Daily Mashriq


آخر کب تک یونہی چلے گا

آخر کب تک یونہی چلے گا

مسلم لیگ (ن) کے سیاست دانوں نے ایک نئے رواج کو جنم دیا ہے ۔ ایک انتہائی افسوسناک طریقہ کار اپنایا گیا ہے جس میں مسلسل عدالت کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی ہے ، بات صرف ایک آدھ وقوعے تک محدود رہتی تو شاید اس معاملے کو صرف نظر کیا جا سکتا تھا لیکن یہ سب تو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک معمول بن چکا ہے ۔ اور پھر چند لوگ ہیں جو شاید محض بد تمیزی کرنے کے لئے دربار شریفان میں تنخواہ دار ہیں ۔ ان لوگوں کا اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کہ وہ مخالفین کے حوالے سے مسلسل ایک طوفان بدتمیزی بر پا کیے رکھیں ۔ ان مخالفین میں کوئی بھی ہوسکتا ہے ۔ سیاسی مخالفین بھی ہو سکتے ہیں اور وہ بھی جو کسی صورت ، انکی اور انکی خواہشات کی راہ میں رکاوٹ ہوں ۔ یہاں انکی سے مراد محض شریف برادران ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے وہ تمام سیاست دان ہیں جو کسی نہ کسی طور اقتدار کے اس وقت کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا اگر احتساب کیا جائے یا محض ان کی بد عنوانی کی جانب انگلی اٹھائی جائے انکے شاہانہ مزاج کو بہت گراں گزرتی ہے اور پھر وہ انہی لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزادی اظہار رائے تو ایک بہت مثبت بات ہے لیکن یہ طریقہ کار انتہائی نامناسب ہے اور کیا آزادی اظہار رائے کی کوئی حد متعین نہیں ہونی چاہیئے ۔ ایک جملہ اکثر ابراہام لنکن سے وابستہ کیا جاتا ہے حالانکہ اس جملے کے حوالے سے یہ بات طے ہے کہ یہ ایک امریکی جج کا جملہ تھا اورقدرے طوالت کے ساتھ بولا گیا تھا ۔ یہ جملہ ہے کہ ’’آپ کے ہاتھ ہلانے کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے ۔ کسی بھی شخصی آزادی کا تعین کرنے کے اعتبار سے یہ جملہ بہتر ین ہے ۔ مگر یہ جملہ پاکستان میں کسی کے بھی زیر غور نہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈران عدالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے نہ تو عدالت کے احترام کا خیال کرتے ہیں ، نہ ہی لوگوں کی حدود کا اور نہ ہی اس بات کا ذکر آخر احتساب کیوں نہیں ہونا چاہیئے اور بھلا اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے کہ چونکہ دوسرے لوگ بھی بد عنوانی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں تو احتساب کا کسی جانب سے آغاز ہی نہیں ہونا چاہیئے ۔ میرے نزدیک تو ایک نہایت احسن طریقے سے معاملات کا آغاز کیا گیا ہے ۔ یہ پیغام واضح ہے کہ احتساب کا آغاز ہو چکا اور یہ اس سے بھی واضح ترین کہ کوئی بھی خواہ کسی عہدے ، کسی بھی طاقت کا مالک ہو ، احتساب سے مبرا نہیں ہو سکتا ۔ اب تک پاکستان میں جو ہو چکا وہ ایک جانب لیکن اب سے پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں صرف چھوٹا اور کمزور آدمی ہی احتساب کی گرفت میںنہ آئے گا بلکہ ہر کسی کے لیے پیمانے ایک سے کر دیئے گئے ہیں ۔

