Daily Mashriq

کیا تیسری عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے؟

کیا تیسری عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے؟

کیا سال رواں میں تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو جا ئے گا۔ یہ سوال بار بار مغرب کی جانب سے اچھالا جا رہا ہے۔ یہ تیسر ی عالمی جنگ کن ممالک کے ما بین ہو گی یہ الگ سے سوال ہے ، دانشو ر و ںکا تو کہنا ہے کہ تیسری جنگ کا آغا زہوچکا ہے ، اور یہ جنگ مسلمانو ں کے خلا ف نہیں بلکہ اسلا م کے خلا ف ہے۔ عالمی حالات کا جا ئزہ لیا جائے تو بات میں کوئی الجھا ؤ نہیں ملتا کہ ایسا ہو رہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح کا دعویٰ کر نے والے ولکیس نے تیسر ی عالمی جنگ شروع ہو نے کے بارے میں تاریخ کا بھی تعین کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے دنیا میں اس موضوع پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ امریکا کی شا م سمیت شمالی کو ریا کے بارے میں پالیسیاں غیر واضح ہیں تاہم اندیشہ بڑھ رہا کہ کبھی عالمی جنگ کا آغازہو جائے گا ، ڈیلی اسٹار اخبار کے مطابق ولکیس کا کہنا ہے کہ تیسری جنگ عظیم3 1مئی سے شروع ہو گی ،جس میں بڑی طاقتیں شام پر حملہ کر یں گی۔ اس کے دعوے کے مطا بق روس ، شمالی کو ریا اور چین کے درمیان زبردست جنگ ہو گی اور شام کے صدر بشارالاسد بمباری میں ما رے جائیں گے یعنی بم دھماکے میں مارے جائیں گے۔ اس کے بعد ہی خوفناک جنگ کا آغاز ہو جائے گا ، ولکیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ جنگ پانچ ما ہ جاری رہنے کے بعد 13اکتوبر کو اختتام پذیر ہو جا ئے گی۔ تیسری عالمی جنگ کے بارے میںامریکا کے ایک تھنک ٹینک ہنری کسنجر بھی پیش گوئی کر رہے ہیں ہنری کسنجر سابق امریکی صدر رچرڈنکسن کے دور میں امریکا کے کا میا ب ترین وزیر خارجہ رہے ہیں ا ن کا صیہو نی لا بی سے بہت قریب کا تعلق ہے۔اپنی قیام گاہ پر ایک اخباری نمائندے کو انٹرویو دیتے ہو ئے بے دھڑک کہا ہے کہ جنگ کا بگل تو بج گیا ہے اگر کسی کو اس کی صوت سنائی نہیں دیتی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بہر ہ ہے ۔ انہو ں نے تیسری عالمی جنگ کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کے مطابق اسرائیل کا اصل ہد ف ایر ان ہے جبکہ شام کی آڑ لے کر امریکا روس اور چین کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی پوزیشن میں آگے ہے۔ علا وہ ازیں اسرائیل اور امریکا مشرق وسطیٰ کی پا لیسیو ں سے ہم آہنگ ہیں اور چنا نچہ اس کھیل میں دنیا کو چین اور رو س کے بارے میں ایک جھوٹا احسا س دلا نے میں مبتلا ہیں۔تاہم امریکا کے اس اقدام سے اس کے اتحا د ی بھی پریشان نظر آرہے ہیں خاص طورپر یو رپی یونین کے ممالک اور وہ ایک عظیم یو رپ کے خواب میں مبتلا ہیں۔ ایسا محسو س ہو تا ہے کہ امریکا تیسری جنگ کے زمانے میں دنیا کے سب وسائل پر قابو حاصل کر کے دشمن کو ان وسائل سے محروم رکھ کر شکست سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ تیسری عالمی جنگ کے مقاصد کیا ہیں ، سابق امر یکی وزیر خارجہ کے مطا بق تیسری عالم گیر جنگ کے بعد دنیا پر ایک ہی سپر پاور کی حکومت ہوگی اور نصف سے زیا دہ مشر ق وسطیٰ پر اسرائیل کی حکومت قائم ہو جائے گی اور یہ سپر پا ور دنیا کو ایک نیا نظام دے گی ۔ جہاں تک مشر ق وسطیٰ کے بارے میںاسرائیلی عزائم کی بات ہے تو وہ تو واضح ہے۔ لیکن در پر دہ یہ اقتصادی جنگ نہیں ہے بلکہ نظریا تی جنگ ہے جس کی پشت پر مذہبی نظریا ت پو شید ہ ہیں ، عیسائیت میں ہے کہ ان کا نیا پیغمبر جب ظہو ر کرے گا جب فلسطین اور اس کے گر دونو اح جو نصف مشرق وسطیٰ کے برابر علاقہ ہے وہا ں صیہونیو ںکی حکومت ہو گی اور دنیا میں ایک ہی سپر پاور کی حکومت کا تصور عیسائیت اور صیہونیوں میں بھی ہے ۔ دنیا میں ان باطل نظریا ت کا مقابلہ کے لیے ان کو ایک ہی قوت نظر آتی ہے وہ اسلامی قوت ہے اور اس کو ختم کر نے کے لیے دہشت گردی کے نام پر جنگ کا آغاز کر دیاگیا ہے جس کا سب سے بڑا ثبو ت افغانستان پر دنیا کے سب سے خطر ناک بم کا تجر بہ ہے۔

