Daily Mashriq


چیف صاحب کا چیلنج بجا مگر۔۔۔

چیف صاحب کا چیلنج بجا مگر۔۔۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار ملک کو درپیش مسائل عدلیہ،عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بہت کھل کر اظہار خیال کررہے ہیں۔وہ آئین اور قانون کے ساتھ وابستگی کی یقین دہانیاں کرارہے ہیں اس کے لئے قسم کھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ وہ جوڈیشل مارشل لاء کی اصطلاح کو لغو کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔حالانکہ اس اصطلاح میں ان کا ایک قطعی نیا اورمضبوط کردار مضمر اور پوشیدہ ہے ۔وہ اپنی ذات کی نفی کرنے کے لئے ’’میری ذات پر لعنت میں کچھ بھی نہیں ‘‘جیسے سخت الفاظ کا سہارا بھی لیتے ہیں اور یقین بھی دلاتے ہیں کہ اس منصب سے ہٹتے ہی کوئی نام ان کا بھی نہیں سنے گا ۔وہ حالات کے منظر اور یادوں کی لوح سے وقت اور تاریخ کی بھیڑ میں بہت سے ’’اہم ترین ‘ ‘افراد کی طرح گم ہوجائیںگے۔بہت سے ناگزیروں کی طرح ایک اور فلسفہ ناگزیریت کی نفی ہو کر رہ جائیں گے ۔چیف جسٹس کو بار بار اپنے کردار کی وضاحت کے لئے دلائل اور قسموںکا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ اپنی اسی مہم میں انہوں نے ایک بار پھرچیلنج کے انداز میں مارشل لاء کی افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی میں ہمت ہے جومارشل لاء لگائے ۔جس دن ملک پرشب خون مارا گیا تو عدالت عظمیٰ کے سترہ جج عہدے پر نہیں رہیں گے ۔چیف جسٹس کاچیلنج اپنی جگہ اور جمہوریت وآئین کے ساتھ ان کا اظہارِ مسلسل بجا مگر پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ مارشل لاء لگانے کا معاملہ ہمت سے زیادہ حالات سے تعلق رکھتا ہے ۔ملک میں پہلا جزوی مارشل لاء1953میں پہلے لاہور اور پھر پورے پنجاب میں اس وقت لگا تھا جب ملک میں ختم نبوتؐ کی تحریک زوروں پر تھی اور تصادم کے واقعات عام ہونے لگے تھے ۔جنرل اعظم کو پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر حالات کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔گویا کہ ملک مارشل لاء کے تلخ ذائقے سے آشنا ہی خرابی حالات کے باعث ہوا۔ ۔ملک میں ختم نبوتؐ تحریک کے بینر تلے قادیانیوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا تھا جس کے بعد لاہور میں مارشل لاء نافذ کیا گیا ۔اس کے بعد 1957 میں ایوب خان کے مارشل لاء کے پیچھے وجہ یہ نہیں تھا کہ ایوب خان ٹارزن قسم کے جرنیل تھے اور وہ ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بننے کی خواہش کا شکار تھے ۔دلوں کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر تاریخ میں ایسی کسی اعلانیہ خواہش کے اظہار کے آثار نہیں ملتے سوائے اس کے کہ اعظم خان کے جزوی مارشل لا ء نے مسائل کے اس نئے انداز کو متعارف کرایا تھا اور یہ نسخہ اس لحاظ سے تیر بہدف بھی ثابت ہو چکا تھا کہ اس سے پنجاب میں کسی بڑے تصادم کا خطرہ ٹل گیا تھا ۔