بن جائے گا اور ممکن ہے کہ ان کی انتخابی مہم کی تقویت کا باعث بھی بنے۔ 

اداریہ