Daily Mashriq

وقت کی صراحی سے قطرہ قطرہ بہتی ساکھ

وقت کی صراحی سے قطرہ قطرہ بہتی ساکھ

پانامہ لیکس کی طوفانی لہریں دنیا میں بہت طاقتور شخصیات کے بت گراتی،استخوان لرزاتی اور سیاسی تالابوں میں ارتعاش پیدا کرکے گزرتی چلی گئیں مگر پاکستان میں یہ لہریںآکر گزرجانے کی بجائے ایک بھنور کی سی شکل میں گردش کرنے لگیں۔ پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوتے ہی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کچھ غلط نہیں کہا تھا کہ یہ تماشا چند ماہ چلے گا مگر پھر لوگ اسے بھول جائیں گے۔اس بار سب اندازے غلط ثابت ہوئے اور پانامہ لیکس کے مقدمے کوتین وکیل مل گئے ۔عمران خان ،سراج الحق اور شیخ رشید احمد نے اس مسئلے کو شد ومد سے اُٹھانے کا فیصلہ کیا ۔پیپلزپارٹی کی عافیت اسی میں تھی کہ ماضی کے اس گڑے مردے پر مٹی کی تہہ پڑی رہے کیونکہ اس کے زندہ ہونے سے ناگوار یادوں کی ایک برکھا برسنے لگتی ہے ۔پیپلزپارٹی کی قیادت بھی خواجہ آصف کی طرح عوام کے حافظے کے بارے میں مشکوک تھی ۔شاید وقت کا دھارا بہت آگے نکل گیاتھا اور اس لئے ملک میں پانامہ لیکس مقدمے کا جادو سرچڑھ کر بولنے لگا ۔عدالت عظمیٰ کے ایک لارجر بینچ میں پانامہ کیس کی سماعت کا آغاز ہواتو بہت سے راز کھلتے چلے گئے ۔بہت سی حماقتیں سرزد ہوتی چلی گئیں ۔بہت سے لطائف سامنے آتے چلے گئے ۔مسلم لیگ ن نے اس مقدمے کو دوشخصیات وزیر اعظم میاں نوازشریف اور عمران خان کی شخصی کشمکش اور سیاسی مخاصمت بنا کر پیش کیا ۔حکومتی حلقوں نے یہ تاثر دینا شروع کیا کہ یہ دو افراد کے شخصی عناد کا شاخسانہ ہے حالانکہ پانامہ لیکس ایک عالمی سرگرمی تھی وہ عمران خان کے سیاسی مرکز بنی گالہ یا ان کے سوشل میڈیا ونگ کی کرشمہ سازی نہیں تھی ۔یہ حکمران گھرانے کی ایسی جائیداد کے قانونی یاغیر قانونی ہونے کا معاملہ تھا جواس وقت سے ملک میں زیر بحث رہاتھا جب ابھی عمران خان شاید سیاست کی دنیا میں قدم تو رکھ چکے تھے مگر کرکٹ کے ہیرو کی سیاسی میدان میںآمد کو کوئی بھی سنجیدہ لینے کو تیار نہیں تھا ۔عوام کی غالب اکثریت کی رائے تھی کہ عمران خان کرپشن کے خلاف نعرے لگاتا ہوا اسی طرح ضائع ہوتا چلا جائے گا جس طرح ان سے پہلے پاکستانی سیاست کے کئی'' مسٹر کلین ''کرپشن کے خلاف لڑتے لڑتے تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوگئے تھے ۔بھٹوز کے مقابلے میں جب شریف خاندان ملکی منظر پر اُبھرا تو عوام میں اس خاندان کی مشرقیت ،مذہبیت ،شرافت اور خدا ترسی کی کہانیاں عام ہوئیں ۔پیپلزپارٹی کے مقابلے میں شریف خاندان کو امانت اور دیانت کے ایک مجسمے کے طورپر پینٹ کیاگیا ۔آصف زرداری کے رویوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ۔بے نظیر بھٹو بے سبب لاڑکانہ اور لاہور کے وزیر اعظم کی باتیں نہیں کرتی تھیں ۔پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے میاں صاحب کبھی ساکھ کے بحران سے دوچار نہ ہوسکے جبکہ پیپلزپارٹی کو ہر دور میں ساکھ کی بحالی کی لڑائی لڑنا پڑی ۔مختلف اوقات میں ائیرمارشل اصغر خان ،قاضی حسین احمد اور ڈاکٹر طاہر القادری نے شریف خاندان کی ساکھ کو چیلنج کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ میں انیس بیس کا نہیں بلکہ کوئی فرق ہی نہیں ۔طاقت ،دولت ،علاقائی ازم کا جن ان اُجلے دامن کرداروں کو وقتی طور پر ناکام بنانے میں کامیاب ہوگیا ۔اصغر خان کوتنہا رہ جانے اور ناکام سیاست کی علامت بنادیا گیا ۔قاضی حسین احمد کے نعرے ''ظالمو قاضی آرہا ہے '' کو طنز وتضحیک کا نشانہ بنا کر رکھ دیا گیا ۔طاہر القادری بھی دیواروں سے سر ٹکرا کر تھک گئے ۔یہاں تک کہ عمران خان منظر پراُبھرے اور خاصے سخت جان ثابت ہوتے رہے ۔انہیں بہت سا موافق ماحول اور معاونین بھی ملے اور شاید بدلا ہوا منظر اور ذہنی طور پر تبدیل شدہ پاکستانی معاشرہ بھی ملا۔اس کیس میں شریف خاندان ابتدا سے کنفیوژن کاشکاردکھائی دیتا ہے ۔موقف کے تضادات ،وکلاء کی بار بار تبدیلی،وزراء کا جارحانہ پن یہ بتاتا رہا کہ حکومت کے پاس عدالت میں بیان کرنے کو کچھ نہ کچھ تو ہے مگر بہت کچھ نہیں۔وزراء نے عدالت کو عوامی طاقت کے استعمال کی ملفوف دھمکیاں دیں مگر اس بار مقدمے کے فریق بھی سیاسی طور پر کمزور اور تنہا نہیں تھے ۔ عدالت کے پیچھے دبائو برقرار رکھنے والی ملک کی دو اہم جماعتیں تھیں اور شاید یہی وہ صورت حال تھی جس نے عدالت کے پلڑے کو حکومتی دبائو کے مقابلے میں متوازن رکھا ۔زمین پیروں کے نیچے سے کھسکنے لگی تو حکومت سے ایک لطیفہ نما حماقت سرزد ہوگئی ۔وہ تھا قطری خط۔اس خط نے عدالت کے کشیدہ اور سنجیدہ ماحول میں ایک کشتِ زعفران بنادیا ۔ملک میں سوشل میڈیا اور موبائلوں کے ذریعے قطری خط کے حوالے سے بے شمار مزاحیہ کلام اور جملے گردش کرتے رہے ۔عدالتی کارروائی کا پیٹ بھرنے میں شاید اس خط سے کوئی مدد ملی ہو مگر شریف خاندان کا کیس مضبوط بنانے کی بجائے اس خط نے اُلٹا اثر کیا ۔اس خط کی حقیقت اور صحت بارے ججزاپنے ریمارکس میںسوالات اُٹھاتے رہے ۔یوں عوام کا اجتماعی ضمیر اس خط کو پہلے ہی مسترد کرچکا تھا ۔عدالت نے جو فیصلہ سنایا بلاشبہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے ۔عدالتیں نہ تو عوام کے مقبول جذبات کی بنیاد پر اور نہ ہی خلاء میں رہ کر فیصلے کرتی ہیں۔مسلم لیگ ن کے لئے شاید یہی بہت ہے کہ میاں نوازشریف نااہلی سے بچ گئے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر ان کی ساکھ کے آگے موٹا سا سوالیہ نشان اب بھی قائم ہے بلکہ دوججز نے اس نشان کو کچھ زیادہ نمایاں کردیا ہے۔ 

اداریہ