Daily Mashriq


تعلیم سب کیلئے

تعلیم سب کیلئے

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صرف وہی اقوام دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھ سکی ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا۔ کسی بھی فلاحی مملکت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو بہترین تعلیمی سہولت فراہم کرے۔ بدقسمتی سے آج ہمارا ملک تعلیم کے شعبے میں دنیا کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ ملک میں نظام تعلیم انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے اور اس وقت بھی وطن عزیز میں صدیوں پرانا تعلیمی ڈھانچہ نافذ ہے جس کے ذریعے ہم سرکاری درسگاہوں میں صرف کلرک ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی ڈھانچے کی اسی خرابی کے نتیجے میں آج ہم سائنس اور تحقیق کے شعبے میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔پاکستان میں آج بھی طبقاتی نظام تعلیم موجود ہے۔ ایک طرف او لیول اور کیمبرج سسٹم کے اسکولز ہیں جن سے صرف دولت مند طبقے کے بچے ہی فیض یاب ہوسکتے ہیں تو دوسری جانب سرکاری تعلیمی ادارے ہیں جو غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی پہنچ میں تو ہیں لیکن ان سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی کی وجہ سے بہت کم لوگ ہی اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں حصول تعلیم کیلئے بھیجتے ہیں۔ امیر اور غریب کے تعلیمی معیار کے اسی فرق کے نتیجے میں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا طالبعلم آگے نہیں آپاتا اور پورے ملک پر یہی امیر طبقہ راج کرتا رہتا ہے جسے نہ تو غریب عوام کے مسائل کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان کی آبادی کی ایک تہائی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو تو ایسے میں والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کیلئے تعلیمی اداروں کی بھاری فیس کا بوجھ کیسے برداشت کرسکتے ہیں، جس کے باعث غریب طبقے کے طلباء اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتے اور معاش کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ ملک میں ایسی قانون سازی کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو اپنی من مانی اور بھاری فیس وصول کرنے سے روکا جاسکے۔کوئی بھی قوم مستحکم انسانی وسیلے کی بنیاد اور تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی کیونکہ فنی تعلیم اور انسانی وسیلے کامیاب ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی سطح پر جدید علم اور مہارت کا حصول اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے جبکہ اقوام کی بقاء اور ترقی کیلئے تیزی سے بدلتی ہوئی اور مسابقتی دنیا میں اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ترقی کیلئے درست علم اور صحیح لوگ بنیادی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور یہ مسابقتی معیشت میں ترقی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں نے علم کی اہمیت کی بنیاد پر ہی عالمی برادری میں مقام حاصل کیا ہے۔ اس وقت ہمارے یہاں تعلیم کے شعبہ اور بالخصوص سائنس وٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ مستقبل کے چیلنجز سے مثبت طریقے اور ذمہ داری کیساتھ نبردآزما ہونے کیلئے پاکستان کو تیار رہنا ہو گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام مرد وخواتین سخت محنت کریں تاکہ تمام شعبوں بالخصوص سائنس وٹیکنالوجی میں بین الاقوامی ترقی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو ہمیشہ سے بری طرح انداز کیا جاتا رہا ہے۔ مختلف ادوار میں تعلیمی پالیسیز تو تیار کی گئیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا جبکہ مختلف حکومتیں اس اہم شعبے کی حالت بہتر بنانے کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کرتی چلی آئی ہیں اور اس وقت بھی ہمیں مختلف شعبوں میں قومی سطح پر جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ بھی تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ تعلیم کا معاشرے کی اخلاقی، سماجی اور اقتصادی ترقی میں انتہائی اہم کردار ہے جبکہ انسانی وسائل اور صلاحیت بھی اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہمارے ملک میں عمومی تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جاتی رہی ہے لیکن موجودہ وقت میں اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے صنعتی شعبہ میں جس تعلیم کی ضرورت ہے کیا ہم وہ تعلیم اپنے طلباء کو فراہم کر رہے ہیں؟ اس سلسلے میں مارکیٹ کی ضرورت اور ہمارے انسانی وسیلے کی ترقی کی پالیسیوں اور منصوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ضرورت اس امرکی بھی ہے کہ ہم پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں تاکہ طبقاتی فرق کو ختم کیا جاسکے اور تمام جگہ طلباء کو ایک ہی طرح کا نصاب پڑھائیں تاکہ منتشر قوم کو یکجا کیا جاسکے۔ تمام سرکاری اسکولز اور کالجز کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی بہتر طور پر تعلیم حاصل کریں اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرسکیں۔ ہمارے صاحب اختیار طبقہ کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر بلکہ ہنگامی بنیادوں پر ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے اور تعلیمی ماہرین کی مشاورت سے ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کرے جس کے ذریعے سے پاکستان بھی سائنس اور تحقیق کے میدان میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی برابری کرسکے۔

متعلقہ خبریں