مسلم لیگ (ن) کے سیاسی بھونپو جیسے بھی شور مچاتے رہیں اور لوگوں کی سماعتوں کو کس قدر اپنی ان باتوں سے زخمی کرتے رہیں ان سے یہ سوال کیا جانا ضروری ہے کہ کیا عوامی نمائندوں کو شفاف نہیں ہونا چاہیئے ۔ شور اس لیے بھی مچا ہوا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں سیاسی نمائندگان کی اکثریت ہی غیر شفاف طور طریقے آزماتی ہے ، اپناتی ہے ۔ ان کے لہجوں کی نخوت اور ہوس کی لپک کسی طور کسی ضابطہ اخلاق کو نہیں مانتی ۔ وہ نہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کو کسی طور بھی لوٹنے کھوٹنے کی ان کو ، کوئی ممانعت ہونی چاہیئے نہ ہی وہ اس بات سے متفق ہیں کہ احتساب کی کوئی خندق ان کے اور ان جیسوں کے راستے میں کھود دینی چاہیئے ۔ وہ اپنے کام میں انتہائی انہماک سے مصروف رہنا چاہتے ہیں اور اگر انہیں کسی طور بھی روکا جائے تو اس بات کا انتہائی بُرا مناتے ہیں ۔ انکے لیے نہ تو اس ملک سے محبت کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی اس کے غریب عوام کی کسمپرسی اور بڑھتی ہوئی غربت کے دُکھ کی کوئی وقعت ۔

یہ سوال جو اکثر اس ملک کے سوچنے سمجھنے والوں ، اس ملک سے پیار کرنے والوں کے دل و دماغ میں اٹھتے ہیں کہ کیا بدعنوانی کی اجازت دے دی جانی چاہیئے اورجیسے ماضی میں اس سب کا کوئی سدباب نہیں کیا گیا ، آج بھی آئین کی دفعہ 62اور 63پر پورا نہیں اترنا چاہیئے ، ان سوالوں کے حوالے سے ہمارے سیاسی نمائندوں کی وہی ایک رائے ہے کہ اگر پہلے کبھی نہیں ہوا تو آج کیوں ہورہا ہے ۔ اورکوئی ان کے کنددماغوں میں یہ بات نہیں ڈال سکتا کہ اس سب کا آغاز کبھی تو ہونا تھا ، کسی سے تو ہونا تھا ۔ تو پھر میاں نواز شریف سے کیوں نہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے شخص کاکیا Moturity levelہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اسے ایسی صورتحال میں کیا رویہ اپنانا چاہیئے ۔ وہ مسلسل ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کی سیاسی اور طبعی عمر کو قطعی زیب نہیں دیتیں ۔ کیا افسوسناک صورتحال ہے کہ انہیں ان کی بدعنوانی کی سزا میں تاحیات نااہل کیا جاتا ہے اور وہ ہر جلسے جلوس میں پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ ہر بار لوگوں سے ووٹ کی عز ت کی بات کرتے ہیں ۔شاید یہ سب واقعی مکافات عمل ہے تبھی تو خورشید شاہ میاں نواز شریف کو یاد کروا رہے ہیں کہ انکی تاحیات نااہلی کا فیصلہ ضیاء الحق کے اس وقت کیبنائے ہوئے قانون پر ہوا جب خود میاں نواز شریف وزیراعلیٰ تھے ۔ جناب سراج الحق کہتے ہیں کہ اگر میاں نواز شریف کی سیاست ان کی ذات کے لیے ہے تو واقعی بہت نقصان ہے اور اگر ذات کے لیے نہیں تو نقصان کیسا اور میرے جیسے لوگ ہنس پڑتے ہیں ، ہمارے ملک کے سیاست دانوں کی اکثریت ذات کی سیاست ہی تو کرتی ہے ، اصول تو انہوں نے توڑ نے مروڑنے کے لیے رکھے ہیں ۔ لیکن یہ بات سراج الحق جیسے اصول پسند سیاست دان کو سمجھ نہیں آسکتی جنہیں نہ احتساب کا خوف ہے اور نہ ہی اقتدار کی خواہش ۔ ہاں اب یہ طے ہوجانا ضروری ہے کہ عوام کی سمع خراشی کب تک کی جائے گی اور ان لوگوں کی زباں بندی صحیح طور پر کب تک نہ ہوگی ۔ آخر کب تک یونہی چلے گا ۔

متعلقہ خبریں