Daily Mashriq

کوئی خوش نہ ہو کوئی ناراض نہ ہو

کوئی خوش نہ ہو کوئی ناراض نہ ہو

''ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم ہوتا ہے'' یہ جملہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اس سے پہلے ہماری عدلیہ کی تاریخ میں ''نظریہ ضرورت'' کی ترکیب و اصطلاح نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے لیکن یہ ترکیب مقامی تھی اور ''بڑی دولت کے پیچھے جرم'' والی بات بین الاقوامی ہے کیونکہ اسے اطالوی ناول نگار ماریو پایوز نے ''دی گاڈ فادر'' میں دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور فلم ساز نے اس ناول پر فلم بنا کر دنیا کے سامنے سلور سکرین پر پیش کرکے امر کردیا۔
ماریو نے تو بڑی دولت کے پیچھے جرم کی بات کی تھی۔ تیسری دنیا بالخصوص پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں تو بڑی دولت کے پیچھے جرائم ہوتے ہیں۔ جن معاشروں میں جرائم کے ذریعے دولت بنائی جاتی ہے اور پھر اس کے ذریعے معاشرے میں رعب و دبدبہ قائم کیاجاتا وہاں قانون و اخلاقیات کی عمل داری کمزور پڑنے لگتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے ہر شخص کو اس بات پر لگا دیا ہے کہ دولت ہی سب کچھ ہے۔ لہٰذا زندگی کا مقصد وحید بھی حصول زر ہی ہے۔ اس نظام نے انسان کو جمہوریت کے ذریعے آزاد کرا کر اسے لبرل ازم کی راہ پر لگا دیا۔ اس آزادی میں کوئی کتنا کمائے اور کیسے کمائے اس پر کوئی قدغن نہیں۔ جوئے کا دائو لگ جائے یا لاٹری نکل آئے تو کل کا ایک عام آدمی راتوں رات لکھ پتی و کروڑ پتی بن جاتا ہے اور پھر وہ چل سوچل۔ حکومت و ریاست کی طرف سے اس پر صرف اتنی پابندی ہوتی ہے کہ ملک میں رائج انکم ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کی جائے۔
اسلام کی تعلیمات کی رو سے چونکہ اس دنیا میں انسان کا نصب العین صرف حصول دولت و تعیش نہیں ہے بلکہ وہ یہاں ایک بڑی ذمہ داری نبھانے کے لئے بھیجا گیا ہے جو بندگی ہے اور اللہ و رسولۖ کی اطاعت ہے اور اسی اطاعت کے نتیجے میں حصول جنت ہے۔ اس لئے دولت مقصد حیات نہیں بلکہ ذریعہ حیات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جہاں دولت کمانے کا حکم ہے تاکہ زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے وہاں یہ شرط لگائی گئی ہے کہ کمائی حلال ہونی چاہئے اور پھر حلال کمائی جائز کاموں اور مواقع میں استعمال کرنی چاہئے۔ گویا کمانے کے لئے بھی حدود اور خرچ کے لئے پابندیاں۔ یہی اسلامی ذریعہ حیات ہے۔ علامہ محمد اقبال نے اس کی بہت خوبصورت تعبیر پیش کی ہے۔
اگرچہ زر بھی ہے جہاں میں قاضی الحاجات
جو فقر سے ہے میسر تو نگری سے نہیں
کسب حلال و طیب کے ذریعے کوئی آدمی راتوں رات تو نا ممکن بلکہ برسوں میں بھی کروڑ پتی یا ارب پتی نہیں بن سکتا۔ حضرت عمر فاروق جب عمال و حکام کا تقرر فرماتے تو ان سے اثاثوں کی ڈیکلریشن لیتے۔ اگر عہدے کے حصول کے دوران یا بعد میں اثاثوں میں اضافہ ظاہر ہوتا تو اس کا مدلل جواز و جواب پیش کرنا پڑتا۔ وطن عزیز کی تاریخ میں سیاست دان ایک دوسرے پر کروڑوں اربوں کی کمیشن و کرپشن کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ بنکوں سے قرضے لے کر معاف کرواتے رہے ہیں۔ سوئس بنکوں میں اب پاکستان کے سرمایہ داروں کے دو سو ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ' انگلستان' دبئی' سنگا پور میں اربوں کے مکانات اور جائیدادوں کی کہانیاں سنائی جاتی رہی ہیں۔ لیکن ان سب کی مثال ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی ہے جیسے زرافہ' اونٹ کی گردن پر اعتراض کرے۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے بارے میں تو ''نورا کشتی'' کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اب تک صاف نظر والے روزانہ و سالانہ کی بنیاد پر بڑھتے اثاثوں کے بارے میں کسی نے پوچھا بہت کم ہے۔ نیب والوں نے تو پلی بارگین کی اصطلاح کے ذریعے گویا کرپٹ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہی کی ہے۔اسلام میں اور دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا تصور نہیں کیاجاسکتا ۔
یہ کریڈٹ بہر حال پاکستان کی ان سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو جاتا ہے جو پانامہ کیس کو عدالت میں لے گئے۔ اب یہ خوف آئندہ کے لئے بہت ساروں کو لاحق ہوگا لیکن مکرر عرض ہے کہ وطن عزیز میں جب تک قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کے لئے نفاذ شریعت نہیں ہوگا اس وقت تک ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ لیکن اگر دستیاب قوانین اور آئین پاکستان کے مطابق ہماری عدلیہ اور انتظامیہ( نیب و احتساب) وغیرہ سیاستدانوں' سرکاری ملازمین اور عوام کے منتخب نمائندوں کی طرز زندگی' معاشرت و معاش' ذرائع آمدن و خرچ پر نظر رکھے اوراس کے لئے آسان قانون سازی کے ذریعے لازمی قرار دیاجائے کہ سیاستدان ' منتخب نمائندے اور سرکاری ملازمین ( اعلیٰ افسران بالخصوص) اپنے اثاثے ہر سال و چھ مہینے بعد ڈیکلیئر کرنے کے پابند ہوں گے تو اس سے انشاء اللہ کافی حد تک حد بندی ہوسکے گی۔ ورنہ ہم زندہ قوم ہیںڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہیں گے اور مٹھائیاں ایک دوسرے کے منہ میں ٹھونستے رہیں گے۔ اللہ پاکستان کو ہر بلا سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

اداریہ