ابھی تک اس بم کی تباہ کا ریو ں کے بارے میں کوئی تفصیلا ت منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ افغان سیکو رٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے اس لیے ان کو اب تک وہا ں جانے کا حکم نہیں ملا ہے۔ واضح رہے کہ اس حملے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ داعش کے چھتیس دہشت گرد ہلا ک کر دئیے گئے ہیں جوایک مضحکہ خیز بات لگتی ہے کہ کروڑوں ڈالر کے بم کے ذریعے صر ف چھتیس دہشت گردوں کو ما رنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کی کوئی تفصیل بھی جا ری نہیںکی گئی ۔ البتہ اچین جہا ںیہ خطر ناک بم گرایا گیا ہے وہاں کے بارے میںیہ اطلا ع ملی ہے کہ داعش کے مبینہ مر کز پرجو خطرناک بم گرایا گیا اس کے نتیجے میں تیر ہ بھارتی با شندے ہلا ک ہوئے ہیں جو بھارتی فوجی ہیں اور اب بھی سروس میں ہیں۔ ان کی لا شیں کا بل لائی گئیں اور بھارتی سفا رت خانے کے حوالے کی گئیں ، اس خبر کی ایک ہفتہ ہو گیا نہ تو امریکا نے نہ افغان حکا م نے اورنہ بھارت کی جانب سے تردید ہوئی ہے اور نہ کوئی دوسر ا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ داعش کی جانب سے اس امر کی تردید کی گئی ہے کہ داعش کا کوئی فر د ا س بمباری سے ہلاک ہوا ہے۔ اسی طر ح طالبان نے بھی تر دید کی ہے کہ امریکا کے اس حملے میںطالبان کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیںپہنچا ، چونکہ اب تک بھارت اور امر یکا کی جانب سے بھارتی فوجیوں کی ہلا کت کی خبر و ں کے بارے میںکوئی وضاحت نہیں ہوئی ہے اس لیے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ داعش کے مر کز میں بھارتی فوجیو ں کی موجودگی کے کیا مقاصد ہوسکتے ہیںچنا نچہ ان سوالات کے جنم لینے سے بہت سی پو شید ہ باتیں کھل رہی ہیں جن کے بارے میں پہلے بھی کہا جا تا تھا کہ بھارتی فوج اور داعش کا آپس میں کیا رشتہ ہے ، عالمی حالا ت اس امرکی غما زی کر رہے ہیں کہ ولکیس اور ہنری کسنجر کی سوچ عملی جا مہ پہن رہی ہے ۔

اداریہ