Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

افلا طون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کازمانہ ایک ہے۔ آپس میں ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی اور تعارف بھی نہیں تھا ، مگر موسیٰ ؑ جانتے تھے کہ افلاطون بھی ہے اور افلاطون بھی جانتا تھا کہ موسیٰ ؑ اسرائیل کے پیغمبر ہیں ۔ ایک دن اتفاق سے ایک جگہ جمع ہوئے ۔ سرراہ ملاقات ہوئی ، افلاطون چہرہ دیکھ کر سمجھ گیا کہ یہ کوئی عظیم شخصیت ہے ۔ چہرے پر نبوت کا جلال و جمال اور انوار دل میں ایمان کی چمک ، اس سے وہ سمجھ گیا کہ یہ کوئی بڑا آدمی ہے ۔ یہ تو نہیں جانتا تھا کہ یہ وہی پیغمبر ہیں ، مگر بہر حال یہ سمجھا کہ کوئی بڑا حکیم ہے ۔ بڑی نیاز مندی سے ملاقات کی ۔ گفتگو سے واضح ہو ا کہ یہ کوئی عالی مقام ذات ہے ۔ کہنے لگا ، برسوں سے میرے ذہن میں ایک سوال ہے ، جو میرے اندر کھٹک پیدا کرتا ہے ، بڑے بڑے فلسفیوں کے آگے میں نے پیش کیا ، کوئی جواب نہ دے سکا ، آپ کا چہرہ بتلا رہا ہے کہ آ پ ضرور جواب دیں گے ، علم و فضل آپ کے اندر بھرا ہوا ہے ۔ حضرت موسیٰ ؑنے فرمایا : کیا سوا ل ہے ؟ افلاطون نے بڑا انوکھا سوال کیا ، اس نے کہا سوال یہ ہے کہ اگر آسمان کو ہم کمان فرض کرلیں جس سے تیر چلائے جاتے ہیں اور یہ جو مصیبتیں برس رہی ہیں ، انہیں تیر فرض کرلیں اور حق تعالیٰ کو تیر چلانے والا فرض کریں تو شکل ایسی بنی کہ آسمان کی کمان سے حق تعالیٰ مخلوق کے اوپر مصیبتوں کے تیر برسار ہے ہیں تو بچائو کی صورت کیا ہے ؟ یہ سوا ل ہے ۔

واقعی عقل عاجز ہے ، جواب نہیں دے سکتی ، اس واسطے کہ جب آسمان کمان ہے تو آسمان کے نیچے سے آپ کہا ں چلے جائیں گے ؟

زمین کے اوپر آسمان سرپوش کی طرح سے ڈھکا ہوا ہے تو یہ ممکن ہے کہ آپ زمین چھوڑ دیں ، مگر آسمان کی زد سے تو نہیں جا سکتے ۔ عقل جب غور کرے گی تو کہے گی کہ مصیبت سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔

افلاطون یہی سمجھ رہا تھا کہ یہ بھی جواب نہیں دے سکیں گے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : بچنے کی بڑی آسان صورت ہے ۔ بڑے اطمینان سے پل بھر میں آدمی بچ جائے گا ۔ افلاطون حیران ہوا کہ سارے حکماء تو عاجز ہوگئے اور ان کے نزدیک ایک بڑا آسان جواب ہے ۔ اس نے کہا کیا جواب ہے ؟

حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا : جب تیر چلانے والا تیر چلائے ، تو اس کے سامنے کے بجائے اس کے پہلو میں آکھڑے ہو ، وہ تیر لگے گا ہی نہیں ، فرمایا جب حق تعالیٰ تیر چلائیں تو اس کے پہلو میں آجائو ، ا سکاپہلو اس کا ذکر اور یاد خداوندی ہے ۔ جب دل میں اس کی یاد بھر جائے گی ، حق تعالیٰ کو اعتماد پیدا ہوگا ، ہزاروں مصیبتیں برسیں گی ، قلب میں کوئی تکلیف پیدا نہیں ہوگی ، اگر مصیبت آئی بھی تو آدمی کہے گا :’’ہر چہ ازدوست می رسد نکو ہست ‘‘

پروردگار نے بھیجی ہے ۔ یقینا اس میں مصلحت ہے ۔ میں اس کے اوپر راضی ہو ں ۔

(وعظ ثمرات العلم جلد 4، بحوالہ حکیم الاسلام کے پسندیدہ واقعات ، ص81,80)

متعلقہ خبریں