Daily Mashriq


عافیہ صدیقی غیرت تھا جس کا نام

عافیہ صدیقی غیرت تھا جس کا نام

جس وقت راجہ داہر کے ڈاکوؤں نے ہندوستان میں ایک مسلمان قافلے کو لوٹ کر اس میں شامل عورتوں کو قید میں رکھا تو حجاج نے ایک مسلمان عورت کی فریاد پر راجہ داہر کی سرکوبی اور ان کی قید سے مسلمان عورتوں کو آزاد کرا نے کیلئے اٹھارہ سالہ محمد بن قاسم کو برصغیر پاک وہند بھیجا۔ محمد بن قاسم نے نہ صرف راجہ داہر اور اس کے غنڈوں کو شکست دی، ہندؤں کی قید سے مسلمان عورتوں اور بچوں کو آزاد کیا، بلکہ شکست دینے کے بعد ہندوستان پر اسلام کا پرچم لہرا کر پورے علاقے کو اسلام کے نور سے منور کر کے بتوں کے شہر کو باب الاسلام کی شکل میں ایک نئی جغرافیائی حیثیت دی۔ آج کل مسلمان حاکم خواہ ان کا تعلق عرب سے ہو یا عجم سے، عیاشی اور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، نتیجتاً 2 ارب امت مسلمہ چند ہزار حکمرانوں کی وجہ سے دنیا میں یہود وہنود اور ان کیحواریوں کے جبر اور ظلم کا شکار ہے۔ بے تحاشا قدرتی وسائل کے باوجود مسلم امہ میں کوئی ایسا راہنما اور قائد نہیں جو مسلمانوں کو بحران سے نکال سکے یا یہود وہنودکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ دنیاکی مضبوط عسکری اور جوہری طا قت کے حامل ملک کے آمر حکمران نے تو2003 خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو غیروں کے لگائے بے بنیاد الزامات پر ان کے حوالے کیا اور جب چند ڈالر جیب میں ڈالے تو ان کے سوئے اور مردہ ضمیر کو سکون اور تمانیت محسوس ہو ئی۔ ان کو اپنی عزت اور غیرت سے زیادہ کاغذکے چند ٹکڑے اور لوہے کے چند سکے عزیز ہیں۔ دولت کی چمک دمک اور چند ٹکوں کے عوض حکمران وقت اپنی رعایا کیخلاف کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ پانچ سال تک عافیہ صدیقی کے بدقسمت ضعیف العمر والدین اپنی بیٹی کی راہ تکتے رہے، والدین کی بینائی جاتی رہی مگر بدقسمت والدین اور بہن بھائیوں کو کوئی پتہ نہیں چلا کہ ان کے جگر کا ٹکڑا کدھر اور کس حالت میں ہے۔ خوش قسمتی سے ایک غیرمسلم صحافی سال 2008 میں بگرا م میں عافیہ صدیقی کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ بات صرف عافیہ صدیقی تک نہیں بلکہ ماضی میں ایمل کانسی کو بھی ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کے حوالے کیا۔

نواز شریف کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان اپنی کتاب ایوان اقتدار کے مشاہدات میں لکھتے ہیں کہ نواز شریف نے ایمل کانسی کو امریکی وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ کے کہنے پر امریکہ کے حوالے کیا اور اس کے عوض ڈالر لئے۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میری رہائی کیلئے پاکستان کی تمام ایجنسیاں ایک پیج پر تھیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں اگر میری رہائی کی کسی نے مخالفت کی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ 29 مئی 2002 کو لیبیا نے امریکہ کے بوئنگ جہاز گرانے کے الزام میں 2.7 ارب ڈالر، معاوضیکے طور پر ادا کئے۔ اس بوئنگ جہاز پی اے 103میں 270 افراد ہلاک ہوئے تھے اور امریکہ نے فی کس 10 ملین ڈالر معاوضہ لیا اور اس واقعے میں تباہ شدہ بوئنگ جہاز کی جو قیمت تھی وہ علیحدہ تھی۔ نہ تو یہبوئنگ جہاز لیبیا نے گرایا تھا اور نہ لیبیا میں اتنی سکت تھی کہ جہاز کو گرا سکے۔ بدمعاشی بدمعاشی ہوتی ہے امریکہ نے لیبیا سے اربوں ڈالر لے لئے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو لاپتہ افراد کی کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بتایا کہ ماضی قریب کے مطلق العنان پرویز مشرف کے دور میں 4ہزار پاکستانیوں کو امریکہ اور دیگر ممالک کو خفیہ طریقے سے حوالہ کیا گیا اور اس کے عوض ڈالر لئے گئے۔ کہتے ہیں کہ قانون میں کوئی ایسی گنجائش نہیں کہ وطن عزیز کے باسیوں کو کسی کے حوالے کیا جائے انہوں نے کہا پارلیمنٹ نے بھی اس کے بارے میں نہیں پوچھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ غیر ملکی ایجنسیاں لوگوں کو پکڑنے اور گرفتار کر نے کیلئے ملک میں سرگرم ہیں۔ یہ لوگوں کو پاکستان میں پکڑ کر بیرون ملک لے جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ دہشتگرد گروہوں کیساتھ بیرون ملک بھی فرار ہوگئے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ دنیا کی واحد سپرپاور اور دفاع پر سالانہ 7کھرب خرچ کرنے والی قوم ایک کمزور، صنف نازک سے خوفزدہ کیوں ہے؟ دنیا کی قوموں کو بگاڑنے اور جوڑنے والے ایک عورت سے پریشان کیوں ہے؟۔ دراصل بات امریکہ اور یورپ کے ایک عورت سے ڈرنے کی نہیں۔ وہ کبھی مسلمانوں پر سکارف اور پردے کی پابندی لگاکر اور، آقائے نامدار اور ختم المرسلینﷺ کی شان میں گستاخی کرکے اور کبھی ہمارے اور انبیائے کرام کے مضحکہ خیز خاکے بنا کر مسلمانوں کی غیرت کو للکارتے رہتے ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں اب بے حسی کونسے درجے میں ہیں۔ اگر واقعی امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک جرم کو برا سمجھتے ہیں تو پھر امریکہ میں سالانہ 2کروڑ جرائم ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے اور اپنی اصلاح خود کیوں نہیں کرتے۔ اگر واقعی امریکہ اور دوسرے ممالک کسی کیخلاف ہاتھ اُٹھانے یا کسی پر حملے کو برا سمجھتے ہیں تو پھر وہ اپنے ماضی قریب اور بعید کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ سال 1954، 1955، 1960، 1964، 1950، 1991 اور 2001 میں امریکہ نے کو ریا، گوئٹے کال، انڈونیشیا، کانگو، کیوبا، ویت نام، لبنان، عراق اور افغانستان پر بلاجواز چڑھائی کی۔

متعلقہ خبریں