Daily Mashriq


دہشت گردوں کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت

دہشت گردوں کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت

افغان دارالحکومت کابل میں ووٹرز رجسٹریشن سنٹر پر خودکش حملے میں 58 افراد شہید اور دوسو سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب سینکڑوں مرد و زن رجسٹریشن سنٹر کے باہر ووٹ کا اندراج کروانے کے لئے قطاروں میں کھڑے تھے۔ اطلاعات کے مطابق جس رجسٹریشن سنٹر پر حملہ ہوا وہ ہزارہ قبیلے کی گنجان آبادی والے علاقے میں تھا۔ دہشت گرد تنظیم داعش نے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والی دہشت گرد تنظیم کے مفتیان نے چند روز قبل جمہوریت کو کفر قرار دیتے ہوئے افغان شہریوں سے ووٹر رجسٹریشن کے عمل سے دور رہنے کو کہا تھا۔ اتوار کے سانحہ کابل پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان عوام اپنے ملک میں اپنی پسند کا نظام قائم کرنے کا حق رکھتے ہیں طاقت اور دہشت گردی کے ذریعے افغان عوام کے حق نظام سازی کے عمل کو چھینا نہیں جا سکتا۔ اتوار کے روز ہی پاکستانی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مقیم ہزارہ قبیلے کے دو افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے اس سانحہ کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی۔ خطے کے دو ملکوں افغانستان اور پاکستان میں داعش کی موجودگی اور اس کی کارروائیوں سے ہونے والے جانی نقصان پر افغانستان میں موجود امریکہ و اتحادیوں سے یہ ضرور دریافت کیا جانا چاہئے کہ ان کا عالمی شہرت کا حامل انٹیلی جنس نیٹ ورک کیا ہوا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ زخموں سے چور افغانستان کو آئے روز ایک نئے صدمے سے دو چار ہونا پڑرہا ہے۔ رواں سال کے پہلے تین ماہ اور 22دنوں کے دوران افغانستان میں دہشت گردی کے 13سنگین ترین واقعات ہوئے ان میں سے 6 واقعات میں داعش نے ہزارہ قبیلے کو نشانہ بنا یا جبکہ دوسرے 7 واقعات میں سے 4 میں داعش اور تین میں طالبان نے افغان سیکورٹی فورسز اس کے اتحادیوں اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا۔ تقریباً 4ماہ کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی 13بڑی وارداتوں میں 400سے زیادہ مرد و زن اور بچے موت کا رزق بنے۔ سماجی طور پر منقسم افغانستان پچھلے ساڑھے تین عشروں سے المیوں سے دو چار ہے۔ اس کی سر زمین پر امریکہ سوویت یونین کی جنگ لڑی گئی۔ جنیوا معاہدہ کے بعد سوویت یونین افغانستان سے واپس گیا تو امریکہ کی سر پرستی میں لڑنے والی تنظیموں کی کوکھ سے جنم لینے والے وار لارڈز نے خانہ جنگی کا دروازہ کھول دیا۔ 9/11 کے بعد ایک نئی جنگ افغانوں پر مسلط ہوئی۔ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے اس جنگ میں داعش خراسان ریجن نے ایک نئے فریق کی حیثیت سے قدم رکھا۔ داعش کو افغانستان میں لانے اور قدم جمانے میں مددد دینے والوں میں موجودہ افغان نظام کا سرپرست اعلیٰ امریکہ پیش پیش ہے۔ امریکہ پر یہ الزام کسی اور نے نہیں بلکہ خود افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے عائد کیا۔ چند ماہ قبل انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ عراق اور شام سے پسپا ہونے والے داعش کے جنگجوئوں کو امریکی سہولت کاری سے افغانستان پہنچایاگیا۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ سابق افغان صدر کے سنگین الزامات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک عالمی تحقیقاتی کمیشن قائم کرتی اور تحقیقات کرواتی کہ امریکہ افغانستان میں ڈبل گیم میں کیوں مصروف ہے۔ بد قسمتی سے کسی نے بھی ان الزامات کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا۔ ساڑھے تین عشروں سے خاک و خون میں لتھڑتے افغانوں کے درد کی دوا کون کرے گا۔ کیا خود افغان حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنے اندرونی مخالفین اور داعش جس عالمی دہشت گرد تنظیم سے نبرد آزما ہوسکے؟ اس اہم سوال پر افغان قیادت کو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے ساتھ اس امر کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا کہ داعش کی کارروائیوں کا مقصد افغانستان میں خانہ جنگی کا دروازہ کھولنا ہے۔اتوار کے المناک سانحہ نے افغان عوام پر جو قیامت ڈھائی پاکستان کے عوام اسے محسوس بھی کرتے ہیں اور غم کے ان لمحات میں اپنے افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہماری دانست میں وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ دونوں پڑوسی ممالک افغانستان اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کسی اور کی طرف دیکھنے کی بجائے باہم مل کر حکمت عملی وضع کریں۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ پر امن افغانستان افغان عوام کا خواب ہے اور پاکستان کی ضرورت۔ پچھلی ساڑھے تین دہائیوں میں دہشت گردوں اور ان کے سر پرستوں نے دونوں ممالک کے عوام کو خون میں نہلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ ایک مربوط سیاسی‘ فکری اور عسکری تعاون سے ہی دونوں ملک امن و سلامتی اور انسانیت کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ اعتماد سازی اور تعاون میں اضافے کے لئے کھلے دل سے کوششیں کی جائیں۔ داعش اور اس جیسی سفاک تنظیمیں انسانیت‘ امن اور اسلام کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ عوام کے حق نظام سازی اور افغان سماجی وحدت حملہ آور دہشت گرد کس کے پالے اور لائے ہوئے ہیں اس پر دو آراء نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں پڑوسی و برادر اسلامی ممالک اپنی سماجی وحدتوں ‘ امن اور مستقبل کے لئے تعاون کے نئے دور کا آغاز کریں۔ پاکستانی دفتر خارجہ ‘ دیگر حکام اور سیاسی قیادت کا یہ موقف بجا طور پر درست ہے کہ افغان عوام پر کسی دوسرے ملک یا دہشت گرد تنظیم کو اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق نہیں۔ افغان عوام اپنے ملک میں نظام سازی کا مکمل حق رکھتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ افغانستان اور پاکستان عالمی سازشوں اور دہشت گردوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں گے تاکہ افغان سر زمین پر دیر پا امن و استحکام قائم ہو اور پڑوسی ملکوں میں کئی دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاکر قومی تعمیر نو میں حصہ لے سکیں۔

متعلقہ خبریں