Daily Mashriq


سیاسی ریلو کٹے اور پھٹیچر سیاستدان

سیاسی ریلو کٹے اور پھٹیچر سیاستدان

میں نے بہت پہلے یہ بات لکھی تھی کہ قومی اسمبلی کے سپیکر نے میاں نواز شریف کے اشارے پر تحریک انصاف کے ممبران کے استعفے منظور نہ کرکے خود اپنی حکومت کے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال ایک بار پھر پانامہ کے فیصلے پر پہلے تمام جماعتوں کی جانب سے اسے تسلیم کرنے اور پھر فیصلے کے خلاف نت نئی تاویلوں کی مدد سے اس پر ''میں نہ مانوں'' کے تبصرے سامنے آرہے ہیں۔ اس پر ایک لطیفہ جو آج کل سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے۔ آپ بھی سن لیجئے کہ ایک سردار جی سڑک پار کرتے ہوئے ٹرک سے ٹکرا گئے' جب ہوش آیا تو لوگوں نے پوچھا' سردار جی آپ کو گاڑی نظر نہیں آئی تھی؟ سردار جی نے جواب دیا نظر تو آئی تھی پر اس کے اوپر بورڈ پر لکھا تھا تو لنگ جا سا ڈی خیر اے۔ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے بھی اپوزیشن والوں کو لطیفے والا بورڈ جھلمل جھلمل (Blinking) کرتا نظر آرہا تھا اور انہوں نے اپنی جیت سمجھ کر اس فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا مگر فیصلے نے جو جھٹکا تین دو کے تناسب سے دیا تو یہ لوگ سکتے میں آگئے اور پھر ہوش میں آنے کے بعد اپنی اپنی بولیاں بول کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگے۔ اس پر وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اپوزیشن انتشار چاہتی ہے' کامیاب نہیں ہوگی۔ اب حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے بیانات اور فیصلوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں جن کے دوران کہیں کہیں چٹکی لیتے ہوئے تبصرہ بھی کیا جاسکتا ہے وگرنہ تو یہ بیانات اپنے تئیں اس قدر مربوط ہیں جنہیں انگریزی زبان میں Self explanatory کہا جاسکتا ہے۔ ایک تو سندھ اسمبلی نے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے حق میں قرار داد منظور کرلی ہے جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایسی قرار داد منظور کرانے کا اعلان (تادم تحریر) سامنے آچکا ہے جبکہ آصف زر داری' بلاول زرداری اور عمران خان پہلے ہی اس قسم کے مطالبات کرچکے ہیں اور اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے جس کے بعد دونوں ایوانوں کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردئیے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے جمعہ کو اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے تحت جے آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں۔

بہر حال شیخ رشید اس فیصلے کے بعد جس سکتے میں نظر آرہے تھے اس سے ہوش میں آتے ہی وہ گرینڈ الائنس بنانے کے لئے سرگرم ہوگئے۔ یوں وہ بقول عمران خان سیاسی ریلو کٹے ثابت ہو رہے ہیں جس کی تعریف کرکٹ کی زبان میں یوں بنتی ہے کہ نالی سے بال تک وہ اٹھا کر لاتا ہے اور دونوں ٹیموں کے ساتھ شامل ہو کر کھیلتا ہے۔ اس سے پہلے موصوف نے دھرنے کے زمانے میں بھی عمران خان اور مولانا ڈاکٹر طاہر القادری کو اکٹھا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا اور اب و عمران خان اور آصف زرداری کو اکٹھا کرنے کے لئے تگ و دو کرنے کی فکر میں ہیں جبکہ اپنے ساتھ وہ سراج الحق کو شامل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ عمران خان اور لیڈران جماعت اسلامی آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات لگاتے آئے ہیں وہ کس منہ سے پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی الائنس میں شامل ہو کر نواز شریف کی کرپشن کو بے نقاب کریں گے۔ اس ضمن میں سب سے اہم تبصرہ تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا سامنے آیا ہے کہ زرداری کا ایمانداری پر لیکچر اور 63/62 پر سرٹیفیکیٹ بانٹنا قیامت کی نشانی ہے۔ حج کرپشن کی غضب کہانی والے لوگ وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ جے آئی ٹی پر سارے جج متفق ہیں۔ اسی طرح وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی نفی توہین عدالت ہے۔ یاد رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے گزشتہ روز ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ میاں صاحب آپ گھر نہیں بڑے گھر (جیل) جائیں گے۔ آپ روٹیاں توڑنے اور پائے کھانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ لانڈھی جیل کھانا بھجوانے کو تیار ہوں۔ جس طرح مشرف کو گھر بھیجا اسی طرح میاں صاحب کو بھی بھیجیں گے۔ اسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک وزیر اعظم کو چار تین کے فیصلے پر پھانسی' دوسرا دو تین پر بری' یہ کیسا انصاف ہے۔ ادھر سابق چیف جسٹس ظہیر انور جمالی نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے تو پہلے ہی یہ تجویز دی تھی اور میں نے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا مشورہ دیا تھا مگر اسے نہ مانا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایک تبصرہ یہ بھی سامنے آیاہے کہ کاش شیخ رشید تین بکروں کا صدقہ دیتے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ انہوں نے دو بکروں کا صدقہ دیا تو صرف دو ججوں نے اختلافی نوٹ لکھے۔راجہ ظفر الحق نے اپوزیشن کے ان تبصروں پر کہ وزیراعظم جے آئی ٹی کے گریڈ 20'21 یا 22 کے افسروں کے سامنے پیش ہوں گے تو ان کی حیثیت عزیر بلوچ اور صولت مرزا جیسی ہو جائے گی کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ وزیر اعظم خود پیش ہوں ان کے وکیل پیش ہوں گے جبکہ خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پٹیشنرز منہ کی کھائیں اور استعفیٰ وزیر اعظم دیں۔ البتہ وہ جو بلاول زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نعرے لگوائے کہ مک گیا تیرا شو گو نواز گو' تو اس پر یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ '' شو تو ابھی شروع ہواہے''۔ بقول شہزاد احمد مرحوم

لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے

بوئے گل پھر بھی پریشان ہے اسے کیا کہئے؟

متعلقہ خبریں