Daily Mashriq


مشترکہ سرحدی فورس

مشترکہ سرحدی فورس

پاک ایران تعلقات میں کچھ عرصے سے جو صورتحال چل رہی ہے اور دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں ان پر قابو پانے کیلئے بالآخرطے پایا ہے کہ دونوں ملک مشترکہ سرحدی فورس قائم کر یں جو سریع الحرکت اقدامات کے ذریعے دہشتگردی کی کارروائیوں کو روکنے اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں اہم کردار ادا کرے، اس بات کا فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ایران کے صدر حسن روحانی کے درمیان گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والی ملاقات اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا، جہاں وزیراعظم عمران خان اپنے دو روزہ دورہ ایران کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ضمن میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ون آن ون ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب میں اس بات کا عندیہ دیا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ اپنی سر زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی دہشتگرد تنظیم کی پاکستان کے خلاف کارروائی قابل قبول نہیں ۔ دہشتگردی کا مسئلہ دونوں ملکوں کیلئے چیلنج ہے جبکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے دونوں ملک مشترکہ سریع الحرکت فورس بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں جس طرح بلوچستان کے علاقے میں نامعلوم دہشت گردوں نے پاکستانی باشندوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا تھا اس کے بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ کارروائی ان گروپوں کی کارستانی ہے جن کے تربیتی کیمپ ایران کے سرحدی علاقوں میں قائم ہیں اور جن کی نشاندہی کی جا چکی ہے ، اسی طرح ایران کے سیکورٹی فورسز کے خلاف ماضی میں ہونے والی کارروائیوں پر ایران نے پاکستان سے احتجاج کیا تھا،جبکہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور اب جبکہ دونوں ملک ایک مشترکہ فورس کے قیام پر متفق ہوچکے ہیں جو نہایت سرعت کے ساتھ دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرکے صورتحال کو کنٹرول کرے گی تو اس سے نہ صرف دونوں ملکوں کے مابین غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گا بلکہ جو قوتیں دونوں برادر ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہیں ان کے مذموم عزائم بھی ناکام ہوں گے۔

رمضان کا چاند، تفرقہ کی نذرنہ ہو جائے

کراچی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس کے سابق ڈائریکٹر اور معروف سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر شاہد قریشی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں موصوف نے رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے پیش گوئی کی ہے کہ ہلال رمضان کے ملک بھر میں5مئی(29شعبان)کو نظر آنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں، بلکہ ان کے دعوے کے مطابق خطے کے بعض دیگر ممالک بشمول بھارت، ایران، افغانستان میں بھی یہی صورتحال ہوگی البتہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں چاند نظر آسکتا ہے ،یوں یکم رمضان6مئی کو ہونے کا یہ دعویٰ قبل از وقت اور رؤیت ہلال رمضان کے حوالے سے ابھی سے شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش ہے، بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہر سال دو تین مواقع پر رؤیت ہلال کو تفرقہ کا نشانہ بنانے کی روایت بہت پرانی ہے، اس میں اکثر ماہرین فلکیات بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں تاہم ان کی پیشگوئیاں چاند نظر آنے سے عموماً دوچار روز پہلے آجاتی ہیں جبکہ ڈاکٹر قریشی نے تقریباً13روز پہلے پیش گوئی کر کے فضا پر تشکیک کے سائے پھیلادیئے ہیں اور نہ صرف محکمہ موسمیات بلکہ مرکزی اور صوبائی رؤیت ہلال کمیٹیوں کو بھی تذبذب میں ڈال دیا ہے، بہتر ہوتا کہ موصوف اپنی علمیت کا مظاہرہ رؤیت ہلال سے دو تین روز پہلے مکمل ثبوتوں کے ساتھ کرتے ،اب خدشہ اس بات کا ہے کہ ان کی محولہ پیش گوئی سے ایک بار پھر دو رمضان اور دو عیدوں کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ایسی صورت میں رؤیت ہلال کمیٹیوں کے وجود کا جواز بھی ختم ہو کر رہ گیا ہے، ویسے بھی ان کمیٹیوں نے ماضی میں کوئی قابل تحسین کردار کب ادا کیا ہے بلکہ انہی کی وجہ سے تفرقہ بازی میںاضافہ دیکھنے میں آتا رہا ہے تاہم اب کی بار تو مسئلہ ہی صاف ہوگیا ہے ، اس لئے سوچنا پڑے گا کہ اس قسم کی پیش گوئیوں کے بعد خصوصاً مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے وجود کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ اگر نہیں تو حکومت انہیں تحلیل کر کے ان پر سالانہ کروڑوں کے اخراجات کی بچت کرے، یا پھر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اس قسم کی پیشگوئیوں کے حوالے سے اپنا مؤقف قوم کے سامنے پیش کرے۔

متعلقہ خبریں