Daily Mashriq


سیاسی و مذہبی قائدین سے درد مندانہ اپیل

سیاسی و مذہبی قائدین سے درد مندانہ اپیل

جوں جوں انتخابات کاموسم قریب آتا جا رہا ہے سیاسی حریفوں میں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی میں شدت آتی جا رہی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی پانچ سالہ کارکردگی کا نا قدانہ تجزیہ کرنے اور مستقبل کے حوالے سے اپنا پروگرام عوام کے سامنے رکھنے کا ہر سیاسی جماعت اور اتحاد کو حق ہے لیکن ایسے الزامات سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جن سے معاشرتی تقسیم کی خلیج گہری ہو۔ سیاسی و مذہبی قائدین کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی وحدت کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حکومتوں کی کارکردگی اور نظام میں اگر کج ہیں تو متبادل تجاویز عوام کے سامنے رکھیں اور گمبھیر تر ہوتے مسائل کا حل بتائیں۔ پاکستانی سیاست کی سات عشروں کی تاریخ کا ایک دن بھی بہر طور ایسا نہیں جسے خوشگوار یا مثالی قرار دیا جاسکے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہر جماعت دوسری جماعت کی سیاسی و اخلاقی ساکھ اور حب الوطنی پر حرف گیری کرتی ہے۔ یہ سنجیدہ طرز عمل ہر گز نہیں سیاست میں اختلافات ہوتے ہیں مگر ان اختلافات کو لے کر ایسے الزام عائد کرنا جن سے گلی محلوں میں بد مزگی پیدا ہونے کا خطرہ ہو کسی بھی طور پر درست نہیں۔ ہمارے سیاسی و مذہبی قائدین کو سمجھنا ہوگا کہ سیاست الزامات اور فتویٰ بازی کا کھیل نہیں بلکہ سیدھے سبھائو جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کی جدوجہد ہے۔ 2013ء میں عوام نے جن جماعتوں کو وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کا حق دیا وہ آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کو لے کر ہی میدان میں اتریں گی فیصلہ بہر صورت رائے دہندگان ہی کریں گے کہ ان کی منتخب حکومتوں نے اپنے وعدے پورے کئے یا نہیں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی نا مناسب ہے تو عوام مستقبل میں انہیں حق حکومت سازی نہیں دیں گے۔ لیکن سیاسی مخالفت میں انتخابی سیاست کو کفر و اسلام کا معرکہ بنا کر پیش کرنا یا حب الوطنی کے اپنے تصور کی بنیاد پر کسی دوسری جماعت کو بیرونی ایجنٹ قرار دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سیاسی قائدین معاشرتی وحدت کے منافی کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جس سے آبادی کے مختلف طبقات میں دوریاں پیدا ہوں اور سازشی عناصر ان دوریوں کو نفرتوں میں تبدیل کرسکیں۔

گیس کی قیمتوں میں اضافے کی نا مناسب تجویز

سوئی سدرن گیس نے اوگرا سے درخواست کی ہے کہ اگلے مالی سال کے لئے گیس کی قیمتوں میں 109روپے فی یونٹ اضافہ کیا جائے۔ ہماری دانست میں گیس کی فی یونٹ قیمتوں میں 109روپے اضافے کی تجویز نہ صرف ظالمانہ ہے بلکہ اس سے یہ امر بھی دو چند ہوتا ہے کہ مختلف محکموں میں بیٹھے پالیسی سازوں کو عوام کی حالت زار‘ مہنگائی کی موجودہ شرح اور دوسرے مسائل کا ہر گز علم نہیں۔ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کی بدولت آبادی کے نچلے طبقات کی حالت زار قابل رحم ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میگا پراجیکٹس پر اندھا دھند بیرونی قرضے لٹانے والی حکومتوں اور افسر شاہی نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا جس سے غربت و بے روز گاری اور مہنگائی کے طوفانوں کو روکا جاسکتا۔ حالت یہ ہے کہ وفاقی حکومت پٹرول کی فی لیٹر قیمت پر32روپے سے زیادہ ٹیکس لے رہی ہے۔ قطر سے گیس خریدنے کے معاہدے کے وقت عوام کو یہ لالی پاپ دیاگیا تھا کہ اس سے کمرشل ضروریات پوری کی جائیں گی تاکہ قدرتی گیس کے گھریلو صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ پانچ سال کے دوران خاموشی کے ساتھ گیس کے نرخوں میں دو بار اضافہ کردیاگیا اب فی یونٹ 109 روپے اضافے کی تجویز دے دی گئی۔ حکومتی نظام چلانے والوں کی دنیا بھر میں اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں‘ پسماندہ طبقات کو زندگی کی دوڑ میں شریک کیا جائے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں ہر وہ اقدام واجب سمجھا جاتا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف تو پورے نہیں ہوتے مگر عوام پر بوجھ بڑھنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ اندریں حالات ہم یہ درخواست کریں گے کہ اوگرا سوئی سدرن گیس کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست صارفین کے مفاد میں مسترد کردے اور اس امر کو بھی یقینی بنائے کہ کسی نئے ٹیکس کے ذریعے بھی صارفین کا استحصال نہ ہونے پائے۔

متعلقہ خبریں