Daily Mashriq


چیف جسٹس کے دورے

چیف جسٹس کے دورے

صاف پانی فراہمی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہر طرح کی غلاظت پینے کے پانی میں جا رہی ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے چیف سیکریٹری اعظم خان اور سیکریٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے چیف سیکریٹری سے پوچھا کہ صوبے میں سیوریج کا پانی کہاں جا رہا ہے؟ چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ سیوریج کا پانی نہروں اور دریاؤں میں جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے اعظم خان سے استفسار کیا کہ کیا سیوریج کا پانی نہروں اور دریاؤں میں جانا چاہیے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ سیوریج کا پانی نہروں اور دریاؤں میں نہیں جانا چاہیے۔میاں ثاقب نثار نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ وہ صوبے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو شام کو طلب کر لیں کیونکہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے یہاں حکومت کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ ہم نے تو یہ سنا تھا کہ صوبے میں تحریک انصاف کی گورننس بہت اچھی ہے۔چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 1100 مقامات پر سیوریج کا پانی نہروں اور دریاؤں میں جا رہا ہے جس کے لیے ہم ڈمپنگ گراؤنڈز بنا رہے ہیں۔عدالت نے چیف سیکریٹری سے پوچھا کہ آخر یہ سارے اقدامات ابھی کیوں ہو رہے ہیں؟ اب بھی آپ نہ کریں تو ہم خود کروا دیں گے۔خیال رہے کہ چیف جسٹس نے خیبرپختونخوا میں پینے کے صاف پانی سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا۔اپنے دو روزہ دو رہ پختونخوا کے موقع پر چیف جسٹس نے آئی جی پولیس کی تعریف کی اور کہا کہ اگر منصب کی رکاوٹ نہ ہوتی تو وہ آئی جی کو سیلوٹ کرتے۔یاد رہے کہ آئی جی نے قبل ازیں چیف جسٹس کو رپورٹ پیش کی تھی کہ سترہ سو سے زائد وی آئی پیز سے سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔چیف جسٹس کے اس دورے کے بعد سند ھ ،کے پی کے اور پنجاب کے بعض سیاسی عمائدین نے ان کے اس اقدام پر تنقید کی جبکہ بعض سیاسی مبصرین نے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔اے این پی کے زاہد خان نے اپنے تبصرے میں کہا کہ چیف جسٹس نے کے پی کے حکومت کی ٹھیک ٹھاک کلاس لی ہے لیکن تحریک انصاف کے سربراہ یوں ظاہر کر رہے ہیں کہ جیسے صوبائی حکومت کی توصیف کی گئی ہے۔ایک مبصر کا کہنا ہے کہ تین صوبوں کے وزٹ کے بعد آخر میں پختونخوا کا دورہ کرنا صوبائی حکومت کو پیشگی تیاری کا وقت دینے کے مترادف تھا۔ پرویز خٹک حکومت کو پتہ تھا کہ اب ان کی باری ہے اس لئے انہوں نے پیشگی طور پر ایسے انتظامات کر لئے تھے جن کی وجہ سے چیف جسٹس اصل صورت حال نہ جان سکے۔فاضل چیف جسٹس یونیورسٹی روڈ نہیں گئے ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ بی آر ٹی نے پشاور کی کیا حالت کر رکھی ہے۔ایک ایسے منظر نامے میں جبکہ ساڑھے اٹھارہ لاکھ کیسز کا بوجھ عدلیہ کے سر ہے اورسائلین خوار ہو رہے ہیں چیف جسٹس کس کس بے قاعدگی کا نوٹس لیں گے۔پشاور ، لاہور،کراچی اور کوئٹہ تو پنجاب،کے پی، سندھ اور بلوچستان کا اصل چہرہ نہیں ہیں۔ دیکھنے میں تو چارسدہ، مردان، صوابی، ساہیوال،رحیم یار خان، خانیوال، لورالائی، ژوب،ڈیرہ بگٹی، لاڑکانہ، کشمور،اور جیکب آباد جا کر دیکھیں کہ ان چھوٹے شہروں میں پاکستانیوں کی کیا درگت بن رہی ہے۔کس طرح مجبور اور بے کس لوگ جوہڑوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔کے پی کے صرف پشاور ہی کا نام نہیں،اس صوبے کے آخری کونے میں ڈیرہ اسماعیل خان نام کا بھی ایک شہر ہے جس کے مضافات میں واقع کچھ علاقوں کے لوگ جوہڑوں کا گندہ پانی پینے کی وجہ سے ’’ناڑو‘‘ جیسی اذیت ناک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس بیماری کے شکار لوگوں کی جلد میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے جس شہرپشاور کا دورہ کیا وہ تو ایک تاریخی شہر ہے۔اس صوبے کا ایک شہر بنوں بھی ہے اورٹانک بھی جو آج کے ترقی یافتہ زمانے میں بھی قدیم ادوار کے شہر لگتے ہیں۔اور کیا ہی خوب بات ہو اگر چیف جسٹس کبھی کچھ وقت نکال کر وزیرستان،کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی کا بھی چکر لگا لیں تو انہیں پتہ چلے کہ ان علاقہ ہائے غیر میں رہنے والوں نے پچھلے ڈیڑھ عشرے میں کیا کیا ستم سہے ہیں۔امریکہ کی جس جنگ میں ہمیں پرویز مشرف نے دھکیلا اس کی کتنی خوفناک قیمت ان قبائلیوں نے ادا کی ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔یہ ہیں وہ اصل پاکستانی جن تک چیف جسٹس کو سب سے پہلے پہنچنا چاہئے تھا۔سب سے زیادہ صاف پانی انہیں ملنا چاہئے کہ جن کا خون دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ بہا۔صحت کی بہترین سہولتوں پر پہلا حق ان قبائلیوں کا ہے جن کے ان گنت پیارے اس لئے جان سیگزر گئے کہ ناکوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکے تھے۔ہم لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ والوں کی ان قبائلیوں کے سامنے کیا حیثیت ہے کہ جنہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں معمولی قیمت ادا کی۔تباہ ہوئے تو یہ قبائلی،برباد ہوئے تو یہ جنہوں نے کبھی ایک کیمپ میں ہجرت کی تو کبھی دوسرے میں۔جن کے گھر بار موجود تھے،کھیت اور کھلیان موجود تھے لیکن ہم نے انہیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں دھکیل دیا اور خود ائیر کنڈیشنڈ بیڈ روموں میں میٹھی نیند کے مزے لیتے رہے۔قوم ان کے ساتھ انصاف نہ کر سکی۔حکومت ان کے درد کا مداوا نہ کر سکی۔کوئی نواز شریف،کوئی عمران خان ان کو گلے نہ لگا سکا تو جناب چیف جسٹس آپ ہی آگے بڑھ کے ان کے سر پر دست شفقت رکھ دیں۔

متعلقہ خبریں