Daily Mashriq

دھمکیوں کے سائے میں پولیو مہم؟

دھمکیوں کے سائے میں پولیو مہم؟

پولیو قطرے پلانے کی مہم کے حوالے سے گزشتہ روز جو صورتحال پیدا ہوئی اس پر صرف حکومت کے بیانیہ کو تسلیم کرنے پر اب والدین کسی صورت تیار نہیں ہوں گے کیونکہ جس طرح اس حوالے سے اطلاعات کو روکنے کی کوششیں کی گئیں وہ اپنی جگہ مگر سوشل میڈیا پر متعلقہ ہسپتالوں سے ملنے والی خبروں کو مصدقہ اطلاعات قرار دے کر آگے بڑھانے والوں کی بھی کمی نہیں تھی، اور بالآخر’’میرے بچے میری مرضی‘‘ کا ٹرینڈ فیس بک پر تیزی سے وائرل ہوتا رہا ۔یہاں تک کہ بعض ٹی وی چینلز پر کہیں خبریں اور کہیں ٹکرز بھی صورتحال کو واضح کر کے والدین کی تشویش میں اضافہ کا باعث بنے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ جن لوگوں نے ماشوخیل کے بی ایچ یو پر توڑ پھوڑ اور جلانے کی کارروائیاں کیں وہ انتہائی قابل مذمت ہیں مگر جس طرح بعد میں سرکاری سطح پر بیانات جاری ہوئے اور صوبائی وزیر صحت نے پریس کانفرنس منعقد کر کے خود پولیو قطرے پینے کا مظاہرہ کیا اس کو صورتحال سنھبالنے کی ایک کوشش قرار دیا جاسکتا ہے مگر معاملہ صرف ماشوخیل کا نہیں ، صوبے کے دیگر اضلاع سے ملنے والی اسی نوعیت کی خبریں بھی صورتحال کی سنگینی میں کردار ادا کرتی رہیں، چارسدہ، باجوڑ وغیرہ سے بھی پولیو قطرے پینے سے بچوں کی حالت غیر ہو جانے کی اطلاعات منگل کے اخبارات میں چھپ چکی ہیں ،تو کیا جس طرح ماشو خیل کے حوالے سے بچوں کی حالت غیرہو جانے کو پولیو قطرے پلانے کی بجائے جس افراتفری سے جوڑا جارہا ہے ، ہر جگہ یہی صورتحال تھی؟ ایک اخبار کے دعوے کے مطابق کے ٹی ایچ میں2ہزار کے قریب بچے لائے گئے (اگرچہ تڑکے کے طور پر یہ دعویٰ بھی ساتھ ہے کہ کوئی بچہ پولیو ویکسین سے متاثر نہیںتھا)توپھر اتنی بڑی تعداد میں بچے کس چیز سے متاثر ہوئے تھے؟ اس ساری ہنگامہ آرائی میں افواہ ساز فیکٹریاںبھی چل رہی تھیں۔ خداجانے ان اطلاعات میں کہاں تک صداقت ہے کیونکہ ایسے معاملات میں ایسی بے پرکی اڑانے والوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ اور اصولی طور پر بھی جب تک کسی واقعے کی تصدیق نہ ہو اسے سچ ماننے سے احتراز ہی کرنا چاہیئے۔ کیونکہ اس قسم کی ہوائیاں اڑانے والوں کی کبھی کوئی کمی نہیں ہوتی اور بقول شاعر

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی

یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

اگرچہ گزشتہ روز کے واقعے کا گورنر اور وزیراعلیٰ نے نوٹس لیکر صورتحال کو قابو کرنے اور اصل حقائق معلوم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں تاہم کچھ اہم سوال ضرور اٹھ رہے ہیں اور لوگوں کو یہ خدشات ہیں(جن کے درست یا غلط ہونے پر ماہرین ہی روشنی ڈال سکتے ہیں) کہ پولیو قطرے صرف ہمارے ہاں ہی کیوں پلائے جاتے ہیں اور اس مہم کے پیچھے یہودی لابی کیوں اتنی فعال ہے؟دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت میں یہ مہم بند کی جا چکی ہے اور وہاں پولیو قطرے بنا بنا کر پاکستان بھیجے جاتے ہیں، تو جب یہ قطرے اتنے ہی لازمی ہیں تو بھارت میں کیوں بچوں کو نہیں پلائے جاتے؟اس حوالے سے(صحیح یا غلط) یہ تصور عام ہے کہ ان قطروں کا مقصد آنے والی نسلوں کو بانجھ پن کا شکار کرنا ہے تاکہ مسلمانوں کی نسل کم یا ختم کی جاسکے۔ (نعوذ باللہ) گویا یہ وہ خدشات ہیں جو کسی نہ کسی طورعام لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیئے گئے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی وضاحت کر کے انہیں ختم کیا جائے۔ تاہم بعض باتیں واقعی قابل غور ہیں یعنی کئی دفعہ مہینے سے بھی کم وقفے کے دوران(بعض حالات میں ہر ہفتے) پولیو قطرے پلانے کی مہم چلا کر عوام کو زچ کردیا جاتا ہے۔ اور اب سے کچھ عرصہ پہلے صرف پانچ سال تک بچوں کو پولیو قطرے پلائے جاتے تھے مگراب اچانک یہ مدت دس سال تک بڑھادی گئی ہے جس کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا،پھر اس سلسلے میں زور زبردستی اور حکومتی دبائو سے لوگوں کو اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے پر مجبور کیا جاتا ہے حالانکہ جس طرح عوام کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں تھانے لیجانے یا ان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی تڑیاں دی جاتی ہیں اس حوالے سے کوئی قانونی جواز نہیں ہے ، کہ آخر کس قانون سے والدین کے خلاف تادیبی کارروائی ممکن ہے ۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر متعلقہ عملے کو عوام کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا جائے نہ کہ انہیں دھمکیاں دیکر زور زبردستی بچوں کو پولیوقطرے پلانے پر مجبور کیا جائے اور یہ جو دس سال تک کے بچوں کو قطرے پلانے کا بیانیہ اختیار کیا گیا ہے اس کو واپس لیا جائے کیونکہ اللہ کے فضل وکرم سے اب صورتحال خاصی حوصلہ افزا ہو چکی ہے اور کئی شہر کلیئر ہو چکے ہیں، جہاں تک پشاور کے بعض علاقوں میں نکاسی آب کے نالوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے انکشافات کر کے مہم جاری رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اس کیلئے بہتر طریقہ یہ ہے کہ محولہ نالوں میں ضروری ادویات چھڑکنے پر زیادہ توجہ دی جائے۔ اور خواہ مخواہ عوام میں تشویش کی لہر دوڑانے کی کوششوں سے افراتفری پیدا نہ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ جو لوگ بچوں کورضاکارانہ طور پر پولیو قطرے پلانے پر آمادہ نہ ہوں انہیں بلاوجہ(دھمکیاں دے کر) مجبور کرنے کی بجائے ویکسین کے فوائد سے آگاہ کر کے رضامند کیاجائے۔ کیونکہ زور زبردستی کرنے سے عوام کے اندر منفی جذبات پیدا ہو نے کا احتمال ہے جس سے گریز بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں