Daily Mashriq

پولیو مہم ، افواہوں کی تردیدکے بعد کرنے کے کام

پولیو مہم ، افواہوں کی تردیدکے بعد کرنے کے کام

اگرچہ پولیو قطرے پینے سے حالت غیر ہونے والے بچوں کی تعداد وہ نہیں جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور ہسپتال لائے گئے جن ہزاروں بچوں کی بات کی جارہی ہے اس میں افواہوں اور غلط فہمیوں کا بڑا عمل دخل تھا، لیکن ان تمام حقائق میں اس حقیقت پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی ایسی کوتاہی برتی گئی جس سے افواہوں کو پھلنے پھولنے کا موقع مل گیا۔ صوبائی وزیر صحت سمیت پولیو مہم کے میڈیا منیجروں نے جس طرح اس سارے معاملے کو سرے سے ہی جھوٹ اور افواہ طرازی ثابت کرنے کی کامیاب سعی کی اس سے وقتی طور پر تو معاملہ سنگین ہونے سے بچ گیا، جس شدومد سے یہ مسئلہ اٹھا اورجس تیزی سے اسے دبانے کی کوشش کی گئی اس کا سب سے منفی اور بد ترین منفی پہلو یہ ہے کہ شک کا جو بیج بویا گیا اور وہ والدین جو شعوروآگہی رکھتے ہیں اپنے بچوں کے حوالے سے ان کی حساسیت اور پولیو قطرے پلوانے سے ہچکچاہٹ بلکہ خوف کوئی پوشیدہ امر نہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے دن وزیرصحت اور پولیو مہم کے عہدیداروں کو صرف اور صرف ان ڈاکٹروں کو جنہوں نے پولیو ویکسین سے متاثرہ بچوں کا علاج کیا ان کو موقع دینا چاہیئے تھا، طبی ماہرین اور ہسپتالوں کے منتظمین کی بات سننی چاہیئے تھا۔ حکومت کیلئے یہی موزوں تھا کہ ان افواہوں پر کان نہ دھرنے کے مشورے کے ساتھ سارے معاملے کی تحقیقات اور طبی طور پر اس کا جائزہ لے کر عوام کو صورتحال سے متعلق حقائق سے آگاہی دینے کا وعدہ کرنے کی ضرورت تھی۔ وزیرصحت اور پولیو مہم کے عہدیداروں نے برعکس رویہ اختیار کیا جس کی مثال اس مکالمے کی سی ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور کسی کے پاس اپنی سچائی کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا ۔ اس امر سے اتفاق نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ پولیو کے قطرے مکمل طور پر محفوظ اور حفط ماتقدم کے طور پر پلائے جاتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جن بچوں کو پولیو سے بچائو کے انجکشن پیدائش کے ابتدائی مہینوں میںلگائے جاتے ہیں ان کو پولیو سے مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے، بار بار پولیو کے قطرے پلانے کا واحد مقصد پولیو وائرس کا خاتمہ ہے، پولیو کے قطرے پہلی بار پلانے سے اس طرح کی صورتحال ہوتی تو بھی اس حوالے سے خوف کی توجیہہ ہوتی، ہر خاص وعام کو جب اس کا علم ہے کہ پولیو کے قطرے محفوظ ہیں،اتنی ٹھوس حقیقت اور سچائی کے باوجود افواہوں کی طرز پر جواب دینے سے لوگوں کو نہ تو ہسپتال آنے سے روکا جا سکا اور نہ ہی کسی نے کان دھرا، کیا یہ بہتر نہ تھا کہ غلط فہمی کے پھیلائو کی روک تھام میں ناکامی کے بعد قدرے انتظار کیا جاتا اور صحیح صورتحال کو سامنے لایا جا سکتا۔قطع نظر گزشتہ روز سے بڑے پیمانے پر افواہ سازی کے گزشتہ روز کے حالات وواقعات سے پولیو قطروں کے حوالے سے انسانی نفسیات جس خوف کا شکار ہوئی ہے اور اس سے پولیو قطرے پلوانے سے انکاری والدین کی تعداد میں جس بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے وہ خوفناک ہے، یہ واقعہ اسامہ بن لادن کی جاسوسی کرنے کیلئے جعلی پولیو مہم کے افشاء سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جس کے پیش نظر بجائے اس کے کہ پولیو مہم جاری رکھ کر خواہ مخواہ خوف کی فضا کا شکار والدین کی ناراضگی مول لی جاتی مہم کو مؤ خر کرنے کا اعلان کردیا جاتا اور چند روز بعد پورے حقائق کو سامنے لاتے ہوئے شعور وآگہی کی مہم چلائی جاتی، غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاتا اور احتیاط کے ساتھ رہ جانے والے بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے جاتے۔ اس فضاء میں پولیو مہم میں والدین کا عدم تعاون فطری امر ہے۔ جس کے باعث بہت سارے بچوں کا پولیو قطرے پینے سے رہ جانے کا قوی خدشہ ہے۔ پولیو مہم میں قطرے پلائے بغیر فارم بھرنے کا جو انکشاف سامنے آیا تھا وہ بھی اپنی جگہ مسئلہ تھا پولیو ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی اور بروقت معاوضہ کی عدم ادائیگی کی جو شکایات ہیں وہ بھی قابل توجہ معاملات ہیں ۔ پولیو ورکرز کی سیکورٹی اور پولیس والوں کا جان پر کھیل کر پولیو ورکرز کی حفاظت بھی اہم ہے لیکن اس وقت ان سارے مسائل سے بڑھ کر اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو پورے صوبے میں پھیل چکی ہے، اسے صرف مخالفین کی سازش اور بے جا مخالفت قرار دے کر دور نہیں کیا جا سکتا، جس بے احتیاطی یا جس وجہ سے بھی پولیوکے قطرے پلانے سے بچے متاثر ہوئے، اس حقیقت کو لوگوں کے سامنے لانا اور ان وجوہات کا تدارک یقینی بنانے کا یقین دلائے بغیر پولیو مہم چلانا مناسب نہیں، صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے واقعات کی تردید تو کی جاسکتی ہے، جھٹلایا جا سکتا ہے لیکن عوام کے اطمینان کیلئے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہی ہوگا۔توقع کی جانی چاہیئے کہ آئندہ اس قسم کے واقعات کے تدارک کیلئے مؤثر حکمت عملی وضع کی جائے گی اور اس طرح کی صورتحال سامنے آنے پر جلد بازی اور عجلت کی بجائے حکمت اور تدبر کے ساتھ صورتحال سے نمٹا جائے گا۔

متعلقہ خبریں