1977میںجنرل ضیاء الحق بھی اپنے مارشل لاء کاجواز حالات کی خرابی اور سیاسی ڈیڈلاک کوبتاتے تھے ۔جنرل پرویزمشرف کی فوجی حکومت پہلوانوں کے دائو پیچ کا نتیجہ تھی ۔میاں نوازشریف نے وزیر اعظم کے طور پر جنرل پرویز مشرف کو خلاء میں معلق کر دیا تو جنرل مشرف کے ساتھیوں نے میاں نوازشریف کو زمین سے اُٹھالیا اور اس دائو پیچ میں طاقت کی جیت ہوئی ۔اس کے بعد جنرل مشرف معاشی حالات کی خرابی کو بھی چارج شیٹ میں شامل کرتے رہے۔ نوے کی دہائی میں جب ملک میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی صورت میں دوجماعتی نظام جڑ پکڑ چکا تھامارشل لاء کو بھولی بسری کہانی سمجھا جا رہاتھا ۔ پیپلزپارٹی تو ایک زمانہ شناس جماعت کے طور پر حقیقت اور حالات کا شعور رکھتی تھی مگر مسلم لیگ ن کا اعتماد اکثر خوش فہمی کے پیمانوں سے چھلکتارہتا تھا او ر اس کی قیادت یہ جملہ دہرایا کرتی تھی کہ یہ سترکی دہائی نہیں اب حالات بدل چکے ہیں ۔جنرل مشرف کی بغاوت کے چند دن پہلے تک حکمران اسی خوش فہمی کا اظہار کرتے رہے یہاں تک کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ’’کچھ نہ ہونے ‘‘ کی ضمانت بھی حاصل کر لی گئی ۔بیرونی دنیا کا مارشل لاء کو قبول نہ کرنے کا تاثر جنرل مشرف کے ایک فوٹو اور ایک انٹرویو کی مار نکلا ۔وہ مشہور زمانہ تصویر جس میں وہ دوکتے اُٹھائے ہوئے تھے اور وہ انٹرویو جس میں انہوں نے ترکی کے مصطفی کمال پاشا کو اپنا آئیڈیل قراردیا تھا ۔ان دوباتوں سے مغرب جمہوریت کے سارے سبق بھول گیا تھا۔عوام کی طرف سے مارشل لاء کو قبول نہ کرنے کی تھیوری تو اسی وقت پٹ گئی تھی جب ’’قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘ کے نعروں میں قدم بڑھانے والے نوازشریف گردش دوراں کا شکار ہوتے ہی تنہا ہو گئے تھے۔ اس تاریخ کو دیکھیں توتمام مارشل لاء ہمت سے زیادہ حالات سے جنم لیتے رہے ۔فوجی حکمرانوں نے ’’عزیز ہم وطنو السلام علیکم ‘‘ کہنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ملک کے خراب حالات کو ہی مارشل لاء کا جواز بتا کر پیش کیا۔ ایک پیشہ ور سپاہی جو مسلسل ترقی کرتا ہوا جرنیل بنتا ہے شاید کبھی ملک کی براہ راست حکمرانی کا خواب بھی نہیں دیکھتا ہوگا ۔ملک کے مخدوش حالات ،سیاسی آویزش ،انارکی اور معاشی حالات فوج کو بطور ادارہ ملک کے نظام کو کنٹرول کرنے کی طرف دھکیلتے ہیں۔پھر جب حالات کا دبائو بڑھ جاتا ہے تو مارشل لاء کے اقتدار کی بساط لپٹنے لگتی ہے ۔آج حالات اس طرح بدل چکے ہیں کہ پاکستان مغربی ملکوں کی آنکھ کا تارا نہیں رہا ۔پاکستان بھی مغربی ملکوں اور این جی اوز کا دبائو جھٹک رہا ہے ۔اس سے ملک میں مغربی جمہوریت کے لئے سپیس بڑی حد تک کم ہو گئی ہے ۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ مارشل لاء کو نہ عوام روک سکتے ہیں نہ بیرونی دبائو اور نہ ہی عدلیہ ۔مارشل لاء کو سیاست دان اور فوج ہی روک سکتے ہیں ۔اس کی شرط یہ ہے کہ سب بدل جائیں اور بدل جانے پر آمادہ اور تیار ہوجائیں۔

متعلقہ خبریں